کراچی کا اورنج لائن منصوبہ، وفاق اور سندھ حکومت مدمقابل کیوں؟

شیئر کریں:

اسلام آباد، راول پنڈی ، لاہور اور ملتان کی طرح ملک کے سب سے بڑے صنعتی شہر کراچی میں بھی شہریوں کو سستی اور جدید سفری سہولیات کی فراہمی کے لئے بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبہ بنایا گیا ہے۔وفاقی حکومت نے گرین لائن اور سندھ حکومت نےاورنج لائن بنا رہی ہے۔ تفصیلات کچھ اس طرح ہیں کہ وفاقی اور سندھ حکومت نے کراچی میں بی آر ٹی یعنی بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبہ 2014 میں شروع کیا ۔ اس منصوبے کے تحت شہر کی پانچ شاہروں پر بس وے بنا کر جدید بسیں چلانا ہیں ۔ 2016 میں گرین لائن اور اورنج لائن کی تعمیر کا کام شروع ہوا جو تاحال مکمل نہیں ہو سکا ہے ۔

منصوبے میں حائل مشکلات

اورنگی ٹاؤن سے میٹرک بورڈ آفس تک تقریبا چار کلو میٹر طویل اورنج لائن ٹریک،، بی آر ٹی بس منصوبے کا سب سے چھوٹا روٹ ہے ۔ 2016 میں سندھ حکومت نے ایک ارب چالیس کروڑ کی لاگت سے ۔ اورنگی ٹاؤن سے میٹرک بورڈ آفس تک خصوصی ٹریک ، چار بس اسٹیشن ، بنارس کے مقام پر بس ڈپو کا قیام اور اورنگی ٹاؤن پر بالائی گزر گاہ کی تعمیر کا کام شروع تو کیا جو ساڑھے چار سال کا وقت گزرنے کے باوجود مکمل نہیں کیا جاسکا۔

وفاقی اور سندھ حکومت کے درمیان ہونے والی کھینچا تانی میں ایک جانب اس منصوبے کی لاگت دو ارب سے تجاوز کر گئی تو دوسری جانب ٹیکس بھرنے والے شہریوں کی تکلیف میں بھی کئی گنا اضافہ ہو گیا۔

سندھ حکومت نے اورنج لائن اور گرین لائن کو بیک وقت فعال کرنے کے غرض سے 2020 میں وفاقی ادارے سندھ انفرااسٹریکچر ڈیویلپمنٹ کمپنی کی مدد لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیر ٹرانسپورٹ سندھ اویس شاہ کا کہنا ہے کہ جنوری 2021 میں سندھ حکومت نے اورنج لائن کی 20 بسوں کی خریداری کے لئے 50 کروڑ کی رقم وفاقی ادارے کو منتقل کردی تھی۔

بی آر ٹی اورنج لائن کا منصوبہ مقررہ مدت یعنی 2017 میں مکمل ہونا تھا لیکن چار سال کی تاخیر کے باوجود یہ منصوبہ وفاق اور سندھ حکومت کی سیاسی چپقلش کا شکار بنا ہوا ہے ۔ وزیر اعلی سندھ اب اس ادھورے منصوبے کا افتتاح کر کے وفاق سے احتجاج کرنا چاہتے ہیں۔
کراچی کے شہریوں کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کا یہ احتجاج شہریوں کے لیے بلکہ اس میں سیاسی چال بازیاں پوشیدہ ہیں۔
وفاق بھی کراچی والوں کے لیے باتوں کے سوا کچھ کرنے تیار نہیں اور وزیر اعلی سندھ بھی عملی کاموں کے بجائے باتوں کی حد تک ہی محدود ہیں۔


شیئر کریں: