کراچی میں یوم علی کا جلوس صبح 7 بجے برآمد ہوگا

شیئر کریں:

اکیس رمضان المبارک یوم شہادت حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے منسوب ہے۔
اس روز سب ہی اہل ایمان شیر خدا کی اپنے اپنے انداز سے یاد مناتے ہیں۔
حضرت علی پر اٹھارہ رمضان کو مسجد کوفہ میں سجدہ کے وقت حملہ کیا گیا۔
ابن ملجم ملعون نے زہر آلود تلوار حضرت کی گردن پر چلائی۔
تین روز شدید زخمی رہے اور پھر اکیس رمضان المبارک کو خالق حقیقی سے جا ملے۔
اسی قربانی کی یاد میں جگہ جگہ مجالس اور جلوس برآمد ہوتے ہیں۔

اس مرتبہ کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر کا نظام بدلہ ہوا ہے۔
تمام اجتماعات اور اجتماعی عبادتوں پر پابندی لگی ہوئی ہے لیکن مولائے کائناب کی یاد میں
کل جلوس نکالے جارہے ہیں اس موقع پر انتہائی احتیاط اور سماجی فاصلے کو یقینی بنانا ہو گا۔
وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ اور علماء کرام کی کراچی میں ملاقات ہوئی۔
حکومت نے یوم علی کے جلوس کی مشروط اجازت دی اور جلوس میں انتظامیہ کے 313 افراد شرکت کریں گے۔
اصول و قوائد کو نافد کرنے کے لیے 150 اسکاؤٹس بھی جلوس میں شریک ہوں گے۔
جلوس صبح 7 بجے نشتر پارک سے برآمد ہوگا اور دن 11 بجے تک امام بارگاہ حسینہ ایرانیاں کھارادر تک پہنچنا ہوگا۔
جلوس میں شرکت کے لئے خصوصی پاس جاری کئے جائیں گے۔
نازک صورت حال کی وجہ سے سوگواروں پر بھی فرض ہے کہ وہ ضابطہ اخلاق کی پاسداری کریں۔
کورونا وائرس کا پھیلاؤ سماجی فاصلے کو یقینی بنا کے ہی روکا جا سکتا ہے۔


شیئر کریں: