کراچی میں کورونا زدہ دوغلی سیاست

شیئر کریں:

تحریر ایس کے زیدی

کراچی میں کورونا وائرس نے ایک بار پھر تیزی سے پھیلنا شروع کردیا ہے۔

بڑھتے ہوئے کیسوں کی وجہ سے حکومت سندھ کو واپس پیچھے کی جانب جانا پڑ رہا ہے
جس میں تقریبا تین ماہ شہر کا پیہہ جام رکھنا پڑا تھا۔

حال ہی میں چھ ماہ کا عرصہ گزر کر بچے ابھی اسکول کی طرف لوٹے ہیں اور ایسے میں
کورونا پھر سے لوٹ آیا ہے۔

شہر کے مختلف علاقوں میں کورونا کے کیسز میں نمایاں اضافے کو دیکھتے ہوئے حکومت نے
مائکرو اسمارٹ لاک ڈائون لگانا شروع کردیا ہے۔

بلکہ کئی ایسے علاقے ہیں جہاں اسمارٹ لاک ڈائون کا نفاذ کر بھی دیا گیا ہے۔
ایس او پیز کی خلاف ورزیوں پر مختلف ریستوارنتس کو سیل کیا جارہاہے۔
شادی ہالز کے خلاف بھی کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔
ضلع جنوبی کے چار کے قریب اسکولز بھی سیل کردیئے ہیں۔
حکومت کی جانب سے سارے عمل سے یہ پیغام دیا جارہاہے کہ کورونا دوبارہ لوٹ آیا ہے
بلکہ کورونا گیا ہی نہیں ہے۔

احتیاط کرتے رہیں ماسک اور سینیٹائزر کا استعمال جاری رکھیں سماجی فاصلے کی پاسداری یقینی بنائیں۔
جان لیوا وبا سے بچنے کے لیئے تمام احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا اور کروانے میں ہرگز کوئی برائی نہیں ہے۔

مگر سندھ حکومت کی دوغلی پالیسی پر شہریوں کو تعجب ہے کہ ایک طرف کورونا کا خوف پھیلا
کر تجارتی سرگرمیاں بند کروائی جارہی ہیں تو دوسری جانب سیاسی جلوس اور جلسے کے اعلانات
بھی کیے جارہے ہیں۔
صوبائی وزیر سعید غنی جو سندھ میں تعلیم کی وزارت کی کمان سنبھالے ہوئے ہیں۔
انہوں نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاو کی صورت حال دوبارہ سے سنگین
ہو رہی ہے اگر وائرس مزید پھیلا تو ہمیں اسکولز دوبارہ بند کرنے پڑ سکتے ہیں۔

اب سعید غنی صاحب کے اس بیان کی دوسری تصویر یہ ہے کہ وہ کورونا کی موجودہ صورت حال میں ریلی
اور جلوس نکالنے کا ارادہ رکھتے ہیں بلکہ آنے والے اتوار کو ریلی نکالنے کا اعلان بھی کرچکے ہیں۔
مزے کی بات یہ ہے کہ ریلی کا عنوان ” کراچی یکہجتی” ریلی رکھا گیا ہے جو ایم کیوایم پاکستان کی
حالیہ دنوں ہونے والی ریلی کا جواب ہے۔

پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی ناکامی پر کراچی میں فوج متحرک

ریلی سے متعلق جیالے وزیر نے یوٹرن لیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ کورونا سے خطرناک “ایم کیوایم” کا بیانیہ ہے۔
ریلی میں شریک کارکنان کو ایس او پیز پر ہر ممکن عمل کروانے کی کوشش کریں گے جو
ایک ناممکن سی بات ہے۔
کراچی کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے کہتے ہیں کہ سندھ اور بالخصوص کراچی میں کورونا
وائرس کے فیگرز کے اتار چڑھاؤ کے پیچھے ” سیاسی مقاصد ” ہیں جو اب سندھ حکومت کی
پالیسوں کی بدولت کھل کر سامنے آگئے۔

شہریوں نے بھی سوشل میڈیا پر سندھ حکومت کے ریلی نکالنے کے اعلان پر تبصرہ کیا ہے۔

فیس بک صارف کا کہنا تھا کہ ایک طرف تو کورونا کی وجہ سے سندھ حکومت ہوٹل اور مارکیٹ
سیل کر رہی ہے اور دوسری طرف گھبراہٹ میں ریلی بھی نکال رہی ہے۔

ایم کیو ایم لندن کے دہشت گردوں کو جیلوں میں کورونا سے خطرہ

سیاسی مبصرین کا ایسا ماننا ہے کہ گزشتہ دنوں ایم کیوایم پاکستان کی جانب سے نکالی جانے
والی ریلی بری طرح ناکام ہوئی مگر پیپلز پارٹی نے ایم کیوایم کی ناکام ریلی کو اہمیت دے
کر اسے کامیاب بنا دیا ہے۔
دوسری جانب ایم کیوایم پاکستان کراچی کے بعد حیدر آباد میں ایسی ہی اتوار کو ریلی
نکلنے جا رہی ہے۔
لکھنے والوں نے لکھا اور کہنے والوں نے کہا کہ ریلیوں کا موسم انتخابات سے قبل عوامی توجہ
حاصل کرنے کا پرانا ذریعہ رہا ہے۔

بیشک انتخاب اب چاہے بلدیاتی ہی کیوں نا ہوں اس بار بھی یہی کچھ ہورہا ہے مگر اس بار
میدان میں پاک سر زمین پارٹی بھی ہے پاکستان تحریک انصاف بھی اور کورونا بھی۔۔۔


شیئر کریں: