کراچی میں نئی قوت نے ایم کیوایم دھڑوں کو ہلا دیا

شیئر کریں:

تحریر محمد خان

ملکی سیاست میں ایک بارپھرکراچی اپنا کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہےحالیہ دنوں لانڈھی اور کورنگی پر مشتمل قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 240 کے ضمنی انتخاب کے روز ہونے والی ہنگامہ آرائی میں مختلف سیاسی جماعتوں میں تصادم ہوا باالخصوص تحریک لبیک پاکستان کے کارکنوں کی جانب سے سڑکوں پر کھلے عام بھاری اسلحہ کا آزادنہ استعمال کرنے کے بعد منظر عام پر آنے والی تصویروں اور ویڈوز نے ماضی کی یادہ دلا دی۔ ساتھ ہی مملکت پاکستان چلانے والوں کے لیئے سوال بھی چھوڑ دیا ہے کہ جب ملک ہر طرح کے بحران کا شکارہے ایسے میں شہر قائد کے امن کو دوبارہ خراب کرنے کا اسکرپٹ اور پلان کیوں بنایا جارہا ہے ؟

ضمنی انتخاب کا نتیجہ اچانک کیسے بدلا؟

جمعرات 16 جون2022 کو جو کچھ لانڈھی میں پرامن الیکشن کے نام پر ہوا اسُ نے الیکشن کمیشن کے قواعد و ضوابط کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں۔ شہر کراچی بنیادی مسائل کے ساتھ سیاسی بحران کی بھی لپٹ میں ہے۔ کراچی کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والوں کا خیال ہے کہ گزشتہ دنوں ضمنی انتخاب میں ” جو ہار ا وہ ہروایا گیا اور جیتا اسے جیتوایا گیا”۔ این اے 240 کے ضمنی انتخاب میں ایم کیوایم پاکستان نے صرف 65 ووٹوں سے کامیابی سمیٹی اور دوسرے نمبر پرتحریک لبیک پاکستان جگہ بنانے میں کامیاب رہی۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان برانچ کو کامیاب کروانے کی ایک بڑٰی وجہ یہ بھی بنی کہ وہ اسوقت مرکزی حکومت کی اہم اتحادی ہے جس کی بدولت شہباز اور زرداری سرکار سسک سسک کر سانسیں لے رہی ہے۔ گراوُنڈ پر موجود نا نظر آنے والے انتہائی اہم ذرائع نے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ الیکشن کے روز ووٹوں کی گنتی کی شروعات سے لے کر 309 میں سے مجموعی طور پر 50 فیصد پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کی روشنی میں مہاجر قومی موومنٹ ہر لحاظ سے سرفہرست تھی اور جیت کی دوڑ میں پاک سرزمین پارٹی دوسرے نمبر پر لیڈ کررہی تھی لیکن نتائج مکمل ہونے سے تقریبا ڈیڑھ گھنٹہ قبل صورت حال کو تبدیل کردیا گیا یا کروادیا گیا۔ پھر ایم کیوایم پاکستان اور تحریک لبیک پاکستان کے درمیان کاٹے کے مقابلے کی فضا بنادی گئی۔

کراچی میں‌ اب اسلحہ کس نے نکالا؟

الیکشن کے روز پولنگ کے عین اختتام سے قبل حلقہ میں بلخصوص لانڈھی چھ نمبر میں ٹی ایل پی کے مسلح کارکنوں نے پاک سرزمین پارٹی کے مرکزی الیکشن آفس پر چڑھائی کردی۔ ہوائی فائرنگ اور دیگر ہتھیاروں کی مدد سے پی ایس پی کے متعدد کارکنان کو زخمی کیا جس میں سے ایک کارکن جاں بحق ہوگیا۔ ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی اسوقت لانڈھی میں ایک کارکن کی رہائش گاہ سے بیٹھ کر الیکشن کی صورتحال کا جائزہ لے رہے تھے۔ ان ہی کہ حکم پر پاک سرزمین پارٹی کے الیکشن آفس پر فائرنگ کروائی گئی جیسے تیسے کرکے الیکشن کا دن ختم ہوا ایم کیوایم پاکستان نے 65 ووٹوں سے ملنے والی کامیابی کا جشن منایا اور خاموشی اختیار کرلی لیکن الیکشن کے اگلے روز مرنے والے کارکن کی نماز جنازہ پڑھائی گئی جہاں پر الگ منظر دیکھنے کو ملا جس کی چیخیں ایم کیوایم پاکستان کی برانچ بہادر آباد تک سنائی دی گئیں۔ مہاجر قومی قوومنٹ کے چیئرمین و ماضی میں الطاف حسین کے قریبی دوست اور سخت ترین مخالف آفاق احمد مصطفی کمال اور انیس قائم خانی کے بَغَل میں کھڑے دکھائی دیئے۔ اس تصویر نے مستقبل کی پیشگوئی کردی ساتھ ہی باوسوق ذرائع نے متعلقہ تصویر کی عکاسی کو حقیقت کا رخ دیتے ہوئے کئی اہم خبروں کی تصدیق بھی کی۔

فاروق ستار کی اہمیت بڑھ گئی؟

اردو بولنے والے علاقوں میں مہاجر قومی موومنٹ اور پاک سرزمین پارٹی کی بری طرح ناکامی نے پچھلے کچھ عرصے سے غیر فعال ڈاکٹر فاروق ستار کی قدر و قیمت میں اضافہ کردیا ہے. کراچی کے ووٹرز کو یکجا کرنے کے ساتھ ہی تحریک لبیک پاکستان اور ایم کیوایم پاکستان کوٹف ٹائم دینے کے لیئے مہاجر قومی موومنٹ اور پاک سرزمین پارٹی کی قیادت نے سینئر سیاستدان ڈاکٹر فاروق ستار سے ہاتھ ملانے پر غور شروع کردیا ہے۔ ذرائع بتاتے ہیں جمعہ یا ہفتے کو پی ایس پی چیئرمین مصطفی کمال نے ٹیلی فون کے ذریعے ڈاکٹر فاروق ستار سے رابطہ کیا اور مستقبل میں بالخصوص چوبیس جولائی کو کراچی میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات اورستائیس جولائی کو مرحوم ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے انتقال کے بعد خالی ہونے والی قومی اسمبلی کی نشست این اے 245 کے ضمنی انتخاب میں مشترکہ طور پر میدان میں اترنے کی پیشکش کی۔ ڈاکٹر فاروق ستار کہتے ہیں ان دنوں والدہ شدید علیل ہیں اور اسپتال میں زیر علاج ہیں جس کے باعث وہ کافی مصروف ہیں۔ انہوں نے مصطفی کمال کی پیشکش کا جلد حتمی جواب دینے کا یقین دلایا۔
آفاق احمد،مصطفی کمال اور فاروق ستار کے ملاپ کی خبریں منظر عام پر آنے کے بعد سے ایم کیوایم پاکستان بہادرآباد گروپ میں بے چینی کی کفیت ہے۔ سیاسی صورتحال کو جانچتے ہوئے ایم کیوایم پاکستان کے وفد نے ڈاکٹر فاروق ستار سے ملاقات کو سیاسی رنگ نہیں دیا۔ ڈاکٹر صاحب کی والدہ کی بیماری اور عیادت کا بہانا بنا کر کراچی کے نجی اسپتال کا دورہ کرکے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور عامر خان نے ڈاکٹر فاروق ستار سے احوال جاننے کی کوشش کی اور پھر اسپتال سے روانہ ہوگئے۔

مصطفی کمال نے خبردار کر دیا

کراچی میں پارٹی کے جنرل ورکز اجلاس سے چیئرمین پی ایس پی مصطفی کمال نے اتوار کو انتہائی اہم خطاب میں شدید غصے کا اظہار کیا۔ انہوں نے پہلی مرتبہ لسانی سیاست پر مبنی بیانات دیئے اور ملکی سلامتی اداروں سے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے کا کہا۔ انہوں نے اپنے کارکنوں کو مزید صبر کرنے کی تلقین بھی کی ساتھ ہی کہا دیگر صوبوں سے لائی گئی جماعتوں کو کراچی پر مسلط نہیں ہونے دیں گے۔ اگر ملک چلنے والوں نے ہمیں مارنے کا فیصلہ کرلیاہے تو الطاف حسین کی گولی سے مار دو، کسی غیر مقامی کی گولی کا انتخاب کیوں کریں ؟

دھونس دھمکیاں پھر بڑھ گئیں

کراچی کی سیاست میں تیزی سے جگہ بنانے کی کوشش کرنے والی سیاسی جماعتوں کی جانب سے ایک دوسرے کو دھمکیاں دینے کا سلسلہ کافی حد تک بڑھ گیا ہے۔ موجووہ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد الیکشن کمیشن نےکراچی اور حیدرآباد ڈویژن کےالیکشن کمشنرز سے فوج اور رینجرز کی درکار تعداد کی تفصیلات مانگ لی ہیں۔ امکان ہے کہ امن وامان کی فضاء کو برقرار رکھنے کے لیئے آئند انتخابی سرگرمیوں میں کراچی میں فوج اپنی خدمات دیتے ہوئے نظر آئیں۔


شیئر کریں: