کراچی میں سیوریج کے پانی کی صفائی کا منصوبہ بدعنوانی کی نظر

شیئر کریں:

کراچی میں سیوریج کے پانی کی صفائی کا منصوبہ تعطل کا شکار ہونے سے ساحل تباہ اور ماحولیات
کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
دوہزار سات میں جس ایس تھری منصوبے کی لاگت آٹھ ارب روپے تھی وہ دوہزار اٹھارہ میں
چھتیس ارب پر پہنچ گئی۔

اب ہم 2020 کے اختتام پر کھڑے ہیں اور کرنسی ڈی ویلیو ہونے کی وجہ سے منصوبہ پر لاگت کہاں
پہنچ چکی ہو گی لیکن ارباب اختیار کو اس سے کیا سروکار۔
دوہزار سات میں شروع کیے گئے ایس تھری منصوبے کے تحت ملیر ندی پر 22کلومیٹر اور لیاری ندی
پر 33کلومیٹر کی کنڈیوٹ لائن تعمیر کی جانی ہیں۔
یہ لائنیں گندہ پانی ماڑی پور ، کورنگی اور محمود آباد کے ٹریٹمنٹ پلانٹ تک پہنچائیں گی۔

پروجیکٹ ڈائریکٹر ایس تھری حنیف بلوچ کے مطابق 13 سال کے دوران 10 ارب روپے کی لاگت سے
لیاری ندی میں 20 کلومیٹر طویل کنڈیوٹ لائن کی تعمیر کا کام جاری ہے۔
اس کے برخلاف انہوں نے اعتراف کیا کہ ملیر ندی میں لائن کی تعمیر کا کام تاحال شروع نہیں کیا جا سکا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یومیہ 40 کروڑ گیلن سے زائد سیوریج کا پانی صاف کئے بغیر
سمندر میں پھینکا جارہا ہے۔

ایم ڈی واٹر بورڈ اسد اللہ کہتے ہیں 2018 میں اس منصوبے کی لاگت کا تخمینہ 36 ارب تک پہنچ گیا تھا۔
اب اس منصوبے کو عالمی بینک کی مالی امداد کے بغیر مکمل کرنا ممکن نہیں رہا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈھائی کروڑ سے زائد آبادی والے شہر کا گندہ پانی مسلسل سمندر میں ڈالے جانے
سے کراچی کے ساحل آلودہ اور سمندر کی جانب سے آنے والی ہوا تعفن زدہ ہو چکی ہے۔
اگر فوری طور اس منصوبے کی جانب توجہ نہ دی گئی تو کراچی کے شہریوں کی صحت کے بنیادی
مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔


شیئر کریں: