کراچی میں سروس روڈ پرقائم نسلہ ٹاور کو گرانے کا حکم برقرار

شیئر کریں:

کراچی میں سروس روڈ پرقائم نسلہ ٹاور کو گرانے کے خلاف درخواستیں مسترد۔ سپریم کورٹ نے عمارت کو فوری منہدم کرنے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کراچی میں ساری چائنہ کٹنگ اسی طرح ہو رہی ہے۔ زمین کچھ ہوتی ہے، قبضہ اس سے زیادہ کر لیا جاتا ہے۔۔سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں نسلہ ٹاور گرانے کے خلاف بلڈر اور رہائشیوں کی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ عمارت غیر قانونی ہے، اسے گرایا جائے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کے ایم سی رپورٹ کےمطابق کچھ ایریا غیر قانونی استعمال ہونے کی نشاندہی ہوئی ہے۔ نہ صرف سروس روڈ بلکہ شاہراہ فیصل کو بھی عمارت کا حصہ بنایا گیاہے۔چیف جسٹس نے کہا آپ کا منصوبہ فٹ پاتھ سے جا کر ملتا ہے۔ بتائیں، شاہراہ قائدین کا سروس روڈ کہاں گیا۔

نسلہ ٹاور کے وکیل نے کہا کہ ہماری عمارت سروس روڑ پر ہرگز نہیں ہے۔ کے ایم سی نے سندھی مسلم سوسائٹی کو زمین دی۔ بلڈر نے سوسائٹی سے زمین خریدی۔اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ نسلہ ٹاور کا اصل پلان کہاں ہے۔ آپ بس اپنی لیز دکھادیں۔ جسٹس اعجاز الحسن نے ریمارکس دیئے آپ کی اوریجنل لیز سات سو اسی اسکوائر یارڈ تھی۔ باقی اراضی اضافی لیز شدہ نہیں۔ تصاویر دیکھیں، نسلہ ٹاور سروس روڑ سے ملا ہوا ہے۔

عدالت نے کہا کہ اگر سندھی مسلم سوسائٹی نے اگر آپ کو سروس روڑ بھی بیچا،،، تو وہ قانونی نہیں ہوگا۔ جسٹس اعجاز الحسن نے ریمارکس دیئے آپ نے تین سو اکتالیس اسکوائر یارڈ پر قبضہ کیا۔ کوئی راکٹ سائنس نہیں۔ سات سو اسی اسکوائر یارڈ سے زیادہ کی زمین کیسے حاصل کی۔


شیئر کریں: