کامیابی کے باپ بہت ناکامی یتیم کیوں؟

شیئر کریں:

تحریر ندیم رضا

مشہور کہاوت کچھ اس طرح ہے کہ کامیابی کے بہت سے باپ ہوتے ہیں اور ناکامی کے حصہ میں ہمیشہ یتیمی آتی ہے۔
پاکستان میں ہمیشہ سے ہر ادارے اور جماعتیں اسی کہاوت پر انتہائی مستقل مزاجی سے عمل پیرا ہیں۔ پاکستان میں فیٹف
فیٹف اور فیٹف کا ذکر خیر 17 جون اے ہوتا رہا۔ سوشل میڈیا ہو یا مین اسٹریم میڈیا اس پر سیاستدانوں اور پاک فوج کے
تہنیتی بیانات چلتے رہے۔
بیانات کی بنیادی وجہ جرمنی کے شہر برلن سے نکلنے والی خبر یہ تھی کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف) نے
پاکستان کو دیے گئے اہداف کی تکیمل پر اطمینان کا اظہار کر دیا ہے۔ اہداف کی تکمیل اور اطمینان سے مراد پاکستان
کے اب فیٹف کی “گرے” لسٹ سے باہر نکلنے کے امکانات بہت زیادہ روشن ہو گئے ہیں۔

گرے لسٹ سے نکلنے میں ابھی کچھ وقت لگ سکتا ہے لیکن فیٹف کی جانب سے ایکشن پلان پر اس کی صحت کے مطابق عملدرآمد پر پاکستان کی تعریف ملکی معیشت میں بہتری کے لیے ہوا کا تازہ جھونکا ثابت ہوسکتا ہے۔ اس ہوا کے تازہ جھونکے کی شدت سے پاکستان کی معیشت کو ضرورت تھی۔ اس پر معیشت کے ماہرین لکھ رہے اور تجزیہ کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ اسی طرح سیاستدانوں کے بیانات کا سلسلہ بھی جاری رہے گا لیکن میں یہاں کچھ سوالات اٹھانا چاہتا ہوں کہ پاکستان گرے لسٹ میں کس وجہ سے گیا تھا؟ اس سے پہلے فیٹف پر مختصرا بات کرلیتا ہوں تاکہ انہی سطور سے مزید سوالات واضح ہو سکیں۔

فیٹف

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا بنیادی مقصد بین الاقوامی مالیاتی نظام کو دہشت گردی، کالا دھن سفید کرنے اور اس قسم کے دوسرے خطرات سے محفوظ رکھنا اور اس مقصد کے لیے قانونی، انضباطی اور عملی اقدامات کرنا ہوتا ہے۔ کیا ہمارے علم میں نہیں کہ ان کی نگاہیں ہماری طرف نہیں ہوں گی؟ جو کام ہمیں کرنا تھا وہ نہیں کیا گیا اسی لیے فیٹف 2008 میں ہی منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کے خلاف پاکستان میں کسی قسم کا جامع نظام نہ ہونے پر تحفظات کا اظہار کر چکا تھا۔ فیٹف نے مسلسل منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے امکانات پر پاکستان کی توجہ دلائی لیکن ہم سوئے رہے۔ 2015 تک یہی کھیل کھیلا جاتا رہا ایکشن پلان اور انسداد دہشت گردی آرڈیننس بھی بنایا گیا لیکن فیٹف نے عدم اطمینان ظاہر کر دیا۔
ہمارے حکمرانوں اور اداروں کی چشم پوسی اور لاپرواہی کی وجہ سے پاکستان کو 2018 میں گرے لسٹ میں ڈال دیا گیا ہے۔ بدقسمتی سے ہماری سیاست کی طرح معیشت کی بہتری اور قانون سازی کے لیے وقت پر فیصلے نہیں کیے جاتے۔ جب سر پر پڑتی ہے تو پھر بھاگتے پھرتے ہیں۔ وہ بھی فیٹف کی مہربانی کہ جس نے ہم پر دباؤ بڑھایا تو سب سرجوڑ کے بیٹھے۔ فیٹف کی جانب سے دیے گئے پہلے 27 اور پھر 7 نکات پر سب نے مل کر کام کیا۔ باالاخر چار سال کی محنت کے بعد فیٹف نے کچھ اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

گرے لسٹ میں لے جانے کے زمہ دار کون؟

کیا ہمیں ان باتوں کا جائزہ لینا نہیں چاہیے کہ پاکستان کو اس نازک صورت حال تک کس نے پہنچایا؟ متعلقہ اداروں نے کیوں اپنے کام نہیں کیے؟
پاکستان کی معیشت ڈاکومینٹ کیوں نہیں تھی؟ اس میں کس کا قصور ہے اس کی زمہ داری کون لے گا؟
جس طرح تمام ادارے اور سیاسی جماعتیں گرے لسٹ سے نکلنے کی کوششوں کا وقت سے پہلے ہی کریڈٹ لے رہی ہیں اسی طرح کیا انہیں صورت حال کی خرابی کی زمہ داری نہیں لینی چاہیے؟
نیشنل ایکشن پلان پر کیوں اس کی صحت کے مطابق عملدرآمد نہیں کرایا جا سکا؟
ہنڈی کا کاروبار کیوں ہم نے خود سے بند نہیں کروایا؟
دہشت گردوں کی فنڈنگ کے ذرائع ہم نے کیوں نہیں روکے؟
شدت پسند مذہبی تنظیموں اور مسلح جھتوں کے خلاف عملی کارروائیاں کیوں نہیں کی گئیں؟
شدت پسند تنظیمیں کھلے عام جلسے کرتیں اور چندے جمعہ کرتیں ہیں انہیں کیوں نہیں روکا جاتا؟
انہی سے جڑے سوالات اور بہت ہیں یہاں میں بس یہ کہنا چاہتا ہوں کہ سابق حکومت کے ساتھ ساتھ موجودہ حکمران اور عسکری اداروں کی خدمات یقینا قابل ستائش ہیں لیکن ان میں سے کسی ایک میں بھی ہمت نہیں کہ وہ ملک کو اس حال میں پہنچانے کی زمہ داری قبول کرسکیں۔ آخر عوام کو کیوں نہیں بتایا جاتا کہ کن اداروں کی لاپرواہی اور غیرزمہ داری کی وجہ سے پاکستان گرے لسٹ میں پہنچتا رہا ہے؟

(آرٹیکل کے لکھاری مختلف ٹی وی چینلز کے ڈائریکٹر نیوز رہ چکے ہیں‌)


شیئر کریں: