کابل میں تیسرا دھماکا اور فائرنگ 13 امریکیوں سمیت 80 افغان ہلاک

شیئر کریں:

افغانستان کے دارلحکومت کابل میں چند گھنٹوں بعد تیسرا دھماکا ہوا ہے۔ ائیرپورٹ کے قریب
خودکش حملے اور دو دھماکوں سے ہلاک افراد کی تعداد 80 سے بھی زائد ہو گئی ہے۔

حامد کرزئی ائیرپورٹ کے شمالی دروازے پر دھماکے میں بھی بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔
دھماکے کے وقت فائرنگ بھی کی گئی ہے۔

اب تک کی اطلاعات کے مطابق 13 امریکی فوجی بھی مارے گئے ہیں ذرائع کہتے ہیں ان کی
تعداد اس سے زیادہ ہے۔ ہلاک افراد میں‌ بچے اور خواتین بھی شامل ہیں
طالبان نے تیسرے حملے کا خدشہ ظاہر کیا تھا اور اسپتالوں کی سیکیورٹی خود سنبھال لی تھی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پہلا حملہ ائیرپورٹ گیٹ کے قریب اس جگہ کیا گیا جہاں لوگوں کی بڑی تعداد
ملک سے باہر جانے کے لیے جہاز کا انتظار کر رہے تھے۔ کئی افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے۔
کابل ائیرپورٹ پر 2 دھماکے امریکی فوجیوں سمیت 70 افغانی ہلاک
دھماکے کے بعد طالبان نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا لیکن کچھ ہی دیر بعد دوسرا دھماکا ائیرپورٹ کے
قریب ہوٹل کے باہر کیا گیا۔ اس میں بھی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
یاد رہے امریکا، لندن اور آسٹریلیا نے گزشتہ روز سے کہنا شروع کر دیا تھا کہ کابل ائیرپورٹ کے قریب
دہشت گردی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ داعش کسی بھی وقت کارروائی کرکے
نقصان پہنچا سکتی ہے۔
کابل ائیرپورٹ سے لوگوں‌ کے انخلا کا فضائی آپریشن، ہر 39 منٹ بعد پرواز
دھماکا ہونے پر لوگوں نے بھی خدشات کا اظہار کیا ہے کہ امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا کو آخر کیسے پہلے
علم ہوا اور پھر دھماکا ہو بھی گیا۔ اس واقعہ نے کئی خدشات کو جنم دے دیا جس سے افغانستان کے
حالات خراب ہو سکتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان کی داعش اب ننگہار اور سرحد پار پشاور میں ٹارگٹ کلنگ شروع کر سکتی
ہے۔ خیال رہے داعش کو چند سال پہلے شام اور عراق سے سرحدوں پر لاکے بٹھا دیا گیا تھا۔

سابق صدر حامد کرزئی نے کہا تھا کہ امریکا جہازوں میں داعش کو ننگہار لارہا تھا اور پھر یہاں سے
تاجکستان اور ازبکستان سرحد کے ساتھ جوزیان،بلغ اور قندوز منتقل کیا جاتا ہے۔

داعش میں بڑی تعداد میں‌ لوگ بھارت سے آکے شامل ہوئے ہیں. بھوپال کی 200 فیملی بھی اس کا حصہ
بن چکی ہیں.


شیئر کریں: