ڈی جی آئی ایس آئی تقرری تنازعہ کی اصل کہانی

شیئر کریں:

تحریر علیم عثمان

بتایا جاتا ہے کہ دوسرے طاقتور جرنیل نے “پہاڑی  والے درویش ” کو پیشکش کی کہ اُسے 10ویں کور
کی کمان دلوا دی جائے تو وہ اگلے برس طاقتور ترین جرنیل کی کرسی پا سکتا ہے باور کیا جاتا ہے کہ
طاقتور ترین جرنیل کے لئے دسویں کور کے کمانڈر کا چانس سب سے زیادہ ہوتا ہے کیونکہ 111 بریگیڈ
بھی اسی کے ماتحت آ جاتی ہے.
ذرائع کے مطابق پاکستان آرمی میں 3 عہدوں کو سب سے اھم سمجھا جاتا ھے ، ایک چیف کا عہدہ ، دوسرا
ڈی جی آئی ایس آئی اور تیسرا دسویں کور کے کمانڈر کا عہدہ ، ذرائع کے مطابق کور 10 کے کمانڈر کی
منظوری بھی پینٹاگون سے ملتی ہے. بتایا جاتا ہے دوسرے طاقتور جرنیل نے “بنی گالہ” والے درویش کو
باور کروایا کہ دسویں کور کی کمان مل جانے سے نہ صرف اگلے برس نئے “چیف” کے عہدہ کے
امیدوار کے طور پر اہل ہونے کا تقاضا پورا ہوجائے گا بلکہ تب تک وہ دونوں “محفوظ” بھی ہو
جائیں گے .
ذرائع کا کہنا ہے کہ دوسرا طاقتور جرنیل جو ادارے میں آئندہ ٹاپ پوزیشن کا امیدوار ھے “پہاڑی والے
درویش” کا قرب اور اعتماد پہلے ہی حاصل کر چکا تھا ، اس قدر کہ پہلے قومی سلامتی کے مشیر
برائے وزیراعظم معید یوسف کے ہمراہ واشنگٹن اور پھر پچھلے دنوں کابل کا اچانک دورہ اس نے
ٹاپ جرنیل سے بالا بالا کر لیا.
بتایا جاتا ہے کہ صرف وزیراعظم کی ایماء پر دوسرے طاقتور جرنیل نے ان دوروں کے لئے نہ
اپنے باس سے اجازت لی اور نہ اسے اعتماد میں لینا ضروری سمجھا.

ذرائع کے مطابق دوسرے طاقتور جرنیل نے بنی گالہ والے درویش کو ترغیب دی کہ اسے دسویں
کور کا کمانڈر لگوا دیا جائے تو اس کے طاقتور ترین جرنیل بننے کی راہ ہموار ہو جائے گی جس کے
بعد وہ نہ صرف پہاڑی والے درویش کے یہ پانچ سال آرام سے پورے کروا دے گا بلکہ اگلے 5 سال
کے لئے حکومت بنانے کو بھی یقینی بنا دے گا
ذرائع کا کہنا ھے کہ “پہاڑی والے درویش” سے یہ حماقت سر زد ہوگئی کہ اس نے دوسرے طاقتور
جرنیل کی بطور کور کمانڈر 10 کور تقرری کے لئے سفارشات طاقتور ترین جرنیل کو بھجوا دیں
جس پر ٹاپ جرنیل مزید چوکنا ہو گیا جبکہ دورہ کابل والی واردات سے اس بارے میں‌ “باس جرنیل”
کے دل میں پہلے ہی تحفظات جنم لے چکے تھے، چنانچہ جرنیلوں کی پروموشن، کور کمانڈروں کی
پوسٹنگز اور حساس ایجنسی کے چیف کی تبدیلی کی بابت 6 اکتوبر کو راولپنڈی کا اعلامیہ بنی گالہ
والے درویش سمیت “ایک پیج” والی دونوں اھم شخصیات پر بجلی بن کے گرا.

“پہاڑی والا درویش” اس پر قدرے مشتعل ہوگیا کہ میں نے اپنے “خالدبن ولید” کو کیا سفارشات بھیجی
تھیں اور اس نے جواب میں کیا اعلامیہ جاری کر وا دیا ھے ، لہٰذا راولپنڈی اور “شاہراہ دستور” کے مابین
ٹھن گئی اور ملک کے دو “بڑوں” میں سرد جنگ شروع ہو گئی. سو بظاہر تو یہ ایک نہایت اھم اور
حساس ادارے کے نئے سربراہ کے تقرر کا معاملہ ھے جبکہ “آرمی ہاؤس” اور “بنی گاڈ” کے مابین اس
طول پکڑتی کشمکش کے پس پردہ کارفرما حقائق کی اصل کہانی یہ ھے.

بتایا جاتا ہے کہ آرمی ہاؤس نے بنی گالہ والے درویش کی جانب سے مبینہ طور پر بھیجی گئیں سفارشات
کے بعد نہ صرف سب سے پہلا تقرر دسویں کور کے کمانڈر کا کیا بلکہ طاقتور ترین عہدے کے” امیدوار”
کو کسی کور کی کمان کے لئے فوری نامزد بھی نہیں کیا جو کہ اس عہدہ کے لئے “کوالیفائی” کرنے
کے لئے لازمی تھا اور یوں “خالد بن ولید” نے 6 اکتوبر کے پہلے “جھٹکے” ادارے میں میں پہلی 2 ٹاپ
پوزیشنوں پر تقرر و تبادلے سے اپنے جانشین کی بابت اشارہ پر مبنی پیغام دے دیا
تاھم تجزیہ کار حلقوں کا خیال ھے کہ پہلی 2 ٹاپ پوزیشنوں پر تقرر پانے والوں میں سے دوسرے کا
امکان زیادہ نہیں ، اس لئے کہ ایک مخصوص مسلک سے تعلق کی بناء پر ایسے فیصلے کو سعودی
عرب کی قبولیت حاصل نہیں ہو سکے گی.

صورتحال یہ ھے کہ بنی گالہ والا ‘خلیفہ’ “اعلامیہ زدہ” طاقتور شخصیت کو اس کے عہدے پرنہ صرف
برقرار رکھے ہوئے ھے بلکہ شاہراہ دستور پر ہونے والے اھم اجلاسوں میں اس کی شرکت میڈیا کی
زینت بنانے کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ افغانستان کے ایشو سے جڑی اھم سرگرمیوں اور
پیش رفت میں اس کی شمولیت دکھانے کا اہتمام بھی کیا جا رہا ہے
اطلاعات کے مطابق اس “نئے وزیر خارجہ” کے “سرپرائز” دورہ کابل کے حوالے سے افغان طالبان
ذرائع کا کہنا ھے کہ انہوں نے تو اسے کابل بلایا ہی نہیں تھا اور اس نے وہاں پہنچ کر کسی حکومتی
طالبان شخصیت سے ملاقات کے لئے بہت اصرار کیا تو صرف ملا برادر سے ملوا دیا گیا تھا

دوسری طرف اسلام آباد کے ایسے ہر جتن کے باوجود ملک کے اندر کے سیاسی معاملات پر دوسری
طاقتور شخصیت کی گرفت کمزور ہوتی جا رہی ہے جس کا ایک مظاہرہ حال ہی میں فیصل آباد میں
پی ڈی ایم کے جلسہ ، بالخصوص اس میں مریم نواز کی جارحانہ تقریر کو مین اسٹریم (الیکٹرانک)
میڈیا یعنی ٹی وی نیوز چینلز پر دکھایا اور سنوایا جانا ھے جس میں وزیراعظم کے ساتھ ساتھ دوسری
طاقتور شخصیت کو حسب سابق نشانے پر رکھا گیا تھا
(نوٹ بلاگ کے لکھاری کے خیالات سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں‌ اس کا ادارے کی پالیسی
سےکوئی تعلق نہیں)


شیئر کریں: