ڈینگی سے مقابلہ کرتی بے یارو مددگار عوام

شیئر کریں:

تحریر سید اجلال حیدر زیدی

شہر لاہور باقی شہروں کی طرح دو برس سے کرونا جیسے موزی مرض کا سامنا کر رھا تھا تو کئ برس بعد ستمبر 2021
سے ڈینگی نے آب و تاب کیساتھ حملہ کر دیا۔
ڈینگی اعداد و شمار میں پورے پنجاب سے 36 اضلاع میں میں اگر ڈینگی کیسز 600 رپورٹ ہوتے تو لاہور سے 500
کیسز کی تعداد تھی جو بہت بڑا المیہ ہے۔ یہ تعداد سرکاری اسپتالوں سے اکٹھی کی جانے والی تعداد ہے اگر پرائیویٹ
اہسپتالوں ڈسپنسریوں اور نجی طور پر گلی محلوں میں موجود ڈاکٹروں کی تعداد بھی شامل کی جائے تو روازنہ کی بنیاد پر ہزاروں میں جا پہنچے گی ۔ پورے پنجاب میں سب سے متاثرہ صوبائی دارالحکومت لاہور رہا جہاں ڈینگی کی روک تھام کے لیے لیے گزشتہ تین سالوں سے کوئی کام نہیں کیا گیا نہ ہی کوئی سپرے نہ ہی انسداد ڈینگی ٹیموں کا گھر گھر چیک کرنے کا نظام یا اس سے بچاؤ کی آگاہی مہم۔ کروڑوں روپے کی آگاہی مہم صرف کاغذوں تک محدود رہی ۔ ستمبر کے بعد اکتوبر اور اب نومبر گزر رہا ہے بتانے کو میں بہت آسانی سے یہ مہینے بتا گیا لیکن جن لوگوں نے ڈینگی جیسے مرض کا سامنا کیا یا ان کے خاندان ، عزیز و اقارب نے سامنا کیا وہ بیاں نہیں کیا جا سکتا “قبر کا حال تو مردہ ہی جانے ہے ” ہر گزرتا دن شہر لاہور پر قیامت ڈھا رہا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت جن دعوؤں کی بنا پر حکومت میں آئ آپ سب با خوبی آگاہ ہیں کی ان میں سے کتنے دعووں پر عمل ھوا ۔ صحت عامہ کا حال ابتر ھو چکا ہے نجی ھوں یا سرکاری دوا خانے صوبائی دارالحکومت لاہور میں موجود پرائیویٹ اسپتال جو کہ لاکھوں روہے ایک آدمی سے با آسانی بٹور لیتے ہیں وہ بھی اس عالم میں بھرے پڑے ھوں تو سرکاری اسپتالوں کا کیا حال ھو گا اپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں ۔


ڈینگی کے علاج کے لئیے حکومت نے برائے نام لاہور کے ایکسپو سینٹر میں ڈینگی سے ںچاو کا علاج معالجہ شروع کرنے کا اعلان کیا لیکن کارکردگی صفر جہاں ڈینگی کے مریضوں کو ایڈمٹ بھی نہیں کیا جاتا وہاں پہچنے والے مریض مزید خواری سے گزرنے کے بعد پھر کسی اور علاج معالجے کی تلاش میں نکل جاتے ہیں یہ روٹین اج بھی جاری ہے اور وہاں اضافی تعینات ھونے والا اسٹاف وٹس ایپ فیس بک اور سوشل میڈیا سے محضوض ھو رہے ھوتے ہیں ۔ ڈینگی سے ہر دوسرے گھر سے ایک یا پورا کنبہ ضرور متاثر ھو چکا ہے اور سلسلہ اب بھی جاری ہے سخت جاڑے سے مچھر مرے تو مرے ورنہ حکومتی سطح پر کوئ اقدامات نہیں اٹھائے گئے ۔ متاثر ھونے کی حد یہ ہے کہ جہاں میں سکونت اختیار کئیے ھوں اس گلی میں فدا بھائ کی اہلیہ انتقال کر گئیں اور خود بھی وہ ڈینگی میں مبتلا تھے اظہار تعزیت کیلئے گیا تو وہ بھی موجودہ حالات پر پشیمان نظر آئے اسی روز اگلی گلی میں بہت ہی نفیس دوست طیب ڈینگی سے جاں بئق ھو گیا صرف یہ ہی نہیں اسی روز ہمارے محلے میں ڈینگی سے کل پانچ اموات ایک ہی روز ھوئیں ۔ اور طیب بھی سرکاری اسپتالوں کی بھینٹ چڑھ گیا ۔ اسپتالوں میں کرونا ٹیسٹ کروانے کیلئے دو سو سے تین سو افراد قطاروں میں لگے ھونا معمول بن چکا ہے ۔ لاہور کے سروسز اسپتال میو اسپتال جنرل اسپتال ، گنگا رام اسپتال میاں منشی اسپتال اور دیگر ٹیچنگ اسپتال مریضوں سے بھرے پڑے ہیں لیکن علاج معالجے کے نام پر عوام کو مل رہی ہے تو خواری مل رہی ہے مل رہی ہے تو ذلالت مل رہی ہے مل رہی ہے تو پریشانی مل رہی ہے مل رہی ہے تو عزت نفس کو ٹھیس مل رہی ہے ، سرکاری اسپتالوں سے مل رہی ہے تو سسکتی ھوئی موت مل رہی ہے جی ھاں گونگے بہرے حکمرانوں یہ سب کچھ ہی مل رہا ہے۔ ڈاکٹر موجود بھی ہیں تو ایک ڈاکٹر کم و بیش ایک وقت میں 25 سے 30 مریضوں کو چیک کر رہا ہے لیکن اتنے افراد کو ایک ڈاکٹر کیسے مطمئن کر کے علاج کر سکتا ہے ؟ جب 36 اضلاع میں سب سے متاثرہ لاہور ہے تو باقی اضلاع سے ڈاکٹروں کی اضافی ڈیوٹیاں کیوں نہیں لگوائی جا سکتی ؟ ہر اسپتال میں موجود آی سی یو کے بیڈز کی تعداد کیوں بڑھائی نہیں جا سکتی ۔ گلی محلوں میں موجود ڈسپنسریوں کے اوقات کار کیوں نہیں بڑھائے جا سکتے؟ وہاں موجود اسٹاف اور کئ لاکھ تنخواہیں لینے والے ڈاکٹرروں کو کیوں روکا نہیں جا سکتا ؟، نیا عملہ کیوں بھرتی نہیں کیا جا سکتا ؟۔ ہر ٹاون کی سطح پر موجود ٹیچنگ اسپتالوں کا جہاں صبح 9 سے 1 بجے کے اوقات کو کیوں نہیں بڑھایا جا رہا ؟۔ ہنگامی بنیادوں پر گھر گھر میں سپرے کیوں نہیں کروایا جا سکتا ؟ ڈینگی برآمد ھونے والوں کے خلاف کیوں ایف آئی آر درج نہیں کی جا رہیں ؟ ان سب سوالوں کا جواب مل جائے تو ڈینگی کا یقیناً حل بھی مل جائے گا ۔ اسپتالوں میں ایک تو داخل نہیں کیا جا رہا اگر جگہ مل بھی جائے تو ایک بیڈ پر دو سے تین مریضوں کو ڈال رکھا ہے جس کو وہاں جگہ نہیں مل رہی تو وہ کوری ڈور یا اسی بیڈ کے دائیں یا بائیں لم لیٹ پڑ جاتا ہے ۔ اور ڈاکٹر بھی ایسا ظاہر کرتے ہیں کہ مریض سمجھتا ہے کہ یہ مار ہی ڈالیں گے۔
عیادت کو مری آ کر وہ یہ تاکید کرتے ہیں
تجھے ہم مار ڈالیں گے نہیں تو جلد اچھا ہو
بحر کیف وزیر صحت اچھا پروفیسر یا ڈاکٹر غلطی سے اسپتال میں وزٹ کرتا کسی وارڈ میں وارد بھی ھو جائے تو مریض پر زدو کوب کی انتہا کے بعد آخری لمحات ہی چل رہے ھوتے ہیں ۔
بہر عیادت آئے وہ لیکن قضا کے ساتھ
دم ہی نکل گیا مرا آواز پا کے ساتھ


شیئر کریں: