ڈیموکریسی یا موبو کریسی

شیئر کریں:

تحریر ندیم رضا
پاکستان میں جمہوریت کا چھکڑا اوبڑ کھابڑ رستوں پر خود کو جیسے تیسے کھینچ رہا ہے۔
ہر آمریت کے بعد بے چاری کمزور و ناتواں جمہوریت کا ذکر اور ضرورت اقتدار کی راہدارویوں
اور بھول بھلیوں میں بڑے زور و شور سے کیا جاتا ہے۔

پیپلز پارٹی نے مسمم ارادے اور غیر متزلزل یقین کے ساتھ جمہوریت کی حفاطت کی۔
پھر مسلم لیگ ن نے اسے تقویت بخشنے کے لیے طاقت کے انجکشن لگانے کی کوشش کی۔
اور اب تحریک انصاف کی اپنی جمہوری حکومت ملک کا نظم و نسق چلا رہی ہے۔
یعنی تمام تر مشکلات ،حالات و واقعات کے بیچوں بیچ اس “کنٹرولڈ ڈیموکریسی” کو کھینچا جارہا ہے۔

جمہوریت میں چلتی کس کی ہے؟

پاکستان میں جمہوریت کو کون چلاتا ہے اور اس میں عوام کا حصہ کہاں تک ہوتا ہے؟
یہی کچھ سوالات ہیں جن پر آج میں کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔
ڈیموکریسی کے ساتھ ایک اور اصطلاح استعمال کی جاتی ہے جسے “موبو کریسی” کہتے ہیں۔
جمہوریت کو موبوکریسی سے تشبیہ دینے والے شخص کو تھامس جیفرسن کہتے ہیں۔
امریکا کے بانیان میں سے دوسرا اہم شخص تھامس جیفرسن کو تصور کیا جاتا ہے۔
اسی کا نظریہ “جیفرسونین ازم” ہے جس کا مطلب امریکا کو دنیا کے لیے رول ماڈل بنانا ہے۔

طاقت کے بجائے ایک منفرد اور مکمل معاشرہ کے ذریعے امریکا کو دنیا کے لیے رول ماڈل بنانا تھا۔
جیفرسن کے نزدیک ہمیں دوسروں کے لیے روشنی بننی چاہیے تاکہ لوگ ہماری تقلید کریں۔
لبرل ازم کا پرچار کرنے والا کہتا ہے یہ ڈیموکریسی نہیں بلکہ موبو کریسی (بےقابو ہجوم) ہے۔
گو کہ جیفرسن کے اس تاریخی کلمات کی صحت پر تحفظات بھی ظاہر کیے جاتے رہے ہیں۔
اس میں اکثریت غیر تعلیم یافتہ اور کم شعور رکھنے والے افراد ہوتے ہیں جب فیصلہ سازی ایسے
لوگ کریں گے تو حکومت کیسی بنے گی۔
جیفرسن کے نزدیک ملک کا نظم و نسق پڑھے لکھے لوگوں کے ہاتھوں میں ہونا چاہیے۔
ایک تنقید یہ بھی کہ ہماری ثقافت، تاریخی پس منظر اور ہمارا مذہب مختلف ہے۔

عمران خان کے نوٹسز پر گھبراہٹ

مغربی ملکوں کی ثقافت، تاریخ اور مذہب سب کچھ ہی مختلف ہے تو پھر ان پر اپنی جمہوریت کیسے مسلط کی جاسکتی ہے۔
لیکن جمہوریت کے خیرخواہوں کا کہنا ہے کہ جمہوریت کی برائیاں جمہوریت کو لاگو کرنے سے ہی دور کی جاسکتی ہیں۔
جمہوریت کے متواتر چلنے سے سیاسی ادارے مستحکم ہوتے ہیں بلوغیت آتی ہے اور ماضی کی غلطیوں سے سیکھتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ بری کارکردگی والے رہنماؤں یا سیاسی جماعت کو لوگ دوبارہ ووٹ نہیں دیتے۔
اس کے برخلاف ایران کی جمہوریت ہمیں مختلف دکھائی دیتی ہے۔
اگر ہم شواہد کی بنیاد پر تجزیہ کرنا چاہیں تو ہمیں روس کی جمہوریت مغرب سے مختلف نظر آتی ہے۔
جہاں سیمی آٹو کریٹک (نیم استبدادی/ قابض) اور نیم عوامی رائے پر مبنی جمہوریت ہے۔

یہی وہ نظریہ ہے جو آنے والے دنوں میں ایک متبادل نظریہ کے طور پر مغرب کے لبرل ازم سے مقابلہ کرتے ہوئے نظر آئے گا۔
اس نظریہ کے پیچھے ہمیں چین اور روس دو بڑے بین الاقوامی نظام کے شراکت دار کے طور پر کھڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔
اسی طرح ایران کی جمہوریت ایک بے مثل اور منفرد نظر آتی ہے۔
ایران کی ہزاروں سالوں پر محیط تاریخ اور ان کے عقیدے کے نچوڑ کی صورت میں ولایت فقیہ
قانون ساز اسمبلی اور مجلس خبرگان کی صورت دکھائی دیتی ہے۔
جہاں ولایت فقیہ کا انتخاب عوام نہیں کیا کرتی لیکن عوام کو ولایت فقیہ اور مجلس خبرگان
کے منتخب کردہ نمائندوں میں سے کسی ایک کے انتخاب کرنے کا اختیار ہے۔

اسی لیے ایران اسلامی جمہوریہ ایران کہلاتا ہے جہاں اسلام اور جمہوریت کو ایک ساتھ جوڑا ہوا ہے
جو اس بحث کو بھی نمٹا دیتا ہے کہ اسلام اور جمہوریت ایک دوسرے کے متضاد ہیں۔

اب پاکستان پر نظر ڈالیں جہاں پوری طرح جمہوریت ہے نہ اسلام اور نہ ہی آمریت ہے۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم اب تک اپنی 73 سالہ تاریخ میں فیصلہ نہیں کر پائے کہ ہم نے کس نظام پر چلنا ہے۔
ہماری ثقافت اور تاریخ جنوبی ایشیائی ہے ہمارا عقیدہ اسلامی ہے جس کی مشرق وسطی سے شروعات
ہوئی ہے اور ہمارا رول ماڈل مغرب ہے۔

اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ ہم پورے تیتر ہیں اور نہ ہی بٹیر۔
اب یہ زمہ داری مفکرین اور خواص کی ہے کہ وہ سمت کا تعین کریں اور مسئلہ کی نزاکت کو
جانچتے ہوئے اس کی راہ کا متعین کریں۔
خواص اور مفکرین سے مراد دانشور، سیاسیات کے ماہرین، شعبہ ابلاغ کے منجھے ہوئے
کھلاڑی اور سیاست کے شاہ سوار ہیں۔

پاکستان کو بھی فیصلہ کرنا ہو گا کہ ہمیں “موبوکریسی” والی “ڈیموکریسی” چاہیے یا پھر حقیقی
معنوں میں فلاحی ریاست کی طرف سفر کرنا ہے۔


شیئر کریں: