ڈیرہ اسماعیل خان کا 700 سال قدیم قبرستان

تحریر و تحقیق توقیر زیدی
ڈیرہ اسماعیل خان میں 700 سال قدیمی آثار قدیمہ لال ماہڑہ ہندہرے کا قبرستان، مقبرے صوبائی و ضلعی انتظامیہ اور محکمہ آثار
قدیمہ کی غفلت اور منتخب سیاسی نمائندوں کی عدم دلچسپی کے باعث یہ تاریخی ورثہ وقت کی دھندلکوں کی نذر ہو رہا ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان کے پانچ قدیم ترین مقامات میں سے ایک لال ماہڑہ بھی ہے۔ لال ماہڑہ تحصیل پروا کا دیہی علاقہ ہے یہ
بستی ہندہرے کے نام سے منسوب مقبروں کی وجہ شہرت ہے۔

قدیم آثار قدیمہ

ڈیرہ اسماعیل خان میں ملتان روڈ پر 46 کلومیٹر کے فاصلے پر جھاڑیوں میں چھپے 8 ایکڑ پر پھیلا 700 سو سال پرانا یہ قبرستان اور لال
ماہڑہ کے قدیمی آثار قدیمہ ہیں۔ ہندہرے کے نام سے منسوب مقبروں کو محقیقن اور مورخین کے مطابق 7 سو سال قبل خلجیوں
نے دریائے سندھ کے مغربی کنارے کو منگولوں کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لئے یہاں ملٹری بیس بنایا تھا۔
12 صدی کے دوران ہونے والی جنگوں میں یہاں سیکڑوں فوجی آفیسرز اور جوان شہید ہوئے۔ یہاں قبرستان بنایا گیا اس میں 12
مقبرے قائم کئے گئے۔ جن کا تعلق شاہی خاندان سے کوئی نسبت تھی ان کو باقاعدہ مقبروں میں دفن کیا گیا. باقی فوجی تھے یہ
قبرستان ان کی کہانی بیان کر رہا ہے۔

قبرستان پر کس کا قبضہ ہے؟

پتلی رنگ دار اینٹوں سے موزن 4 مقبروں کی 35 قبروں اور قریبی قبرستان کے سیکڑوں مدفن کون ہیں؟
اس بارے میں کئی تحقیقاتی مکالمے موجود ہیں۔ 12 مقبروں میں سے 8 مقبرے مکمل طور پر زمین بوس ہو گئے اب 4 مقبرے
خستہ حالت میں موجود ہیں جن کے گنبد منہدم ہو چکے ہیں.

محقیقن کے مطابق 700 سال تک محفوظ رہے جانے والے آثار قدیمہ کو نئی آبادیوں اور قبضہ مافیاں کا سامنا ہے جس کی بڑی وجہ
محکمہ مال میں اس کا غلط اندراج بھی بتایا جاتا ہے۔

داستان شہداء پولیس ڈیرہ اسماعیل خان

1972 میں محکمہ آثار قدیمہ نے اس قدیمی ورثے کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ 1978 میں یہ گر چکے تھے ان کی حالت بہت خستہ ہو
چکی تھی تاہم محکمہ آثار قدیمہ خیبر پختوانخوا کے حکام نے ہندیرے ان قدیمی آثار قدیمہ کو اس حد تک تو محفوظ کر لیا ہے کہ آج ان کی
خستہ حالی کافی حد تک کم ہو گئی ہے۔
انڈس ہائی وے سے ہندیرے تک 10 سے 12 کلومیٹر کا ٹیڑھا میڑھا دھول سے اٹا اور کیچڑ سے بھرا یہ کچا راستہ یہاں آنے والے
سیاحوں کے لئے دشواری کا باعث ہے صوبائی و ضلعی انتظامیہ اور محکمہ آثار قدیمہ کی غفلت اور منتخب سیاسی نمائندوں کی عدم دلچسپی
کے باعث ڈیرہ کا یہ تاریخی ورثہ وقت کی دھندلکوں کی نذر ہو رہا ہے۔
اگر حکومت انڈس ہائی وے سے ہندیرے تک کچا روڈ کو مین سڑک بنا دے تو ماہڑہ کے قریب 700 سال پرانے مغلیہ دور کے
شہیدوں کے مزارات ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی دلچسپی کا باعث بن سکتے ہیں۔