ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال خانیوال میں بدانتظامی اور ڈاکٹرز کی لاپرواہی

شیئر کریں:

خانیوال سے امین وارثی
ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال خانیوال میں بد انتظامی اور ڈاکٹرز کی لاپرواہی کے معاملات پر ڈپٹی کمشنر کی زیر صدارت اجلاس میں بدمزگی , ڈاکٹر فضل الرحمن اور ڈپٹی کمشنر آغا ظہیر عباس شیرازی کے مابین گالم گلوچ ہونے پر پولیس طلب, ڈپٹی کمشنر نے ڈاکٹر پر اپنے سیکورٹی گارڈ کے ذریعے تشدد کرایا احتجاج کریں گے سی ای او ہیلتھ خانیوال ڈاکٹرعبدالجمید بھٹی کا مؤقف, ڈی ایچ کیو ہسپتال میں کئی ہفتوں سے مختلف مسائل ہیں جس پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر سے باز پرس کی تو وہ بدتمیزی کرنے لگا جس پر مجھے پولیس بلانا پڑی, ڈپٹی کمشنر کا مؤقف۔


تفصیل کے مطابق ہفتہ کی شام ڈپٹی کمشنر خانیوال آغا ظہیر عباس شیرازی کی زیر صدارت ڈپٹی کمشنر آفس میں ڈی ایچ کیو ہسپتال میں بد انتظامی اور علاج معالجے میں ڈاکٹروں کی لاپرواہی کے معاملات پر اجلاس بلایا گیا جب ڈپٹی کمشنر آغا ظہیر عباس شیرازی نے پوچھا کہ ایک ماہ سے ای سی جی مشین کیوں خراب ہے ؟ ہڈی جوڑ وارڈ کے ڈاکٹرز مریضوں کا علاج کرنے کی بجائے انھیں اپنے پرائیویٹ ہسپتالوں سے علاج کی ترغیب کیوں دیتے ہیں ؟ ڈینگی وارڈ کے حالات خراب کیوں ہیں ؟ ادویات دستیاب کیوں نہیں ہوتیں ؟ ان سوالات کا جواب دینے کی بجائے مبینہ طور پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر فضل الرحمن غصے میں آ گئے اور ڈپٹی کمشنر کو گالی نکالی جس پر ردعمل میں ڈپٹی کمشنر نے اپنے سیکورٹی گارڈز کو اجلاس میں بلا کر ڈاکٹر کو سمجھانے کا کہا لیکن وہ اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے۔

معلوم ہوا ہے کہ سیکورٹی گارڈز نے محکمہ صحت کے ایک اہلکار کو تشدد کا نشانہ بنایا, بعد ازاں سی ای او ہیلتھ خانیوال ڈاکٹر عبدالمجید کے دفتر میں ڈاکٹرز اکٹھے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ ہم احتجاج کرتے ہیں ڈپٹی کمشنر نے ڈاکٹر فضل الرحمن پر پولیس کے ذریعے تشدد کرایا ہے. جبکہ ڈپٹی کمشنر آغا ظہیر عباس شیرازی کا مؤقف ہے کہ وہ کسی صورت ڈاکٹرز کی کرپٹ پریکٹسز کو برداشت نہیں کریں گے اور ذمہ داران کے خلاف انضباطی کارروائی کریں گے حکومت پنجاب کے ویژن کے مطابق عوام کو صحت کی بہترین سہولیات فراہم کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے۔


شیئر کریں: