ڈراموں میں خواتین ہی کیوں توجہ کا مرکز ہوتی ہیں؟

شیئر کریں:

تحریر بتول فاطمہ

کہا جارہا ہے کہ ترکی کے ڈرامے ارطغرل غازی دیکھنا سب چھوڑ دیں۔
اپنے پاکستان کے ڈرامے دیکھیں بالکل ایسا ہی ہونا چاہیے اور اپنی چیزوں کو فروغ دینا بنتا بھی ہے۔
میں نے بالکل ایسا ہی کیا اور بچوں کو بھی کہا سب پاکستانی ڈرامے دیکھنے بیٹھ گئے۔
انٹرٹینمنٹ کا یک چینل پھر دوسرا اور تیسرا چینل لگایا لیکن کوئی ڈرامہ ایسا نہیں لگا
جسے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھا جاسکے۔

ہم انٹرٹینمنٹ

سب سے پہلے بات کرتے ہیں ہم انٹرٹینمنٹ کی، میں نے ہم لگالیا اور دیکھنا شروع کیا۔
ڈرامہ “دلربا” تھوڑی دیر دیکھا تو معلوم ہوا ایک لڑکی کئی لڑکوں کے ساتھ چکر چلا رہی ہے۔
گھر والوں سے جھوٹ بول کر باہر لڑکوں کے ساتھ رنگ ریلیاں مناتی پھرتی ہے۔

تحفے تحائف لے کر گھرآرہی ہے لیکن گھر والے پوچھنا تک گوارا نہیں کرتے کہ یہ اتنی قیمتی چیزیں کہاں سے لارہی ہے؟
اسی “ہم چینل” پر بہت ہی ہٹ ڈرامہ چل رہا ہے “پیار کے صدقے” اس میں سسر بہو پہ فدا ہو چکے ہیں۔
بیٹے کو سمجھاتے ہیں کے بیوی سے دور رہنا اور اس کو دوسری لڑکی کی طرف ایسا راغب
کرتے ہیں کہ وہ دوسری شادی کر رہا ہے۔

لیکن وہ اپنی بیوی کو نہیں چھوڑے گا جو سسر کے لیے ناگوار ہے وہ تو بس یہ چاہتا ہے کہ بیٹا اپنی بیوی
کو چھوڑ دے اور میں اس سے بیاہ رچا لوں۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس چینل پر زیادہ تر ڈرامے خواتین پر ہی کیوں بنائے جاتے ہیں؟

اے آر وائی

اب ذرا “اے آر وائی” لگایا تو اس کی بھی بہت شہرت سنی۔
ڈرامہ “جَلن” کی اب اس میں نئی کہانی ہے کہ بہن اپنی بہن کے شوہر یعنی اپنے بہنوئی کو دل دے بیٹھی۔


اور اس کے پیچھے لگی ہوئی ہے کہ اس کی بہن کو طلاق دے کر میرے سے شادی کرو۔
اس کے قطہ نظر کہ منگنی پہلی قسط میں ہی کزن کے ساتھ ہو چکی اور شادی ہونے والی ہے لیکن وہ بہن
کا گھر برباد کرنے میں لگی ہوئی ہے۔

اب اسی چینل کا ایک اور ڈرامہ سیریل “عشقیہ” دیکھیں جس میں دو بہنوں کی شادی ایک ساتھ ہوئی۔
اس ڈرامہ میں بہنوی اپنی سالی کا گھر برباد کرنے میں لگا ہوا ہے۔

جیو ٹی وی

ہم اور اے آر وائی کے بعد میں نے جیو کا رخ کیا۔
جیو چینل کا ڈرامہ “دیوانگی” دیکھا تو اس میں باس جس لڑکی پر فدا ہیں وہ ان کے ملازم کی بیوی ہے۔


اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب ہمارا اسلامی جمہوریہ پاکستان کا کلچر ہے؟
یا یہ کہوں کہ ان ڈراموں کے رائیٹرز، پروڈیوسر اور ڈائریکٹرز کیا اپنے گھروں کا کلچر ہمیں دیکھا رہے ہیں؟

پاکستان میں تو اپنی اتنی بے راہ روی نہیں، رشتوں کا تقدس اور احترام اب بھی اسی طرح ہے۔
کیا ہم اپنی ماں، بہن، بیٹی، بیوی اور بہو کے ساتھ ایسے ڈرامے دیکھ سکتے ہیں؟
سب ایک دوسرے سے نظر چرا کر دوسرا چینل لگاتے ہیں تو وہاں بھی ایسا ہی کچھ چل رہا ہوتا ہے۔

ہماری نوجوان نسل کو ان پرائیویٹ چینلز نے تباہی کے دہانے پہ لا کھڑا کر دیا ہے۔
ایسے میں ہمارے علما کرام، وزارت مذہبی امور، اسلامی نظریاتی کونسل اور معاشرے کے
باشعور طپقہ کی خاموشی بھی معنی خیز ہے۔
ایک وقت تھا جب پی ٹی وی کے ڈرامے ماں، بیٹی، بہو اور خاندان کے سب افراد ایک ساتھ ڈرامہ دیکھا کرتے تھے۔

کبھی بھی بھائی یا والد بچوں بچیوں سے نگاہیں نہیں چراتے تھے لیکن آج صورت حال بالکل اس کے برعکس ہے۔
کہیں ایسا تو نہیں کہ اے آر وائی، ہم اور جیو یا دوسرے چینلزغیرملکی ایجنڈے پر تو کام نہیں کر رہے؟

خواتین کو جس طرح ڈراموں میں پیش کیا جارہا ہے ایسا تو کسی بھی پست معاشرے میں نہیں ہوتا
ہو گا جیسا پاکستان میں کیا جارہا ہے۔


شیئر کریں: