ڈاؤ یونیورسٹی کے 2 پروجیکٹس کےلیے 400 ملین روپے دینے کا اعلان

شیئر کریں:

وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے زیر انتظام سندھ انفیکشیس
ڈیز اسپتال نیپا چورنگی کا دورہ کیا اور مریضوں سے ملاقات کی۔

اس موقع پر ان کے ہمراہ ڈاؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی اور اسپتال کا
عملہ بھی موجود تھا۔
وزیراعلی نے اسپتال کی کارکردگی اور مریضوں کو دی جانے والی سہولتوں پر اطمینان کا اظہار کیا اور
اسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ مریضوں کو علاج کی ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے۔

اس ضمن میں حکومت ڈاو یونیورسٹی سے مکمل معاونت کرے گی مریضوں کے علاج میں کوئی کسر
اٹھا نہ رکھی جائے۔
اس سے پہلے وزیر اعلی سندھ نے ڈاو یونیورسٹی اوجھا کیمپس میں ڈاو بائیو فارما سیوٹیکل مینو
فیکچرنگ فیسیلٹی اور ڈاو ریسرچ اینڈ ڈائیگناسٹکس کمپلیکس کے افتتاح کے بعد خطاب میں یونیورسٹی
کے دو مختلف پرجیکٹس کے لیے چالیس کروڑ روپے کی گرانٹ دینے کا اعلان کیا۔
تقریب میں موجود سیکریٹری ہیلتھ سندھ ڈاکٹر کاظم حسین جتوئی کو ہدایت کی اس ضمن میں
کاغزی کارروائی مکمل کرکے پیش کریں تاکہ کابینہ کی منظوری کے بعد اس پر عمل درآمد کے تقاضے
پورے کیے جائیں۔

وزیراعلی نے کہا کہ اس وقت حائل مالی مشکلات کے باعث چار سو ملین روپے کی رقم ایک مشکل ہدف ہے لیکن ڈاؤ یونیورسٹی دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی طرح ایک طبی تعلیمی ادارے کی طرز پر بہترین انداز میں کام کر رہی ہے اس کے کام کو جاری رہنا چاہیے مالی مشکلات کے باعث کہیں یہ کام رک نہ جائے اس لئے مطلوبہ رقم معینہ مدت میں فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔
ڈاؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی نے کہا کہ خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ڈاؤ یونیورسٹی نے سانپ کے زہر کا علاج اور کتے کے کاٹے کی ویکسین بنانے کے پروجیکٹ پر اپنے وسائل سے 500 ملین روپے خرچ کر دیے ہیں۔
سانپ کے زہر کی ویکسین پاکستان میں این آئی ایچ اسلام آباد کے بعد ڈاؤ یونیورسٹی میں تیار ہو سکتی ہے جبکہ یہ ملکی سطح پر کروڑوں روپے خرچ کرکے درآمد کی جاتی ہے۔
اس لیے ہمیں اس کی پیداواری گنجائش بڑھانا ہوگی جس کے لئے سو ملین روپے کی ضرورت ہے وہ فراہم کرنے کی درخواست ہے۔ پروفیسر سعید قریشی نے کہا کہ سیرو بایولوجی بلڈنگ کی چوتھی منزل پر جینیٹک جنیومک زیر تعمیر ہے۔
درکارجدید مشینری کی درآمد کے لیے ٹینڈر دیے جاچکے ہیں ہایئر ایجوکیشن کمیشن نے اس سلسلے میں مالی معاونت فراہم کی ہے اس کےعلاوہ ہمیں خون کے اجزاء سے تیار ہونے والی دواؤں کی تیاری کا لائسنس بھی مل چکا ہے۔
انسانی جان بچانے میں استعمال ہونے والی ان دواؤں کی تیاری کے لیے پیداواری سہولت بڑھا ناہوگی اس کے لیے تین سو ملین روپے کی ضرورت ہے جس کی فراہمی کے لئے آپ سے درخواست ہے۔
انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت حکومت سندھ کی مالی معاونت سے ڈاؤ یونیورسٹی میں ٹراما سینٹر کی تعمیر مکمل ہوچکی ہے جو جلد ہی کام کا آغاز کر دے گا شہر کے شمالی اور مشرقی علاقوں کے لوگوں کو قریب ترین فوری طبی سہولت اس ٹراما سینٹر میں دستیاب ہوگی۔


شیئر کریں: