ڈاؤ یونیورسٹی نے پہلا بائیو نک آرم تیار کرلیا

ڈاؤ یونیورسٹی نے پہلا بائیو نک آرم تیار کرلیا

ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نے ایک اور سنگ میل عبور کر لیا۔ پاکستان میں پہلی مرتبہ بائیو نک آرم متعارف کرادیا۔
غریب اور متوسط طبقے کےلیےکم قیمت پر مصنوعی اعضاء فراہم کیے جائیں گے۔
وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی نے اوجھا کیپمس میں ڈاؤ یونٹ فار آرٹیفیشل لمب (ڈوول )کا رسمی طور پر فیتہ کاٹ
کر افتتاح کیا اس موقع پر ڈول کے ڈائریکٹر فرحان اسحاق ،اوصاف احمد ایڈیشنل ڈائریکٹر ہیومن ریسورسز پیر مدثر علی شاہ،
سیکیورٹی انچارج رستم زمان، پروفیسر فیصل یامین پروفیسر عتیق الرحمن اور دیگر بھی موجود تھے۔
ڈاؤ یونیورسٹی نے پہلا بائیو نک آرم تیار کرلیا
پروفیسر محمد سعید قریشی نے اس موقع پر کہا کہ ڈاؤ یونیورسٹی روز اول سے غریب اور متوسط طبقے کے لوگوں کے لیے رعایتی
قیمتوں پر تشخیص و علاج میں معاونت کر رہی ہے ڈوول کے قیام کے پس منظر میں بھی یہی مقاصد کار فرما ہیں”
ڈوول” کے ذریعے نیورو ڈس ارڈر، آرتھوپیڈک یا کسی اور وجہ سے اپنے اعضا سے محروم افراد کو مصنوعی اعضاء فراہم
کیے جائیں گے۔
ڈوول کے فوکل پرسن ڈاکٹر اوصاف احمد نے بتایا کہ ڈاؤ یونیورسٹی نے پاکستان میں پہلی مرتبہ بائیو نک آرم لگانے کا
سلسلہ شروع کیا ہے اس سلسلے میں تمام انتظامات مکمل ہیں بایونک آرم سے وہ تمام امور انجام دیے جا سکیں گے
جو اصل بازو سے دیے جاتے ہیں۔ اس کا یہ اتنا حساس اور باریک کام کرنے کا عادی ہے کہ اس سے سوئی میں
دھاگا بھی پرویا جا سکتا ہے۔