چین میں 350پاکستانی لڑکیوں سے زبردستی جسم فروشی کرانے کا انکشاف

شیئر کریں:

شادی کی آڑ میں چین میں انسانی اسمگلنگ اورجسم فروشی کا نیا اسکینڈل سامنے آگیا۔

چینی باشندے کے چنگل سے بچ کر آنے والی متاثرہ پاکستانی لڑکی سنبل نے ہوشربا انکشافات کئے۔ متاثرہ لڑکی سنبل نے تھانہ روات میں مقدمہ درج کرایا ہے

چینی سفارتخانے نے 90 دلہنوں کے ویزے روک لئے

جس میں موقف اختیار کیا ہے کہ ان کے والدین نے اس کی شادی زبردستی چینی شہری یانگ پنگ سے کروائی۔

متاثرہ لڑکی نے بتایا کہ یانگ پنگ نے 2 ماہ اسے بحریہ ٹاون میں رکھا تھا .اس کے بعد اسے چین لے گیا اور ایک ہوٹل میں قیام کیا۔ اس دوران یانگ نے اسے زبردستی جسم فروشی کے دھندے میں لگا دیا۔

جعلی شادیاں کرانے والا چینی گروہ گرفتار

شراب پلا کر اور انجیکشن لگا کر مختلف ممالک کے مردوں کے ساتھ جسم فروشی کروایا کرتا تھا ۔

چینی شہری اسے مردار چیزیں کھلاتا تھا اور 24 گھنٹے جسم فروشی پر مجبور کرتا تھا.

پاسپورٹ میں غلطی کی وجہ سے سنبل واپس پاکستان آگئی اور چینی شہری کے چنگل سے نکل کر تھانہ روات پہنچ گئی۔

زبردستی شادی کرانے پر پاکستانی جوڑے کو برمنگھم میں سزا

سنبل نے بتایا کہ چین میں اس وقت تقریبا ساڑھے تین سو لڑکیاں موجود ہیں جن سے جسم فروشی کا دھندہ کروایا جارہا ہے۔

زیادہ تر لڑکیاں منگورہ، بٹ خیلہ، صوابی، ڈاگے اور ملحقہ علاقوں سے ہیں۔14فروری کو مزید 9 لڑکیاں چین لے جائی جارہی ہیں۔

پولیس نے متاثرہ لڑکی کے والدین کو گرفتار کرکے تفتیش شروع کردی۔


شیئر کریں: