چوہدری شجاعت نے نواز شریف سے کیا مطالبہ کیا؟

پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں محمد نواز شریف اور پاکستان مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کی ڈیڑھ
دہائی بعد ہونے والی 40 منٹ کی اس اہم ترین ملاقات میں کیا ہوا خبروالے نے پتا لگا لیا ہے.
ذرائع نے بتایا ہے کہ مسلم لیگ ق نے مسلم لیگ ن سے پنجاب میں بھرپور حصہ مانگ لیا ہے. مسلم لیگ ق نے پنجاب
بھر سے قومی اسمبلی کی 10 سے زائد اور صوبائی اسمبلی کی 22 نشستیں مانگی ہیں.
مسلم لیگ ق نے اپنے گڑھ گجرات، سیالکوٹ، منڈی بہاؤ الدین اور حافظ آباد میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی پیش کش کر دی ہے.
چوہدری شجاعت نے نواز شریف سے کہا 2018 میں جہاں سے مسلم لیگ ق کے امیدوار کامیاب ہوئے تھے وہ نشستیں
دوبارہ ہمیں دی جائیں. ہم نے تحریک عدم اعتماد میں بنا کسی خوف و لالچ پی ڈی ایم کا ساتھ دیا. اب ہمیں اسی حساب سے
ہمارا جائز حصہ دیا جائے.

نوازشریف کی چوہدری شجاعت سے 15 سال بعد ملاقات

چوہدری شجاعت حسین نے یہ بھی کہا مسلم لیگ ن کو ہمیں زیادہ سے زیادہ جگہ دینی چاہیے. ہم مل جل کر پنجاب میں پی ٹی آئی،
پیپلزپارٹی اور آئی پی پی کا مقابلہ کر سکتے ہیں. مسلم لیگ کا ووٹ ن یا ق کے چکر میں ضائع نہیں ہونا چاہیئے مل کر چلنے میں
برکت ہو گی.
پی ڈی ایم کا ساتھ دینے پر ہمارے خاندان میں ہھوٹ تک پڑ گئی تھی لیکن ہمیں اپنے سیاسی و خاندانی فیصلے پر افسوس نہیں.
ہم آج بھی اپنے اس فیصلے پر مطمئن ہیں.
سیٹ ایڈجسٹمنٹ والے کےاضلاع کے علاوہ قومی اسمبلی کے ن لیگی امیدواروں کے نیچے مسلم لیگ ق کے امیدواروں
کو صوبائی نشستوں پر نامزدگی کی تجویز بھی دی گئی.
چوہدری شجاعت نے کہا مسلم لیگ ق کی جانب سے ضلع بہاولپور سے طارق بشیر چیمہ کی نشست پر زیادہ زور دیا. طارق بشیر چیمہ
کے حلقے میں دونوں صوبائی امیدوار بھی ہمارے ہی ہوں.

نواز شریف نے فی الحال چوہدری شجاعت حسین کی تجاویز و مطالبات پر کوئی ردعمل دینے سے گریز کیا. نواز شریف نے سارے
معاملات پر دونوں پارٹیوں کی مشترکہ کمیٹی بنانے کی تجویز دی. مشترکہ کمیٹی چند روز میں تشکیل دی جائے گی.
نواز شریف آخری مرتبہ 2009 میں چوہدری شجاعت کی والدہ کی وفات پر تعزیت کے لئے ظہور پیلس گئے تھے. اسی طرح‌نواز
شریف نے اپریل 2022 میں تحریک عدم اعتماد اور پی ڈی ایم حکومت میں ساتھ دینے پر مسلم لیگ ق کا شکریہ ادا کیا تھا.