پی ڈی ایم کا گلگت بلتستان میں انتخابی دھاندلیوں کے خلاف وائٹ پیپر جاری کرنے کا فیصلہ

شیئر کریں:

گلگت سے امتیاز علی تاج

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ گلگت بلتستان شاخ کا پہلا اجلاس گلگت میں منعقد کیا گیا۔
اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ ن،پیپلز پارٹی،جے یوآئی ف اور بی این ایف سمیت دیگر سیاسی
جماعتوں کے قائدین شریک ہوئے۔
اجلاس میں سابق وزیراعلی و صوبائی صدر مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن،پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صدر امجد حسین ایڈووکیٹ،جمیعت علمائے اسلام گلگت بلتستان کے امیر مولانا عطاء اللہ شہاب، بی این ایف کی جانب سے شفقت انقلابی، مسلم لیگ ن کے نومنتخب رکن اسمبلی انجنئیر محمد انور خان اور جے یو آئی کے نومنتخب رکن اسمبلی رحمت خالق و دیگر سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے حالیہ انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ وفاقی حکومت کے حکم پر وفاقی وزراء ، گورنر گلگت بلتستان، چیف سیکریٹری، سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری قانون سمیت تمام ریاستی مشینری کو جھونکا گیا۔

گلگت بلتستان الیکشن میں مبینہ دھاندلی پر مظاہرے شروع

چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان ایک آلہ کار کے طور پر وفاقی حکومت اور تحریک انصاف کٹھ پتلی کے طور پر اپنی آئینی اور قانونی اختیارات کو یکطرفہ غیرقانونی طور پر انتخابات پر اثرانداز ہوئے۔
واضح ثبوت گلگت بلتستان کے بیشتر حلقوں میں انتظامی آفیسروں کو بطور ریٹرننگ آفیسر تعیناتی کی گئی۔
جہاں ایک طرف انتظامی آفسران وفاقی وزراء کو دن کی روشنی میں پروٹوکول دیتے رہے اور رات کو گورنر آفس میں ریٹرنگ آفیسر کی زمہ داریاں گنڈاپور اور گورنر کے ہدایت کے مطابق ریٹرنگ آفسیر کا کردار ادا کرتے رہے۔
اعلی عدالتوں کی جانب سے واضح حکم کے باوجود وفاقی وزراء اور وزیراعظم کا گلگت بلتستان دورہ اور وفاقی وزراء کا ضابطہ اخلاق جاری کردہ چیف الیکشن کمشنر کو از خود چیف الیکشن کی جانب سے مکمل خاموشی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ تمام ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیاں مل کے کے گئیں۔


اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ گلگت بلتستان میں عوام کا مینڈیٹ، گلگت بلتستان میں آذاد عدلیہ،انتظامی و بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے مشترکہ و متفقہ طور پر عملی جدوجہد کی جائے گی۔
پری پول ریگنگ اور آفٹر پول ریگنگ اور دوران الیکشن وفاقی وزیر علی امین گنڈاپور، گورنر گلگت بلتستان،چیف الیکشن کمشنر اور چیف سیکریٹری کے کردار پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں چیف الیکشن کمشنر و انتظامی سربراہان کی مکمل جانبداری پر غور و خوص کے بعد الیکشن نتائج کو مسترد کرنے پر اتفاق ہوا۔دوران اجلاس حلقہ 2 گلگت 2 کے حوالے سے پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) کے درخواستوں پر چیف الیکشن کمشنر نے سماعت کرنی تھی۔
دوران سماعت چیف الیکشن کمشنر کے رویہ سے معلوم ہوا کہ چیف الیکشن کمشنر پی ٹی آئی کے امیدوار کے حق میں فیصلہ صادر کرنے میں جلدی تھی یہاں تک کہ چیف الیکشن کمشنر نے ریٹرنگ آفیسر کی طرف سے ارسال کردہ پارسل کو فریقین کے سامنے کھولنے کے بجائے پہلے سے کھول کر معاہدہ مابین و فریقین اور ریٹرنگ آفیسر کا لیٹر چیف الیکشن کمشنر کے نام کھلے لفافے میں موجود نہ ہونا اس بات کا واضح ثبوت کہ چیف الیکشن کمشنر،چیف سیکریٹری، سیکریٹری قانون،وفاقی وزیر اور چند وفاقی اداروں کے احکامات کے بعد خوش آمد اور اپنی تنخواہ حلالی کررہے ہیں۔


ان تمام وجوہات اور حقائق کی بناء پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔
چیف الیکشن کمشنر کے حکم پرامن مظاہرین کے اوپر فائرنگ،آنسو گیس اور لاٹھی چارج کیا گیا جس کی وجہ سے مظاہرین متاثر ہوئے اور مشتعل ہوئے اور کئی مظاہرین زخمی ہوئے جس کا یہ اجلاس شدید الفاظ میں مزمت کرتا ہے۔
حلقہ 2 گلگت 2 کے سنگین حالات کے باوجود چیف الیکشن کمشنر نے اس حلقے کے نتائج جاری کرنے کی کوشش کی تو پورے گلگت بلتستان میں پرامن احتجاج کی کال دی جائے گی۔
اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے اتفاق ہوا کہ گلگت بلتستان اسمبلی میں نومنتخب اپوزیشن اراکین کے حلف لینے اور نہ لینے کا فیصلہ آئندہ اجلاس میں کیا جائے۔
الیکشن ایکٹ 2017 سیکشن 104 کے تحت تمام جماعتوں سے خواتین کی مخصوص نشستوں اور ٹیکنوکریٹس ترجیح فہرستیں پارٹی کے مرکزی سربراہوں کے دستخطوں سے 5 اکتوبر 2020 کو چیف الیکشن کمشنر آفس میں جمع کروائی گئی۔
جسے 19 اکتوبر 2020 کو چیف الیکشن کمشنر نے اپنے دستخطوں سے جاری و شائع کیا۔
اجلاس میں متفقہ طور پر وائٹ پیپر جاری کرنے کیلئے سابق وزیر قانون اونگزیب ایڈووکیٹ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی گئی کمیٹی کے ارکان میں سعدیہ دانش سیکریٹری اطلاعات پی پی پی گلگت بلتستان، عابد اقبال ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات جے یو آئی گلگت بلتستان اور مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان کے فوکل پرسن شمس میر ممبران ہوں گے۔


شیئر کریں: