پی ڈی ایم کا پہلا شکار بلوچستان حکومت حکومت بن رہی ہے؟

شیئر کریں:

رپورٹ علیم عثمان

موجودہ سیٹ اپ کو ہلانے کے لئے متحدہ اپوزیشن کو پہلے مرحلے میں بلوچستان میں “تبدیلی”
لانے کی تجویز پیش کر دی گئی ہے۔
ملک کے اس سب سے حساس صوبے میں پی ٹی آئی کی مخلوط حکومت کا آئینی و جمہوری
طریقے سے خاتمہ کیا جائے گا۔

یہ تجویز قبول کرتے ہوئے اس پر عملدرآمد کا فیصلہ کر لیا گیا تو اپوزیشن کے 11 رکنی اتحاد ”
پاکستان ڈیموکریٹک الائنس” (پی ڈی ایم) کی حکومت مخالف تحریک کی حکمت عملی تبدیل
ہوسکتی ہے اور ‘پی ڈی ایم’ کے جلسے بھی بند ہوسکتے ہیں۔

اختر مینگل نے لاہور میں مریم نواز سے ملاقات کیوں کی؟

ذرائع کے مطابق بلوچستان نیشنل پارٹی (ایم) جو وفاق میں پاکستان تحریک انصاف کی مخلوط حکومت
کی حمائت واپس لے چکی ہے اور بطور اتحادی جماعت پی ٹی آئی کی مرکزی حکومت سے علیحدگی کا
عملی مظاہرہ 25 اکتوبر کو کوئٹہ میں ‘پی ڈی ایم ‘ کے جلسہ میں شرکت سے کرچکی ہے۔

اس کے سربراہ سردار اختر مینگل نے یہ تجویز متحدہ اپوزیشن کی سب سے اہم جماعت “نون لیگ”
کی قیادت کو پیش کردی ہے۔

ذرائع کے مطابق “بی این پی (مینگل) کے قائد سابق وزیراعلیٰ بلوچستان سردار اختر مینگل نے اسی پروپوزل
پر ضروری بات چیت کی غرض سے منگل 27 اکتوبر کو خصوصی طور پر لاہور آکر جاتی عمرہ میں
مریم نواز سے ملاقات کی ہے جو اس وقت پاکستان میں عملاً “نون لیگ” کی قیادت کر رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق “بی این پی (مینگل)” کا مؤقف ہے کہ صوبائی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے
ذریعے بلوچستان اسمبلی میں عددی اکثریت کی تبدیلی سے سینیٹ کے الیکشن میں اپوزیشن کی
پوزیشن مضبوط ہوجائے گی۔

وہاں حکومت کی تبدیلی سے نہ صرف وزیراعظم عمران خان کی زیر قیادت پی ٹی آئی کے اقتدار کو
ایک بڑا دھچکا پہنچے گا۔
بلکہ اس حوالے اسٹیبلشمنٹ کی
پسپائی سے مقتدر قوتوں کو مزید دفاعی پوزیشن پر دھکیلا جاسکتا ہے جو بلوچستان پر اپنی گرفت قائم
رکھنے کی بابت سب سے زیادہ حساس ہے۔

مولانا فضل الرحمن مان گئے ہیں

ذرائع کے مطابق سابق وزیراعلیٰ بلوچستان سردار اختر مینگل اس تجویز پر جے یو آئی (ف) کی اعلیٰ
قیادت کو پہلے ہی اعتماد میں لے چکے ہیں۔

مولانا فضل الرحمن کی اختر مینگل مکمل تائید و حمائت حاصل کر چکے ہیں۔
لیکن اس پر عملدرآمد کے لئے درکار “وسائل” کی غرض سے بلوچستان اسمبلی میں محض 2 سیٹیں
رکھنے والی مسلم لیگ (ن) کا “تعاون” مطلوب ہے۔

اسی لئے بی این پی کے سربراہ کو لاہور آکر شریف فیملی کی رہائش گاہ جاتی عمرہ میں مریم نواز
سے “ون آن ون” ملاقات کرنا پڑی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سردار اختر مینگل نے اس ملاقات میں صوبائی اسمبلی کے ممبران کی خرید کے لئے
درکار کئی ارب کا تخمینہ بھی پیش کیا ہے تاکہ مریم نواز لندن میں مقیم اپنے والد اور پارٹی قائد نواز شریف
تک مطلوبہ بجٹ سمیت تفصیلی پروپوزل پر مبنی خصوصی پیغام پہنچا دیں۔

یاد رہے کہ ماضی قریب میں پیپلز پارٹی کے قائد سابق صدر آصف زرداری اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے
بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کی مخلوط حکومت اسی طریقے سے تبدیل کرچکے ہیں۔


شیئر کریں: