پی ڈی ایم کا پشاور میں جلسہ، اپوزیشن اور حکومت آمنے سامنے، حالات خراب ہونے کا خدشہ

شیئر کریں:

رپورٹ عظمت گل

پشاور میں اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کا 22 نومبر کو جلسہ ہونے جارہا ہے۔
خیبر پختونخواہ حکومت نے تاحال پی ڈی ایم کو جلسہ کی اجازت نہیں دی ہے۔

مسلم لیگ کے رہنما امیر مقام کا کہنا ہے کہ انہیں کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں
کیونکہ وہ تو اس حکومت کو مانتے ہی ہیں۔

دوسری جانب حکومت کے ترجمان شوکت پرویز یوسف زئی کا کہنا ہے کہ حالات ایسے
نہیں کہ اپوزیشن کو جلسہ کی اجازت دی جائے۔

کورونا وائرس کی دوسری لہر تیزی سے پھیل رہی ہے اور حکومت پہلے ہی جلسہ جلوس
پر پابندی لگا چکی ہے۔

پولیس کی جانب سے بھی شہر بھر میں مشتبہ افراد کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔
گزشتہ دو ہفتوں سے پورے ضلع میں وسیع پیمانے پر انٹیلی جنس بیسڈ اور سرچ اینڈ
اسٹرائیک آپریشنز کئے گئے ہیں۔

آپریشنز کے دوران ساڑھے چار ہزار مشتبہ اور بغیر قانونی دستاویزات قیام پذیر افراد
کے خلاف کارروائی کی گئی۔

انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران ایک ہزار سے زائد غیر قانونی اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے۔
آپریشنز کا مقصد پشاور کے عوام کے جان و مال کا تحفظ اور شہر کو محفوظ بنانا ہے۔

22 نومبر کے تناظر میں کسی بھی حالات سے نمٹنے کے لئے چار ہزار سے زائد افسران و اہلکار
امن و امان کی ڈیوٹی سر انجام دیں گے۔
حالات پر نظر رکھنے کے لئے خصوصی کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے۔
کنٹرول روم کی مانیٹرنگ ایس ایس پی آپریشنز بذات خود کریں گے۔
اس ضمن میں مختلف ریزرو یونٹس بھی موجود رہیں گے۔


شیئر کریں: