پی پی پی کیسے اپنا کھویا مقام پاسکتی ہے؟

شیئر کریں:

لیل و نہار/ عامر حسینی

کارل مارکس نے کہا تھا سیاست معشیت کا عکس ہوتی ہے۔ پاکستان میں اقربا پرور سرمایہ دارانہ نظام کا نیولبرل معاشی ماڈل نافذ ہے۔ لامحالہ ہماری سیاست بھی اسی ماڈل کا عکس پیش کرتی ہے۔ جب معاشی بحران گہرا ہوتا تو سیاسی بحران بھی گہرا ہوجاتا ہے۔ ایسے میں حکمران طبقات ایک دوسرے سے لڑتے ہوئے بار بار نظام کو بچانے کی بات کرتے ہیں۔

اسلام آباد میں ایوان وزیراعظم اور جی ایچ کیو کے درمیان نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کے مسئلے کو لیکر ایک تناؤ ہے۔ اس تناؤ کو تیز کرنے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد پی ڈی ایم خاصا سرگرم نظر آتا ہے۔ مسلم لیگ نواز کی مرکزی نائب صدر مریم نواز جنھیں نواز لیگ میں فوج کے سیاست میں کردار کے مکمل خاتمے کے بیانیہ کے حامی دھڑے کی سرخیل سمجھا جاتا ہے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر باوجوہ کے ساتھ ہمدردی جتارہی ہیں ۔ ان کو لگتا ہے کہ پاکستان فوج کی وحدت کو خطرہ ایک ایسے وزیراعظم سے ہے جو بقول ان کے “سلیکٹڈ” ہے۔ یہی موقف پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمان کا ہے ۔ لیکن یہاں سوال یہ جنم لیتا ہے کہ مریم نواز اور فضل الرحمان تو عرصہ تین سال سے یہ کہتے آئے ہیں کہ “سلیکٹڈ” کو لانے اور اس سلیکٹڈ کے پیچھے فیصلے کرنے والے “سلیکٹرز” ہیں جن میں وہ سرفہرست موجودہ چیف آف آرمی اسٹاف اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی کا نام لیتے رہے ہیں۔ اگر موجودہ حکومت کے تین سالہ اقتدار میں پالیسی سازی “کہیں اور سے” ہوتی رہی ہے تو پھر اس میں “سلیکٹڈ” کا کردار تو “سہولت کار” سے زیادہ بنتا ہی نہیں ہے۔ ایسے میں موجودہ بحران کے “اصل ذمہ داروں” میں سے کسی ایک کے ساتھ کھڑے ہونے کا مطلب کیا نکلے گا؟

پاکستان میں سرمایہ دارانہ جمہوریت کے نیولبرل ماڈل کے حامی سیاست دان اور جماعتیں جس حقیقت سے صرف نظر کرتی آئی ہیں وہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں مسلح افواج ہوں یا پھر سب سے بڑی طاقتور ایجنسی آئی ایس آئی ہو ان کی سربراہی کا معاملہ ایوان وزیراعظم اور جی ایچ کیو کے درمیان اس وقت نزاع کا سبب بنتا ہے جب ‘ایوان وزیراعظم” ان عہدوں پہ اپنے مفادات کے مطابق آدمی کی تعیناتی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

جی ایچ کیو چیف آف آرمی اسٹاف اور ڈی جی آئی ایس آئی دونوں عہدوں پہ اپنے ادارے کے اس مبینہ کردار کے عین مطابق افراد کو لانا اپنا حق سمجھتا ہے جسے جمہوریت پسند حلقے “غیر آئینی، حدود سے تجاوز” سمجھتے ہیں۔ جی ایچ کیو پاکستان کی داخلی اور خارجی سلامتی اور جیو پالیٹکس میں اپنی سوچ سے مختلف سمت جانے والے کسی سویلین سیاست دان یا سیاسی جماعت کا اقتدار میں رہنا پسند نہیں کرتے۔ لیکن پاکستان کی مین سٹریم سیاسی جماعتیں پارلیمنٹ کو ان معاملات میں بالادست بنانے کی جدوجہد کے دوران کسی نہ کسی موقعہ پہ “کمپرومائز” کرلیتی ہیں۔وہ اسٹبلشمنٹ کے سیاسی کردار کے خاتمے کے خلاف جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچانے کی بجائے خود بھی اقتدار لینے کے لیے اسٹبلشمنٹ سے تعاون مانگنے لگتی ہیں۔

اس وقت اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم میں مسلم لیگ نواز، جے یو آئی ایف کو عسکری اسٹبلشمنٹ کی نہ تو “افغان پالیسی ” سے کوئی اختلاف ہے اور نہ ہی اسے اسٹبلشمنٹ کی پاکستان میں مذہبی عسکریت پسندوں سے معاملات کرنے کی اپروچ سے اختلاف ہے۔ دونوں جماعتیں تحریک لبیک جیسی جماعتوں کو جنم دینے کی اسٹبلشمنٹ کی سوچ کی مخالفت نہیں کرتیں انھیں تو بس یہ اختلاف ہے کہ ان کو نواز لیگ اور اس کے اتحادیوں کو مارجنلائز کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ سندھ میں یہ دونوں جماعتیں جی ڈی اے کو سپورٹ کرتی ہیں تاکہ وہاں پی پی پی کے ہولڈ کو توڑا جائے۔اس وقت انہیں جی ڈی اے کے اسٹبلشمنٹ سے تعلق نظر نہیں آتے۔

پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب میں مسلم لیگ ق سے بہتر تعلقات بنانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتی اور ق لیگ کے اسٹبلشمنٹ نواز ہونے کو نظر انداز کردیتی ہے۔ پاور پالیٹکس میں جہاں کوئی جماعت کمزور ہوتی ہے تو وہ وہاں اپنے جمہوری بیانیہ سے متصادم کیمپ کی سیاسی جماعت سے مل کر اپنی سیاسی جگہ بنانے کی کوشش کرتی ہے۔ پی پی پی پنجاب میں ق لیگ کو آئیندہ انتخابات میں اپنا شریک بنانا چاہتی ہے۔ وہ پی ٹی آئی سے ناراض ایسے بھاری بھر کم سیاسی چہروں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش میں ہے جبکہ یہ چہرے کسی بھی اعتبار سے اینٹی اسٹبلشمنٹ نہیں ہیں اور یہ سلیکٹرز کے اشارے پہ چلتے ہیں۔ یہ 2008ء میں پی پی پی میں تھے،2013ء میں یہ نواز لیگ میں تھے اور پھر دو ہزارہ اٹھارہ میں یہ پی ٹی آئی میں چلے گئے۔ اسٹبلشمنٹ کے پاس چاروں صوبوں میں ایسے بھاری بھرکم سیاست دان اور ان کی بنائی ہوئی سیاسی جماعتیں ہیں جن سے اشتراک مجبوری بن جاتا ہے جب آپ سوائے اقتدار کے حصول سے ہٹ کر “انقلابی” راستا اختیار نہیں کرتے۔ اور سمجھوتے کے راستے میں بار بار اٹھائی جانے والی زلت بھی انھیں کسی سبق کے سیکھنے پہ آمادہ نہیں کرپاتی۔

ذوالفقار علی بھٹو جنرل حسن پیرزادہ، جنرل گل حسن، ائرمارشل رحیم، جنرل راؤ فرمان کے زریعے سے 72ء میں مغربی پاکستان کی سب سے بڑی پارلیمانی جماعت ہونے کو دلیل بناکر سویلین مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنے ۔ انھوں نے ائرمارشل ذوالفقار کی صدارت میں تیار ہونے والی مسلح افواج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں میں اصلاحات رپورٹ کی سفارشات کو نظر انداز کیا اور جنرل ٹکا کو چیف آف آرمی اسٹاف بنایا جس کا نتیجہ 5 جولائی 1977ء میں مارشل لاء کی صورت میں دیکھ لیا اور اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس کے برعکس اگر انہوں نے مغربی پاکستان میں نیپ کے ساتھ دست تعاون بڑھایا ہوتا اور پاکستان میں اسٹبلشمنٹ کے سیاسی کردار کے مکمل خاتمے کے لیے جنرل ذوالفقار رپورٹ کی سفارشات پہ عمل درآمد کیا ہوتا تو شاید منظر نامہ اور ہوتا۔

اسی طرح اگر پاکستان پیپلز پارٹی نے88ء میں افغانستان کے ایشو پہ روسی بلاک اور امریکی بلاک میں جینوا معاہدے کے بعد تبدیل ہونے والی صورت حال کے بعد ایم آر ڈی کو انتخابی اتحاد میں بدل دیا ہوتا اور بجائے عالمی طاقتوں اور ضیاء الحق کی باقیات سے سمجھوتہ کرکے مشروط اقتدار لینے کی بجائے “مکمل بااختیار حکومت” کے حصول کے نعرے کے تحت جدوجہد جاری رکھی ہوتی تو 90ء میں ذلت کے ساتھ اقتدار سے محروم نہ ہونا پڑتا۔

پی پی پی نے 92ء میں اس سے بھی بڑی غلطی کی۔ اس نے پہلی بار جی ایچ کیو کی مدد سے نواز شریف اور اسحاق خان کو فارغ کرایا اور اقتدار لیا۔ ایسا اقتدار جو 1988ء سے بھی کہیں زیادہ کمزور تھا جس میں پی پی پی پنجاب میں اسٹبلشمنٹ کی بنائی جونیجو لیگ کا جونئیر پارٹنر بننا پڑا اور اسے سپاہ صحابہ جیسی فرقہ پرست انتہا پسند جماعت کو اتحادی کے طور پہ قبول کرنا پڑا۔ اسے افغان طالبان ، جہاد کشیمر پراکسی اور تزویراتی گہرائی کی پالیسی کی طرف سے آنکھیں بند کرنا پڑیں اور اس مرتبہ انجام 88ء کے اقتدار کے انجام سے زیادہ برا ہوا۔
جنرل مشرف کی آمریت کے دور میں پی پی پی نے ایک بار پھر عالمی طاقتوں کے دباؤ کے ساتھ اسٹبلشمنٹ کے ساتھ اشتراک میں ایک ہائبرڈ سیٹ اپ کے قیام پہ اتفاق کیا۔اس وقت پی پی پی نے کیا اس بات پہ ہوم ورک کرلیا تھا کہ جی ایچ کیو اور آئی ایس آئی افغانستان کی جنگ میں امریکہ کے اتحادی ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی تزویراتی گہرائی کی پالیسی کو موڈیفائی کرکے جس طرح سے 80ء کی دہائی سے اپنے “تزویراتی” اثاثوں کو بچانے کے منصوبے پہ عمل پیرا تھی اس پالیسی سے ٹکراؤ میں ضیاء الحقی اسٹبلشمنٹ کو کیسے شکست دی جائے گی؟ اسٹبلشمنٹ میں ضیاء الحقی باقیات نے بہت آسانی سے بے نظیر بھٹو کا شکار کیا۔ اور ایک بار پھر اس نے پی پی پی کو پنجاب میں جونیئر پارٹنر بننے پہ مجبور کیا اور اس مرتبہ تو پنجاب میں اور ذلت کا سامنا ہوا، پی پی پی کو نواز لیگ نے پنجاب حکومت سے فارغ کیا تو مرکز میں اسے جے یو آئی، مسلم لیگ ق اور ایم کیو ایم کا سہارا لینا پڑا۔ اور پانچ سال میں اس کے سامنے کیانی، شجاع پاشا ، چودھری افتخار کی ٹرائيکا نواز شریف کے ساتھ مل کر کھڑے ہوگئے۔ جی ایچ کیو اور آئی ایس آئی میں ضیاء الحقی لابی نے اس کے خلاف تحریک طالبان پاکستان، لشکر جھنگوی جیسے اثاثوں کی دہشت گردی کو اتنے برے طریقے سے استعمال کیا کہ ایک طرف تو پی پی پی والے سلمان تاثیر، ملک شہباز بھٹی جیسے بہترین سیاسی کارکنوں سے محروم ہوئے، دوسری طرف اے این پی اپنے 500 بہترین سیاسی کارکنوں سے محروم ہوئی ۔ 2013ء کا الیکشن پی پی پی کو پنجاب ، کے پی کے، بلوچستان سے فارغ کرگیا اور پھر گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سے پی پی پی فارغ ہوئی ۔ ایسے ہی 2013ء سے 2018ء تک پی پی پی تنہا ہی “مفاہمت” کا نعرہ لگاتی رہی اور اس دوران جی ایچ کیو، آئی ایس آئی اور عدلیہ نے “حقیقی اپوزیشن” کے نام پہ پاکستان تحریک انصاف، پاکستان مسلم ق،جی ڈی اے کو لا کھڑا کیا اور پی پی پی “فرینڈلی اپوزیشن” کی تہمت ماتھے پہ سجائے پھری۔ 2018ء کا الیکشن پنجاب، کے پی کے، بلوچستان میں پی پی پی کو بچھاڑ گیا۔

پی پی پی کو 2018ء میں 2008ء سے 2018ء تک کی سیاسی سٹریٹجی پہ تفصیل سے تنقیدی جائزہ لینے کی ضرورت تھی۔ اس کے پاس موقعہ تھا کہ وہ اپنی اصل مزاحمتی سیاسی رنگ کی طرف پلٹتی۔ لیکن اسے پنجاب کی سیاست بارے اپنی پالیسی پہ نظر ثانی کی ضرورت تھی لیکن اس نے ایک بار پھر مسلم لیگ نواز کے ساتھ مل کر چلنے کا فیصلہ کیا۔ اور ایسا اتحاد تشکیل دیا جس میں مسلم لیگ نواز اور اس کی اتحادی جماعتوں کو فیصلہ کن حثیت حاصل تھی۔ مسلم لیگ نواز نے آسانی سے اچکزئی ، حاصل بزنجو، فضل الرحمان، اویس نورانی کی مدد سے فضل الرحمان کو اتحاد کا سربراہ بنایا۔ جنرل سیکرٹری شپ اپنے پاس رکھی اور پی پی پی کو زچ کرنے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ اگر پی پی پی 2018ء کے بعد مسلم لیگ نواز اور اس کی بغل بچہ پارٹیوں سے دور رہتی اور اینٹی اسٹبلشمنٹ تحریک کا خود ڈول ڈالتی تو اسے پی ڈی ایم سے نکلنے اور نواز لیگ کے حامی میڈیا کے ڈیل پروپیگنڈے سے ہونے والی سبکی اٹھانا نہ پڑتی۔

پی پی پی کے پاس اب بھی موقعہ ہے وہ پشتون، بلوچ، سندھی ،گلگت بلتستان، کشمیر میں مزاحمتی سماجی تحریکوں ، محنت کش طبقات کے احتجاجی عناصر اور بے چین کسان اور طالب علم پرتوں کے ساتھ جڑ کر اپنا کھویا ہوا مقام واپس حاصل کرسکتی ہے۔
اسے پنجاب میں مسلم لیگ ق، بلوچستان میں باپ اور سرائیکی بیلٹ میں جیتنے والے گھوڑوں کو ساتھ ملانے پہ توانائیاں صرف کرنے کی بجائے وہاں محنت کشوں اور کسانوں کو متحرک کرنے کی پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے۔ سمجھوتوں اور مفاہمت کی سیاست جی ایچ کیو اور آئی ایس آئی کے اندر بیٹھے ضیاء الحقیوں کی بالادستی کو ہی مستحکم کرے گی اور اس راستے سے ملا اقتدار آخر میں ذلت سے ہمکنار کرے گا۔ سیاست معشیت کا عکس ہوتی ہے پی پی پی اگر عوام دوست سیاست کا احیا چاہتی ہے تو اسے سوشلسٹ راستا اختیار کرنا پڑے گا۔


شیئر کریں: