پی آئی اے کے پائلیٹس اور وزیر جعلی ڈگری والے

شیئر کریں:

تحریر ندیم رضا

پاکستان میں ایک بار پھر سے جعلی ڈگریوں کی گونج سنائی دی ہے۔
اس بار اراکین پارلیمنٹ کے بجائے سرکاری ملازمین کی جعلی ڈگریاں نکلی ہیں۔
وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے پی آئی اے سانحہ کیس کی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کی۔
وفاقی وزیر نے انکشاف کیا ہے کہ پی آئی اے میں 600 پائلیٹ سمیت ملازمین کی ڈگریاں جعلی پائی گئی ہیں۔

کراچی پی آئی اے طیارہ حادثہ کورونا وائرس کی وجہ سے پیش آیا

پاکستان میں تمام ائیرلائنز کے مجموعی طور پر 860 پائلیٹس ہیں ان میں سے 262 سند یافتہ افراد
نے امتحان دیا ہی نہیں اور ان کی جگہ دوسروں نے بیپر پاس کیے۔

اگر یہ صورت حال ہو تو پھر انتہائی حساس نوعیت کے ادارے کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔
وفاقی وزیر کے انکشافات نے تو سی ای او ارشد ملک کی صلاحیتوں پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔

اگر ان کے نیچے اس طرح کے نااہل افراد اہل لوگوں کی جگہ کام کر رہے ہیں تو اس کی زمہ داری
ان ہی پر عائد ہوتی ہے۔

وفاقی وزیر سرور خان نے جعلی ڈگری کا کیس اس بار پھر سے کھول دیا ہے۔
غلام سرور خان خود بھی جعلی ڈپلومہ کیس کا سامنا کر چکے ہیں۔
ان کا کیس بھی سات سال تک چلتا رہا جس سے انہیں اپریل 2019 میں نجات ملی۔

غلام سرور خان نے اپنی سیاست کا آغاز پاکستان پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے کیا۔
1988 کے انتخابات میں اٹک سے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔

پیپلز پارٹی کی حکومت 1990 میں ختم کر دی جاتی ہے، عتاب کی وجہ سے انہوں نے
پیپلز پارٹی سے کنارہ کشی اختیار کی اور پھر نئی جماعتوں کی طرف دیکھا۔

پارٹی تبدیل کی پھر پرویز مشرف دور میں ان کا ستارہ چمکا اور ق لیگ کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی پہنچے۔
یہ وہ دور تھا جب اسمبلی میں بغیر پڑھے لکھوں کا راستہ روکنے کا فیصلہ کیا گیا۔

جعلی ڈگریاں زیادہ کب بنائی گئیں؟

پڑھے لکھے نوجوانوں کی اسمبلی تک رسائی ممکن بنانے کے لیے گریجویشن کی شرط عائد کی گئی۔
مخصوص نشستوں پر سمیرا ملک، زبیدہ جلال، ماروی میمن کشمالہ طارق اور ان کئی نے اسمبلیوں کو رونق بخشی۔

اسی دور میں جعلی ڈگریوں کا کاروبار بھی اپنے انتہا کو پہنچتا ہے کالج، یونی ورسٹی اور مدارس سے سیاستدانوں
نے جعلی ڈگریاں بنوائیں۔

یہی وجہ ہے کہ کئی سیاستدانوں کی ڈگریاں عدالت میں چیلنج بھی کی گئیں اور کئی نااہل بھی ہوئے۔
ان ہی میں وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان اور مراد سعید بھی تھے۔

غلام سرور خان کی گورنمنٹ کالج فیصل آباد کے ڈپلومہ کو 2007 میں چیلنج کر دیا گیا لیکن انہوں نے عدالت سے
اسٹے لے لیا اور نااہلی سے بچ گئے۔

گو کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ان کی ڈگری اور ڈپلومہ دونوں جعلی قرار دیے۔
وقت انہوں نے گزار لیا اور پھر اگلی مرتبہ سپریم کورٹ نے 2013 میں ان کی قومی اسمبلی کی رکنیت معطل کر دی۔
پھر تبدیلی کے سفر میں تحریک انصاف کی ہمنوا ہوئے اور قومی اسمبلی پہنچے۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے جعلی قرار دیے گئے دستاویزات مارچ 2019 میں اصل قرار دے دیے جاتے ہیں۔

اس طرح پرانے پاکستان میں نااہل قرار دیے جانے والے سرور خان نئے پاکستان میں جعلی ڈگری کیس سے
کلین چٹ حاصل کر لیتے ہیں۔

عمران خان کیا کر رہے ہیں؟

 

عمران خان نے غلام سرور خان کو پیٹرولیم کی وزارت دی، ایل پی جی اسکینڈل کے بعد وزارت واپس لے لی گئی۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ انہیں ایک طرف کر دیا جاتا لیکن انتہائی حساس ہوا بازی کی وزارت دے دی گئی۔

نئے پاکستان میں خراب کارکردگی یا کرپشن اسکینڈل کی وجہ سے کابینہ سے باہر کرنے کے بجائے وزرا
کو مزید بہتر وزارتیں دینا کا رواج چل پڑا ہے۔

جیسا کہ گندم اسکینڈل کے بعد خسرو بختیار کو پہلے سے زیادہ بہتر وزارت کا قلم دان دے دیا گیا۔

جس طرح اسمبلی اور ملازمت کے لیے جعلی ڈگریاں بنوائی جاتی ہیں اسی طرح سندھ میں کوٹہ سسٹم
سے فائدہ اٹھانے والے ڈومیسائل اور پی آر سی جعلی بنواتے ہیں۔

اسی فرسودہ نظام کے ذریعے نااہل لوگ اہل افراد کا راستہ کر نہ صرف ان کی حق تلفی کر رہے
ہیں بلکہ ملک کی تعمیر و ترقی کا بھی راستہ روک رہے ہیں۔

اہل افراد پر نااہل لوگوں کو ترجیح دیے جانے تک ملک کا نظام بہتر نہیں ہو سکتا۔

صرف زبانی کلامی مدینہ کی ریاست کے گن گانے سے کچھ ہونے والا نہیں، اس کے لیے عمران خان
کو عملی قدم اٹھانے ہوں گے۔

پی آئی اے کی طرح ہر سرکاری ادارے سے جعلی ڈگری اور دو نمبر دستاویزات بنانے والوں
کے خلاف بھرپور کارروائی کے لیے ایک ٹاسک فورس بنائی جائے۔

گو کہ ملک اس وقت بے شمار بحرانوں میں پھنسا ہوا ہے لیکن عوام عمران خان
سے مایوس نہیں ہوئے انہیں امید ہے ملک و قوم کی تقدیر بدلے گی۔


شیئر کریں: