پیپلزپارٹی سے وابستہ پنجاب کی سیاست کا ماضی حال مستقبل

شیئر کریں:

تحریر عامرحسینی

قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو نے ابتداء میں جن گروپوں کی مشاورت سے نئی پارٹی کی تشکیل کا فیصلہ کیا تھا اُن میں سب سے نمایاں شیخ رشید احمد کا گروپ تھا جو نیشنل عوامی پارٹی بھاشانی گروپ سے ذوالفقار علی بھٹو کی طرف آیا تھا- اس گروپ کی جڑیں پنجاب کے دیہی سماج میں کسان رابطہ کیمٹیوں کی صورت میں قائم تھیں اور شیخ رشید احمد پنجاب کے اکثر اضلاع میں کسانوں کی مقامی ایشوز پہ چلنے والی تحریکوں کے اہم کرداروں سے جڑے ہوئے تھے – ان میں ایک تو درمیانے طبقے اور غریب طبقے کے کسان گھرانوں کے ایسے نوجوان بھی تھے جو لکھ پڑھ کر پروفیشنل مڈل کلاس میں شمار ہوتے جن میں کئی ایک جیوکیل تھے، کئی ایک ڈاکٹر تھے اور کئی ایک انجنییر تھے – پھر ایسے لوگ بھی تھے جو خود درمیانے یا چھوٹے درجے کی زرعی ملکیت کے مالک کے مالک تھے لیکن بائیں بازو سے تعلق ہونے کی وجہ سے ترقی پسند شعور رکھتے تھے اور اپنے چک، گاؤں، موضع میں وہ غریب کسانوں، مزارعوں، کھیت مزدوروں، پیشہ ور زاتوں سے تعلق رکھنے والی دیہی آبادی کے حقوق کے لیے سرگرم تھے – پاکستان پیپلز پارٹی میں نمایاں حثیت حاصل کرنے والے شیخوپورہ سے شیخ رشید احمد، جہلم پوٹھوہار ڈاکٹر غلام حسین، راولپنڈی سے خورشید حسن میر، ملتان (خانیوال) چوہدری برکت اللہ ایڈوکیٹ، ڈاکٹر مجید انور ایڈوکیٹ ، راؤ فرزند علی سمیت سینکڑوں نام لیے جاسکتے ہیں جن کا تعلق پنجاب کے دیہی سماج میں درمیانے، غریب کسان، کھیت مزدور اور نام نہاد نچلی ذاتوں (جو مختلف پیشوں سے وابستہ تھے جنھیں نام نہاد اونچی زات والے اپنی شان کے خلاف سمجھتے تھے) کی سیاست کرنے میں معروف تھے – ان میں کچھ بڑے زمیندار بھی تھے جو اپنے طبقے کے مفاد کی بجائے غریب کسانوں کے مفاد کی بات کرتے تھے – ان سب لوگوں نے پنجاب کے دیہی سماج میں پی پی پی کو منظم کیا، مقبول کیا اور پی پی پی کی 70ء، 77ء میں بہترین جیت کا سبب بھی بنے – پی پی پی نے پنجاب کی ترقی پسند دیہی سیاست سے جڑے رہنماؤں کو 70ء میں حکومت میں کسان اور زراعت سے منسلک حکومتی منصب اور وزراتیں بھی دیں اور پھر صوبہ پنجاب اور وفاقی حکومت میں تعلیم و دیہی ترقی کے ادارے بھی ایسے ہی کسان دوست عوامی منتخب نمائندوں کے حوالے کیے –

زوالفقار علی بھٹو نے 74ء تک پنجاب کے دیہی سماج میں درمیانے، غریب کسانوں، مزارعوں اور رعیت کے سب سے بڑے دشمن ٹولے زمیندار و جاگیردار اشرافیہ کے ایک بڑے حصے کو یہ کہہ کر پارٹی میں آنے کی اجازت دی کہ یہ چار آنے کے ممبر ہیں چار آنے کے رہیں گے لیکن نواب، مخدوم، وٹو، ھراج، نکئی، لالیکے، سید، قریشی، گیلانی جاگیردار و زمیندار اشراف نے حکومتی سرپرستی اور اپنی سماجی طاقت جو کمزور تو ہوئی تھی ختم نہیں ہوئی تھی کو بحال کرکے اپنے سے نچلے طبقات کی سیاست کی نمائندگی کرنے والوں کا پارٹی میں گھیرا تنگ کردیا-

1988ء میں پنجاب کی دیہی سیاست میں ترقی پسند کردار رکھنے والے اکثر ناموں کو پارٹی ٹکٹ ہی نہ ملے اور جن چند کو ملے ان میں سے ایک دو کامیاب ہوئے باقی سب ہار گئے – پنجاب کے دیہی سماج سے پی پی پی کے قومی اور صوبائی حلقوں سے کامیاب ہونے والی بھاری اکثریت انہی جاگیردار اور زمیندار اشراف گھرانوں سے تعلق رکھتی تھی جن کی سیاست کے خلاف 70ء میں دیہی سماج کی غیر جاگیردار پرتوں نے پی پی پی کے غیر جاگیردار سیاست دان منتخب کروائے تھے جن میں سے اکثر پہلی مرتبہ قومی و صوبائی اسمبلی کے رکن بنے تھے –

1990ء، 1993ء ،1997ء کے تین انتخابات میں پی پی پی کے دیہی سماج سے غریب اور بے زمین کسانوں اور کامے دیہاتیوں کی سیاست کرنے والے کسان رہنماؤں کا قومی و صوبائی اسمبلی کی ٹکٹ لسٹ سے خاتمہ ہوگیا-

سن 2008ء کے الیکشن میں بھی پنجاب اسمبلی اور قومی اسمبلی کے جوٹکٹ پی پی پی نے دیے ان میں پنجاب کے دیہی غریبوں کے نمائندوں کا نشان بھی موجود نہیں تھا-

پی پی پی نے بلاشبہ اپنی حکومتوں کے دوران فصلوں کی ریکارڈ سرکاری قیمت مقرر کی، اُس نے زرعی ٹیوب کے لیے بجلی کی قیمت میں اضافہ روکے رکھا اور کئی اقدامات کیے جس کا براہ راست فائدہ پنجاب کے دیہی سماج کو ہوا- اس نے دور دراز اور پسماندہ علاقوں کو بڑے شہر سے جوڑنے کے لیے پلوں اور سڑکوں کے منصوبے بنائے – لیکن پی پی پی کے دیہی سماج کی ترقی کے لیے اٹھائے گئے ان اقدامات کا فائدہ ان جاگیردار اور زمیندار اشرافیہ کے سیاست دانوں کو ہی ہوا جو ان فائدوں کو آگے منتقل کرنے کے لیے لوگوں سے اپنی زاتی وفاداری کا مطالبہ رکھتے تھے – یہی وجہ ہے کہ جب جب اسٹبلشمنٹ مداخلت کی مرتکب ہوئی تب تب وہ زرعی اشرافیہ جنھیں پی پی پی نے ٹکٹ دیے، وفاقی و صوبائی وزیر بنایا وہ فوری طور پہ کنگ پارٹی کی طرف چھلانگ لگا گئے – اور ساتھ ہی درمیانے اور نچلے طبقے کی دیہی گروہوں میں اپنے خالص ذاتی وفاداروں کی فوج ظفر موج بھی پیدا کرلی تو یہ بڑے جاگیردار، زمیندار ، سردار پی پی پی کو تنظیمی اعتبار سے کھوکھلا کرگئے نچلے طبقات کا جو ووٹ پی پی پی سے وفادار تھا اُسے وڈیروں اور جاگیرداروں نے آپس میں بانٹ لیا- نہ پارٹی دیہی کمزروں کے پیچھے کھڑی ہوئی اور دیہی غریبوں کی لیڈر شپ یا تو مر کھپ گئی یا موقعہ پرست ہوکر قبلہ بدل گئی –

آج دیہی پنجاب میں پی پی پی کی قیادت کا سیاسی چہرہ دیہی اشرافیہ کا چہرہ ہی ہے اور یہ دیگر پارٹیوں میں شامل دیہی علاقے کے چہروں سے مختلف نہیں ہے – پی پی پی کا پنجاب کے دیہی سماج میں سب سے بڑا چیلنج دیہی سماج کی درمیانی، نچلی اور کامی پرتوں سے قیادت اوپر لانے کا چیلنج ہے


شیئر کریں: