پیٹرول مارکیٹ میں 10 فیصد مہنگا ہوا حکومت نے 24 فیصد قیمت بڑھا دی

شیئر کریں:

وزیر اعظم اور وزرا پیٹرول کی قیمت میں اضافے کو عالمی مارکیٹ میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو
قرار دے رہے ہیں لیکن حکومت یہ نہیں بتا رہی کہ گزشتہ تین ماہ میں عالمی مارکیٹ میں خام تیل
کی قیمت میں 10 سے 12 فیصد اضافہ ہوا۔
ہم نے پیٹرول کی قیمت میں ساڑھے 24 فیصد اضافہ کر دیا۔ عوام کو 50 سے 55 ارب روپے کا ٹیکا
لگ گیا۔

رواں مالی سال کے دوران اب تک پی ٹی آئی حکومت مجموعی طور پر پیٹرول کی قیمت میں 24.5 فیصد
اضافہ کر چکی ہے۔ جون کے اختتام پر پاکستان میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 110 روپے 69 پیسے تھی
جو اب 137 روپے 79 پیسے ہو چکی ہے۔ ساڑھے تین ماہ میں پیٹرول 27 روپے 10 پیسے فی لیٹر
مہنگا کر دیا گیا۔

عالمی مارکیٹ میں جولائی کے آغاز پر عالمی بینج مارک برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت 76 ڈالر
تھی جو 15 اکتوبر کو84 ڈالر 86 سینٹ تھی۔ اس دوران اگست میں خام تیل کی فی بیرل قیمت 65
ڈالر بھی رہی تاہم جولائی سے اب تک مجموعی طور پر فی بیرل قیمت میں 8 ڈالر 86 سینٹ
یا 11.6 فیصد اضافہ ہوا۔

عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں اضافے کے تناسب سے دیکھا جائے تو پاکستان میں پیٹرول
کی فی لیٹر قیمت میں جون کے مقابلے میں زیادہ سے زیادہ 10 سے 12 روپے کا اضافہ بنتا ہے
لیکن جون کے مقابلے میں پاکستان میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 27 روپے 10 پیسے کا اضافہ کیا
گیا جو 24.5 فیصد بنتا ہے۔

ائل کمپنیز ایڈوائزری کونسل کے مطابق مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان میں پیٹرول کی
کھپت 23 لاکھ 49 ہزار ٹن اور ڈیزل کی 20 لاکھ 98 ہزار ٹن رہی۔ اس کے مطابق تین ماہ میں
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں ضرورت سے زیادہ اضافہ کر کے عوام کو 50 سے 55
ارب روپے کا ٹیکا لگایا


شیئر کریں: