پہلے کورونا مارے گا یا بھوک؟

شیئر کریں:

تحریر امبرین زمان خان

کورونا وائرس سے جہاں لوگوں کے سروں پر موت منڈلا رہی ہے اور اس خوف نے سب کو ایک دوسرے سے کاٹ کر رکھ دیا ہے وہیں ایک طپقہ ایسا بھی ہے جسے کورونا سے زیادہ اپنے بچوں کی بھوک کا خوف مارے جا رہا ہے۔
عوام کا کہنا ہے کہ اب عوامی نمائندے کے روپ میں یہ دو نمبر اور منافق لوگ جب ووٹ کے لیے ان کے گھروں پر آئیں گے تو ان کو بتائیں گے۔
بیش تر لوگ اس وقت ایسے ہیں جن کا کہنا ہے کہ نہیں معلوم وہ پہلے کورونا کا شکار ہوں گے یا بھوک کا؟
چھوٹے شہروں میں جا کر دیکھیں سفید پوش لوگوں کو جن کی دکانیں بند ہو گئی ہیں جو فیکٹریوں میں کام کرتے تھے روزانہ کھانے کا روزانہ کمانے والے لوگ گھروں میں بیٹھ گئے ہیں وہ کیا کریں اور ن لیگ کے لوگ ایسے گھروں میں بیٹھ گئے ہیں کہ شاید یہ آفت تحریک انصاف لایا ہے اور وہ ہی نمٹیں ،نہیں ایسا نہیں ہے ۔یقین کرے کسی چھوٹے علاقے میں ایم این اے ،ایم پی اے یا کوئی انتظامیہ کا بندہ سپرے کرنے کے علاوہ یا علانات کرنے کے علاوہ نظر نہیں آتا کہ غریبوں سے پوچھیں کہ روٹی ہے کھانے کو یا نہیں۔
حکومت کی ٹائیگر فورس 31 مارچ سے کام شروع کرے گی بھی تو چھوٹے شہروں اور علاقوں میں تو پھر بھی کوئی نہیں جائے گا ۔
میرا یہ ایمان ہے جتنا جمع کیا اگر اس میں سے کچھ حصہ لگا بھی دیا غریبوں پر تو کورونا کے ختم ہونے کے بعد اللہ ڈبل کر کے واپس دیں گے۔
حالات سمجھنے چاہیں غریبوں کو کھانا دیں اللہ بہت نوازے گا۔
پاکستان میں چالیس فیصد زائد آبادی غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔
ان میں سے بیشتر افراد ایسے ہیں جنہیں وائرس کا خوف نہیں بلکہ بچوں کے بھوکے رہ جانے کا خوف ستائے جا رہا ہے۔
لاک ڈاؤن کی وجہ سے لاکھوں گھرانے ایسے بھی ہیں جو بچوں کے کھانے پینے کے لئے ترس رہے ہیں۔
موجودہ صورت حال میں ہمیں سینیٹرز، صوبائی و قومی اسمبلی کے اراکین اور مقامی حکومتوں کے نمائندے غائب ہیں۔
الیکشن کے وقت ہر گھر پر انتخابی پرچیوں کی فراہمی یقینی بنانے والوں کو اپنے ووٹرز کی موجودہ صورت حال میں کوئی پروا نہیں۔
ایسے میں عوامی نمائندوں نے خود کو گھروں میں قید کر لیا ہے اور روزآنہ ٹیلی ویژن پر اسکائپ پر بھاشن دیتے رہتے ہیں۔
اس وقت کوئی الگ الگ جماعت نہ بنیں ایک ہو جائیں اور اللہ کے لئے غریبوں کا سہارا بنیں ،ورنہ لوگ کورونا سے نہ مریں تو بھوک سے مر جائیں گے ۔


شیئر کریں: