پکڑ مضبوط پوزیشن مضبوط اپنی مٹی اپنا کھیل

شیئر کریں:

تحریر ممتاز ملک

کبڈی ورلڈ کپ 2020 کا پہلی مرتبہ پاکستان میں منعقد ہونا بہت خوشی کی بات ہے۔

اس سے بھی زیادہ خوشی کی بات یہ ہے کہ پاکستان دس ٹیموں میں سے فائنل میچ اپنے روایتی حریف بھارت کو چارو شانے چت کر کے جیت گیا ہے۔

ورلڈ چیمپئن بننے پر سب کو ہماری طرف سے مبارک باد۔

9 فروری سے 16 فروری تک ہونے والے اس ورلڈ کپ میں دنیا بھر سے دس ممالک کی ٹیموں نے شرکت کی۔

ان ٹیموں میں جرمنی، ایران، سیرا لیون، کینڈا، برطانیہ، انڈیا، آسٹریلیا، کینیا، آزربائجان اور پاکستان شامل تھا۔

آخر کار پاکستان نے ایران کو سیمی فائنل میں اور بھارت نے آسٹریلیا کو شکست دے کر فائنل میں جگہ بنائی۔

24 میچز میں سے 14 لاہور کے پنجاب اسپورٹس گراؤنڈ، آٹھ فیصل آباد اور دو گجرات کے چوہدری ظہور الہی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے۔

پہلی پوزیشن پاکستان، دوسری بھارت اور تیسری پوزیشن ایران کی رہی۔

پاکستان اور بھارت کا فائنل میں پانچویں بار آمنا سامنا تھا پہلے چار مرتبہ انڈیا ہمیں شکست دے چکا ہے۔

ہم نے بھی بہت شوق سے کبڈی دیکھی اور کھیلی ہے میرے شہر کے مایہ ناز کبڈی پلیئرز

ملک ریاض گھلو عرف ریاضو،چوہدری مستقیم راجپوت،چوہدری اللہ ڈیوایا عرف ڈیوا،ملک متھن گھلو ،ملک مداح گھلو عرف مدی
ملک نصرت گھلو ،ملک منیر گھلو عرف پنی شہنشاہ ،ملک ملنگ علی گھلو ،ملک غلام عباس گھلو عرف جمی،ملک منیر گھلو درزی
جناب استاد اللہ وسایا یہ سب معروف کھلاڑی تھے۔

چندربھان نالہ کے مشرقی کنارے پر اکثر چھٹی والے دن شام کے ٹائم کبڈی ہوتی تھی جسے بڑی تعداد میں اہل علاقہ دیکھنے آتے اور خوب جوش اور جذبہ دیکھنے کو ملتا۔

ان کھلاڑیوں کو دیکھ کر ہم بھی کبڈی کھیلتے تھے زیادہ تر ہمارے مقابلے نرالی والہ کی ٹیم سے ہوتے۔

جن میں طاہر حسین، قربان علی، حشمت مہدی اور نادر عباس اچھے کھلاڑی تھے۔

کبڈی میں چند اہم داؤ پیچ جو ہم اپنے بچپن اور لڑکپن میں کھیلتے ہوئے تجربہ سے سیکھے ان میں سب سے اہم فزیکل مضبوطی اور چست و چلاک ہونا اہم شرط ہے۔

اس کے بعد جس ٹیم کی پکڑ کرنے میں مضبوطی ہو گی وہ حریف ٹیم پر دباؤ بنائے رکھے گی کیونکہ کبڈی میں پکڑنا قدرے مشکل ہوتا ہے نسبتأ کبڈی کے لئے مخالف کی طرف جانے سے۔

کبڈی مارنے کےلیے جانے والے کو جھک کر جانا ہوتا ہے اور اپنی نگاہ تیز رکھنی ہوتی ہے۔

مخالف ٹیم پہلے تو آپ کو جھانسے دے کر وقت ضائع کرنے کی کوشش کرتی ہے اور اگر آپ کسی کو ٹچ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر اپنی نلی یعنی بازو اور ٹانگیں مخالف کی پکڑ سے بچائیں تب آپ کامیاب نمبر لے کر واپس پلٹ سکتے ہیں۔

نلی کے ساتھ ساتھ کینچی مارنا جس ٹیم کو آتی ہے وہ کافی بہتر کارکردگی دکھاتی ہے۔

بھارت کے کھلاڑی دونوں طرح سے اچھے تھے کبڈی مارنا تو برابر تھا دونوں کا لیکن پکڑ کرنا ان کا ہمارے کھلاڑیوں سے کافی بہتر تھا۔

ان کے لڑکے کینچی اور جھٹ کے ذریعے ٹانگوں کو جکڑنے کی کوشش کرتے تھے لیکن ہمارے اوپر اوپر ہاتھا پائی کرتے نظر آئے۔

جس کی بدولت ہندوستان پہلے ہاف میں ہم پر چھایا رہا۔

لائن اور ڈبل ٹچ کرنا بھارتیوں کو مہنگا پڑا جس کی بدولت پاکستان سے قدرے مضبوط ٹیم ہونے کے باوجود ہار ان کا مقدر بنی ہے۔

ہمیں خوشی اس بات کی ہے کہ ہم ہاکی، کرکٹ، اسنوکر اور اسکوائش کے ساتھ ساتھ اب کبڈی کے بھی عالمی سلطان بن گئے ہیں جس میں کھلاڑیوں کو سونے کے میڈل سمیت ٹرافی اور ایک کروڑ کی نقد انعامی رقم بھی دی گئی ہے۔

خبر یہ بھی ہے کہ انڈیا ہاتھ ملتا رہا اور بھارتی ٹیم بغیر آفیشل اجازت کے ہمارے ملک پہنچ کر ورلڈ کپ میں شامل ہو گئی جسے جتنا سراہا جائے کم ہے۔

پی ایس ایل 5 کا میلہ سجنے کو چار دن باقی ہیں لیکن یہ کبڈی کا جوش اور جنون پاکستان کے پرامن اور محبت کرنے والی قوم ہونے کا تاثر مضبوط کر گئی ہے بس دعا ہے کہ یونہی وطن کے میدان آباد ہوتے رہیں تاکہ اسپتال خالی ہوتے جائیں۔
انشاءاللہ


شیئر کریں: