پنجاب کے سرکاری اسپتال میں زچہ بچوں کا کوئی حال نہیں

شیئر کریں:

پاکستان میں زچگی کے دوران بہتر سہولتوں کی عدم فراہمی تو مسئلہ ہے ہی لیکن جہاں سرکاری اسپتالوں میں اگر سہولتیں میسر ہیں تو وہاں عملے کا ناروا سلوک ماں یا نومولود کی جان لے لیتا ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ لو دھراں کے ضلعی اسپتال میں پیش آیا جہاں ڈاکٹرز اور عملہ کی عدم توجہ کی وجہ سے تکلیف سے تڑپتی ماں نے خود ہی بچے کو جنم دے دیا۔ اہل خانہ کے مطابق زچگی کے بعد بھی کوئی عملہ قریب نہ آیا۔ نومولود بروقت توجہ نہ ملنے کے باعث ایک گھنٹے میں سم توڑ گیا۔ دنیاپور کے رہائشی محمد وقاص کا کہنا ہے وہ زچگی کیلئے گائنی وارڈ لایا۔ نرس نے اہلیہ کو گولی کھلادی اور کہا چار گھنٹے بعد زچگی ہوگی اس وقت تک عملے کو تنگ نہ کیا جائے ۔میڈیسن کے دو گھنٹے بعد ہی تکلیف شروع ہوگئی۔ بتانے کے باوجود کوئی چیک کرنے نہ آیا اور آخر کار اہلیہ نے بیڈ پربچے کو جنم دیدیا ۔ب پیدائش کے بعد بھی اسٹاف نے بچے کو نہ سنبھالا اور وہ ایک گھنٹے میں اللہ کو پیارا ہوگیا ۔ اہل خانہ نے ہسپتال میں احتجاج کیا اور عملے کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔


شیئر کریں: