پنجاب میں 31 مئی تک چھٹیاں کس نے کروائیں

شیئر کریں:

رپورٹ : علیم عُثمان

حکومت اور مقتدر قوتوں کے درمیان کشیدگی انتہا کو پہنچ گئی ھے ، ملکی سیاست میں فیصلہ کن کردار کی حامل قوتوں نے غیر علانیہ معاملاتِ اپنے ہاتھ میں لے لیے ہیں ، مقتدر حلقوں کی طرف سے 3 اھم حکومتی عہدے داروں کو فوری ہٹانے کا ” مطالبہ ” کیا گیا جبکہ اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کو کورونا وائرس سے پیدا شدہ حالیہ سنگین بحران سے نمٹنے کا ” خاموش مینڈیٹ” مل گیا ھے . .

ذرائع کے مطابق 22 مارچ کو دن کے وقت وزیراعظم کی طرف سے قوم سے خطاب میں لاک ڈاؤن نہ کرنے کی علانیہ ” ضد ” پر انہیں مقتدر حلقوں کے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد صوبائی حکومتوں ، خاص کر پنجاب میں انتظامی معاملات مقتدر قوتوں کو خاموشی کے ساتھ براہ راست ” اپنے ہاتھ ” میں لینا پڑے ہیں  . .

ذرائع کے مطابق وزیراعظم کو بار بار کہا گیا تھا کہ وہ کرونا وائرس سے جنم لینے والی ایمرجنسی کی سنگین صورتحال کے پیش نظر فی الفور ملک بھر میں لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیں جبکہ خیبر پختون خواہ اور پنجاب کی حکومتیں براہ راست وزیر اعظم عمران خان کے کنٹرول میں ہیں لیکن وزیراعظم لاک ڈاؤن نہ کرنے کے فیصلے پر اڑے رہے ، پہلے وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف نے پریس کانفرنس میں دو ٹوک کہا کہ شہروں کو لاک ڈاؤن نہیں کیا جا رہا اور پھر اگلے 48 گھنٹوں کے دوران خود وزیر اعظم نے قوم سے خطاب میں لاک ڈاؤن نہ کرنے کے فیصلے کا اعلان کردیا . .

ذرائع کے مطابق اس کے تھوڑی ہی دیر بعد وڈیو لنک پر کرونا وائرس ایشو کے یک نکاتی ایجنڈے پر ھنگامی کور کمانڈرز کانفرنس میں وزیر اعظم کی ” ہٹ دھرمی ” کا سخت نوٹس لیا گیا اور سویلین لیڈر شپ کے طرز عمل پر شرکاء کی طرف سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ، ذرائع کے مطابق اس کانفرنس میں کہا گیا ” ان سے بار بار پنجاب کے سی ایم کو بدلنے کا کہا گیا مگر مسلسل resist کیا گیا ، اس برطانیہ سے امپورٹ کردہ مشیر سے جان چھڑانے کا کہا تو نہیں مانے ، ان سے کہا گیا اس پرنسپل سیکرٹری کو ہٹا دو جس کے مشوروں سے گورننس کا یہ حال ہو چکا ھے مگر نہیں مانے . . اب اور tolerate نہیں کر سکتے enough is enough (بس بہت ہو چکا) ”

ذرائع کا کہنا ھے متزکرہ کانفرنس کے فوری بعد پرائم منسٹر ہاؤس کو ایک ” سخت ” پیغام بھجوایا گیا اور مقتدر حلقوں نے خاموشی سے معاملات اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے اسی روز پنجاب حکومت کی طرف سے فوری طور پر آرٹیکل 245 کے تحت صوبے میں فوج طلب کئے جانے کی درخواست پر مبنی رسمی چٹھی ڈرافٹ کروائی اور وزیراعظم کی رضامندی نظر انداز کرتے ہوئے صوبے میں لاک ڈاؤن کروا دیا گیا . .

بتایا جاتا ھے اسی پنجاب کے اسکولوں کالجوں سمیت تمام سرکاری و پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں چھٹیاں 31 مئی تک بڑھا دیئے جانے کے جو اعلان 24 مارچ کو کیا گیا ھے ، اس فیصلے کو بھی پرائم منسٹر ہاؤس کی رضامندی حاصل نہیں بلکہ وزیراعظم کی منشاء کے خلاف ” براہ راست.” اس کا اعلان کروایا گیا ہے . .

ذرائع نے بتایا ھے کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار ، پرنسپل سیکرٹری ٹو وزیراعظم اعظم خان اور سمندر پار پاکستانیوں کے امور بارے وزیراعظم کے مشیر زلفی بخاری کو مقتدر حلقوں نے انتہائی ناپسندیدہ شخصیات قرار دیتے ہوئے ان کی فوری ” چھٹی” کروانے کا کہہ دیا ھے .

دوسری طرف کرونا وائرس بارے قومی یک سوئی اور یک جہتی کی غرض سے سیاسی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس کا ٹاسک بھی حکومت سے لے لیا گیا ھے جس نے اس کا initiative لیتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو اپوزیشن جماعتوں سے رابطوں کی ذمہ داری سونپی تھی . بتایا جاتا ہے کہ اب یہ ٹاسک غیر علانیہ طور پر قائد حزب اختلاف شہبازشریف کو سونپ دیا گیا ھے ، جنہوں نے 24 مارچ کو اپنے ایک طرف گلوب اور دوسری جانب قومی پرچم رکھ کے بڑے نپے تلے لفظوں میں وڈیو لنک کے ذریعے ایک ھنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کیا . .

ذرائع کا کہنا ھے کہ اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کو لندن سے ھنگامی طور پر بلوا کر ” فعال ” کرنے کا مقصد ایک طرف تو قومی سطح پر وزیراعظم کے لئے بطور ایک threat استعمال کرنا ھے تو دوسری طرف پہلے مرحلے میں پنجاب کی سطح پر سیاسی تبدیلی لائی جا سکتی ہے جس کے لئے صوبے کے سابق وزیراعلیٰ کا کردار اھم بتایا جاتا ہے .


شیئر کریں: