پرچم کشائی سے محرم کا آغاز کیوں‌ کیا جاتا ہے؟

شیئر کریں:

گو کہ محرم کا چاند دیکھائی دینے سے پہلے ہی سوگواران مظلوم کربلا فرش عزا کی تیاری
شروع کر دیتے ہیں۔ لیکن باقاعدہ طور پر ادھر ماہ محرم کا چاند نمودار ہوتا ہے اس کے ساتھ
ہی دنیا بھر میں مومنین کے گھروں اور امام بارگاہوں پر فرش عزا بچھا دی جاتی ہے۔

ایام غم کا باقاعدہ آغاز کربلائے معلیٰ میں پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ
والیہ وسلم کے نواسے امام امام حسین اور حضرت عباس علیہ السلام کے روضوں پر سرخ
پرچم کی جگہ سیاہ پرچم تبدیل کرکے کیا جاتا ہے۔

خون گرم کردینے والا پرچم تبدیل کا منظر دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے زائرین روضہ امام پر
حاضر ہوتے ہیں۔ ویسے تو امام حسینؑ علیہ السلام کے روضے پر سارا سال سُرخ پرچم لہراتا
ہے ۔ سرخ رنگ اس بات کی نشانی اور علامت ہے کہ معرکا حق وباطل قیامت تک جاری رہے گا۔

آغاز محرم پر روضہ امام حسینؑ پر کالے رنگ کا پرچم لہرانے کا مقصد سوگ کے ایام کا اعلان ہے۔
روضہ امام حسین علیہ السلام کے ساتھ ہی ان کے بھائی اور مختصر ترین فوج کے علمدار حضرت
عباس علیہ السلام کے روضہ کا پرچم بھی تبدیل کیا جاتا ہے۔

صدیوں سے روایت چلی آ رہی ہے کہ ہر سال ایام غم کی ابتدا کے ساتھ ہی کربلائے معلی میں ان
روضوں پرسیاہ علم نصب کر دئیے جاتے ہیں ۔
کربلا میں علم کی تبدیلی کے ساتھ ہی دنیا بھر میں عزا خانوں ،امام بارگاہوں اور عزاداروں کے
گھروں پر نصب علم بھی سرخ سے سیاہ رنگ میں تبدیل کر دیے جاتے ہیں۔ یہ حزن و ملال اور
سوگ کی علامت ہے۔

استقبال محرم کے اعلان “پنج راتا” کی صدیوں پرانی روایت

یہی وجہ ہے کی ایام عزا کے دوران شہر چھوٹے ہوں یا بڑے ، موسم سرد ہو یا گرم، زمین زرخیز
ہو یا صحرا حتی کہ ریگستانوں میں بھی رنج و الم کی داستان سنائی اور دکھائی دیتی ہے۔


شیئر کریں: