پروردگار ڈاکٹر ادیب رضوی کو صحت کے ساتھ طویل عمر دے

شیئر کریں:

ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی بے یار و مددگار مریضوں کی امید اور مسیحا۔
ایب رضوی نا صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر مسیحا کے طور پر جانے اور مانے جاتے ہیں۔

گردوں اور ان سے متعلق امراض کے علاج کے لیے پاکستان کے سب سے بڑے ادارے سندھ
انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن کے سربراہ ڈاکٹر رضوی کی کوششوں سے اب
تک ایک کروڑ سے زائد افراد مستفید ہو چکے ہیں۔

ڈاکٹر ادیب رضوی گیار ستمبر انیس سو 1938 میں کلن پوراترپردیش میں پیدا ہوئے۔
ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی نے ڈاؤ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا اور سرجری کی اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ چلے گئے۔

ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی نے برطانیہ سے واپسی پر سول اسپتال کراچی میں ملازمت اختیار کی۔
ڈاکٹر ادیب نے طب کے شعبے میں گردوں کے علاج کے لیے بہت گراں قدرخدمات انجام دی ہیں۔

سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورالوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن کی بنیاد رکھی، سول اسپتال میں گردے کے
علاج کے لیے 8 بستروں کے وارڈ سے اپنےمشن کا آغاز کیا۔

پھر نوجوان ڈاکٹروں کی ٹیم جمع کر کے وارڈ کو عظیم الشان میڈیکل کمپلیکس میں تبدیل کرنے
اور مریض کا اس کی عزت نفس مجروح کیے بغیر علاج کا آغاز کیا۔

ڈاکٹر ادیب کی شبانہ روز محنت کے نتیجے میں آج سرکاری شعبے میں قائم سندھ انسٹی ٹیوٹ آف
نیورولاجی اور ٹرانسپلانٹیشن کا شمار دنیا کے اعلیٰ میڈیکل انسٹی ٹیوٹس میں ہوتا ہے۔

انسٹی ٹیوٹ کے قیام کے لیے انہوں نے سرکاری گرانٹ کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کو بھی اپنے مشن میں شریک کیا۔
یہ پاکستان کا شائد واحد اسپتال ہے جہاں کسی کی سفارش نہیں چلتی اور سب کو یکساں ترجیح دی جاتی ہے۔
ہر مریض کو اس کی ضرورت کے مطابق وی آئی پی ٹریٹمنٹ کی جاتی ہے وہ بھی بغیر ایک پیسہ خرچ کیے بغیر۔

ڈاکٹر صاحب پر لوگوں کے اعتماد کا یہ عالم تھا کہ سرکاری ادارے میں نجی شعبے کے عطیات کا نہ
رکنے والا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ پوری دنیا میں اپنی مثال آپ بن گیا۔

ڈاکٹر ادیب الحسن کی کوششوں سے بچوں اور بڑوں میں گردے سے متعلق مختلف بیماریوں کی تشخیص
کے لیے الگ الگ او پی ڈی شروع ہوئیں اور الگ الگ آپریشن ہونے لگے۔

اس کے ساتھ ہی گردے کی پتھری کو کچلنے کے لیے لیپسو تھراپی کی مشین جو اپنے وقت کی مہنگی
ترین مشین تھی ایس آئی یو ٹی میں لگ گئی۔

گردے کے مریضوں کیلئے ڈائیلسز مشین بھی اسپتال میں لگائی گئیں یوں ناامید ہونے والے مریض اپنے ناکارہ
گردوں کی بجائے ڈائیلیسزمشین کے ذریعے خون صاف کراکے عام زندگی گزارنے کے قابل ہوئے۔

ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی کی قیادت میں ڈاکٹروں کی ٹیم نے گردے کے ٹرانسپلانٹ کا کامیاب تجربہ کیا۔
انھوں نے ایک تندرست فرد کا گردہ ایک ایسے شخص کو لگایا جس کا گردہ ناکارہ ہوچکا تھا۔

اعداد و شمار کے مطابق ایس آئی یو ٹی میں ہر سال گردے کی پیوندکاری کے کم از کم 544 آپریشن ہوتے ہیں۔

یہ شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور اب لیور ٹرانسپلانٹ کے لیے چین، بھارت اور یورپ جانے والے
مریض بھی ایس آئی یو ٹی کا رخ کرنے لگے ہیں۔

جب 2005 میں آزاد کشمیر میں زلزلہ آیا تو ادیب صاحب اپنی ٹیم کے ہمراہ مظفرآباد اور متاثرہ
علاقوں میں گئے جہاں سیکڑوں مریضوں کے آپریشن کیے گئے اور ایک جدید اسپتال حکومت
آزاد کشمیر کے حوالے کیا گیا۔

ملک میں گزشتہ برسوں کے دوران آنے والے سیلابوں کے دوران پنجاب اور سندھ میں ایس آئی یو ٹی کی
ٹیموں نے مریضوں کی جانیں بچانے کے لیے حیرت انگیز خدمات انجام دیں۔

ایس آئی یو ٹی کے دو سیٹلائٹ اسٹیشن ڈرگ روڈ کینٹ بازار اور اپوا اسپتال ناظم آباد میں کام کر رہے
ہیں جہاں روزانہ مریضوں کاڈائیلاسز کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی کا ایک اور اہم کارنامہ سکھر میں مکمل اسپتال کا قیام ہے۔
ڈاکٹر ادیب الحسن کی ٹیم کے حوصلے بلند ہیں مگر ان عزائم کی تکمیل کے لیے عوام کے تعاون کی ضرورت ہے۔

اور یہ سلسلہ اسی طرح اسی طرح کامیابی کے ساتھ آگے اور آگے بڑھتے رہنا چاہیے۔
پروردگار عالم ادیب رضوی کو قوم کی خدمت کے لیے صحت کے ساتھ طویل عطا فرمائے۔


شیئر کریں: