پاکستان کی جی ڈی پی شرح نمو 52 سال بعد منفی اور مہنگائی بھی زیادہ رہی

شیئر کریں:

کورونا زیادہ نا پھیلا اور بارشوں سے زیادہ نقصان نا ہوا تو رواں مالی سال پاکستان کی اقتصادی ترقی
کی شرح ڈیڑھ سے ڈھائی فیصد تک ہو سکتی ہے۔

گزشتہ مالی سال حکومت کے معاشی اہداف پورے نہیں ہوئے، برآمدات میں کمی، مالیاتی خسارہ
اور مہنگائی ہدف سے زیادہ رہی۔
اسٹیٹ بینک نے گزشتہ مالی سال 20-2019 کی اقتصادی صورت حال کے بارے میں سالانہ رپورٹ جاری کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال اقتصادی صورت حال میں بہتری کے امکانات بڑھ رہے تھے تاہم
کورونا کے باعث جی ڈی پی کی شرح نمو 52 سال بعد منفی ہو گئی۔

اور 4 فیصد کے ہدف کے مقابلے میں منفی صفر اعشاریہ چار فیصد رہی۔
سال کے دوران حکومت کی مجموعی آمدنی ہدف سے 16 فیصد کم رہی قرضوں میں مزید
اضافہ رکارڈ کیا گیا۔

پاکستان کا روپیہ پھر گرا دیا گیا، برطانوی پاؤنڈ 212 روپے سے بھی مہنگا

قرضوں کا تناسب مسلسل دوسرے سال بھی جی ڈی پی کے 100 فیصد سے زیادہ رہا۔
رپورٹ کے مطابق درآمدات میں کمی کے باعث تجارتی اور کرنٹ اکاونٹ خسارہ تو کم ہو گیا لیکن
مالیاتی خسارہ ہدف سے زیادہ ہو گیا۔

حکومت کی طرف سے پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس کی شرح بڑھانے اور پیداوار میں کمی کی وجہ
سے مہنگائی کی شرح 10.7 فیصد تک پہنچ گئی۔

برآمدات میں اضافے کا ہدف 6.2 فیصد رکھا گیا تھا لیکن برآمدات میں اضافے کی بجائے 6.8 فیصد
کمی ریکارڈ کی گئی۔
رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں برآمدات میں کمی ہی رکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال 2021 میں جی ڈی پی نمو ڈیڑھ سے ڈھائی فیصد رہنے اور مہنگائی
کی اوسط شرح 7 سے 9 فیصد رہنے کے اندازے ہیں۔
کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 1 سے 2 فیصد ہونے کا امکان ہے۔


شیئر کریں: