پاکستان کی آزادی کے 75 سال

شیئر کریں:

آج پاکستان کی قوم اپنے عزمِ عالیشان سے مُنسلِک سُنہری تاریخ کی ڈائمنڈ جوبلی منا رہی ہے۔ وہ عَزم
جِس کی بنیاد تحریکِ پاکستان اور اِس سے جُڑی لازوال قُربانیوں سے مُنسلک ہے۔ آزادی لہو کا خراج
مانگتی ہے۔
آزادی کے ان75سالوں میں ہم نے کئی چیلنجز کا سامنا کیا۔ ان گُزرے سالوں میں ہم پر دہشت اور خوف
مُسلط کرنے ہمیں تقسیم اور کمزور کرنے کی بھر پور کوشش کی گئی مگر پاکستانی قوم اور اِس کے
محافظوں دشمن کے سامنے سینہ سَپر رہے۔

Terrorism سےTourism کے اس طویل سفرمیں قوم اور افواجِ پاکستان نے اپنے خُون سے امن کی
ایک لازوال داستان رقم کی ہے۔ جدید سامانِ ضرب و حرب سے لیس ہماری مسلح افواج دفاعِ وطن
کی ضمانت ہیں۔
قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک پاکستانی قوم نے لازوال قربانیاں دے کر وطنِ عزیز کی اپنے خون
سے آبیاری کی ہے۔ پوری قوم نے سیکیورٹی فورسز کے ہمراہ دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ
لڑی جس کا اعتراف اقوامِ عالم نے بھی کیا ہے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک Hard Earned Successہے جس میں 46ہزار سے زائد مربع کلو میٹر
کا علاقہ دہشت گردوں سے خالی کروایا گیا۔ اس دوران 18ہزار سے زائد دہشت گرد مارے گئے 449ٹن
بارودی مواد کو تلف کیا گیا۔

سوات سے دہشت گردی کے خاتمے تک کا مرحلہ ہو یا2005کا زلزلہ،2010کا سیلاب ہو یا سانحہAPSپشاور
فروری2019کی بھارتی جارحیت ہو یا پھر صدی کی مہلک ترین وَبا کرونا، پاکستانی قوم اور افواج
پاکستان نے مل کر ان کا مقابلہ کیا ہے۔
کمانڈر کلبھوشن ہو یا وِنگ کمانڈر ابھی نندن، سر بجیت سنگھ ہو یا چندو بابو لال افواجِ پاکستان نے
دُشمن کی ہر ساز ش کو ناکام بنا کر ہمیشہ قوم کاسر فخر سے بُلند کیا ہے۔
27فروری کا دِن ہماری تاریخ میں ایک اور روشن باب ہے جس پر ہر پاکستانی کو بجا طور پرفخر ہے۔
مسلح افواج نے عِلاقائی امن اور سلامتی کے ساتھ ساتھ عالمی امن کے قیام کے لئے 163قیمتی جانوں کا
نذرانہ پیش کیا جو عالمی امن اور سلامتی کے لئے ہماری کاوشوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
عالمی امن کے لئے شاندار خدمات پر اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے پاکستانی Women Peace Keepersکی
خدمات کو انتہائی متاثر کُن اور قابلِ تقلید قرار دیا ہے۔


سبز ہلالی پرچم میں موجود سفید رنگ اقلیتوں کی نمائندگی کرتا ہے۔قیامِ پاکستان سے لیکر آج تک ہماری
اقلیتی برادری نے وطن کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے۔
وطنِ عزیز کو درپیش ہر کٹھن گھڑی میں یہ صف اول میں اپنے ہم وطنوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں۔
افواجِ پاکستان میں اقلیتی جانثاروں کی ایک طویل فہرست ہے جنہوں نے دِفاع وطن کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔
سر وکٹر ٹرنر، Robert Cornelius، چندو لال، فاسٹن ایلمر،سیسل ایڈورڈ گِبن، جمشید نُسرنجی مہتا کے ساتھ ساتھ، گروپ کیپٹن سیسل چوہدری، رانا بھگوان داس، جگدیش چن آنند، پروفیسر ڈاکٹر بھوانی شنکر چوہدری، ونگ کمانڈرMervyn Middlecoat اور اَنگنت گُمنام ہیروز کو جنہوں نے پاکستان بنانے اور اِس کے دِفاع کے لئے بھر پور کردار ادا کیا۔
پا ک فوج میں ترقی پانے والے لیفٹیننٹ کرنل ڈاکٹر اَنیل کُمار اور لیفٹیننٹ کرنل ڈاکٹر کیلاش کُمار کی مثال دُنیا کے سامنے ہے۔ اہل وطن، بَجا طور پر اَپنے اقلیتی بھائیوں اور بہنوں پر فخر کرتے ہیں۔

کیا یوم آزادی پر صرف جشن، شور شرابا اور روائیتی پروگرام کافی ہیں؟

اس کے ساتھ ساتھ افواجِ پاکستان نے کھیلوں کے میدان میں بھی نمایاں خدمات سر انجام دیں۔
ہاکی کے میدان میں بریگیڈئیر محمد ظہیر اختر نے CISMمقابلوں کے دوران برونز کا تمغہ، نائب صوبیدار محمد عمران نے بھارت اور ڈھاکہ میں 2سونے،2چاندی اور 1کانسی کا تمغہ، نائب صوبیدار رضوان نے بھارت اور ڈھاکہ میں 2سونے اور1چاندی کا تمغہ جبکہ نائیک کاشف علی نے ڈھاکہ میں ساؤتھ ایشن گیمز کے دوران سونے کا تمغہ حاصل کیا۔
باکسنگ کے میدان میں ہانریری کیپٹن ریٹائرڈ برکت حسین اور صوبیدار ریٹائر صفدر حسین نے ایک ایک سونے کا تمغہ حاصل کیا۔
ایتھلیٹکس کے مقابلوں میں ہانریری کیپٹن ریٹائرڈ محمد صداقت نے 5سونے،1چاندی اور3کانسی کے تمغے، ہانریری کیپٹن ریٹائرڈ نادر خان نے2سونے اور2چاندی، مس نسیم حمید نے ڈھاکہ میں 1سونے اور1چاندی، صوبیدار ظفر اقبال نے کولمبو اور ڈھاکہ میں 2سونے اور2چاندی کے تمغہ جبکہ نائب صوبیدار بشارت علی نے 2سونے اور2چاندی کے تمغے حاصل کئے۔
غوطہ خوری کے مقابلوں میں مس لیانہ ساون نے بھارت میں 1سونے،2چاندی اور1کانسی کا تمغہ، مس کرن خان نے بھارت اور ڈھاکہ میں 1سونے،1چاندی اور4کانسی کے تمغے جبکہ مس بسمہ خان نے بھارت میں 1چاندی اور4کانسی کے تمغے اپنے نام کئے۔
ریسلنگ کے مقابلوں میں سپاہی اظہر حسین نے سونے اور چاندی کے تمغے حاصل کیے۔
اسکواش کے میدان میں عباس شوکت نے1سونے کا تمغہ حاصل کیا۔


Volleyballکے مقابلے میں کرنل ریٹائرڈ قیصر مصطفی نے 2سونے اور2چاندی کے تمغہ اپنے نام کئے۔
جوڈو کراٹے کے کھیل میں مس فوزیہ ممتاز نے ڈھاکہ اور بھارت میں 2سونے،2چاندی اور1کانسی کا تمغہ اور سارہ ناصر نے ڈھاکہ میں 1سونے اور1کانسی کا تمغہ جیتا۔
کبڈی کے کھیل میں پاکستان آرمی کی ٹیم نےAsian Beach Games 2016میں سونے کا تمغہ حاصل کیا۔
Machine Rowingکے مقابلوں کے دوران نائب صوبیدار مقبول علی نے3ایشین سونے کے تمغے اپنے نا م کئے۔


شیئر کریں: