پاکستان کرکٹ کے 3 ایونٹس کی میزبانی کا امیدوار

پاکستان کرکٹ کے 3 ایونٹس کی میزبانی کا امیدوار
شیئر کریں:

تحریر عمران عثمانی

دنیائے کرکٹ میں طاقتور اور پیسے کے بل پر اکڑ رکھنے والے بھارتی کرکٹ بورڈ کی آئی سی سی کے سامنے بے بسی نمایاں ہونے لگی ہے۔

2023 سے 2031 کے مجوزہ فیوچر ٹور پروگرام کی ناکامی کیلئے اگرچہ اس نے انگلینڈ اور آسٹریلیا کو بھی اپنا ہمنوا بنالیا ہے لیکن لگتا ہےکہ بگ تھری کا سہارا بھی اسے وار کا “موقع”نہیں دے گا۔

چونکہ بات آکر ختم ہی پیسے پر ہوتی ہے اور پیسہ پیسہ کرنے والے بھارتی بورڈ کو دیگر رکن ممالک اس مرتبہ “موقع”نہیں دیں گے۔

کرکٹ کی عالمی باڈی کو بھارتی بورڈ کا زخموں پر لوٹنا اور جوابی وار کیلئے اسکے سربراہ سارو گنگولی کے انگلینڈ جیسے ممالک کے دورے کرنا دکھائی دے رہا ہے۔

مزید پڑھیں:انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور بھارتی کرکٹ بورڈ کھل کر سامنےآگئے

اس نے مزید ایک قدم اور بڑھاتے ہوئے 2023-2031 کاروڈ میپ بھی جاری کردیا ہے. جس کے تحت اگلے ایف ٹی پی میں 8 سال کے دوران 28 آئ سی سی گلوبل ایونٹس ہوں گے۔

8مینز، 8ویمنز،4 انڈر 19 مینز اور 4 انڈر 19 ویمنز کے ساتھ 4 ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنلز شامل ہوں گے۔

2023-ویمنز ون ڈے چیمپئن کپ –
2024-مینز ٹی 20 چیمپئنز کپ،ویمنز ٹی 20 چیمپئنز کپ
2025-ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ فائنل،مینز ون ڈے چیمپئن کپ،ویمنز ون ڈے ورلڈ کپ.
2026- مینز ٹی 20 ورلڈ کپ،ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ.
2027-ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ فائنل،ون ڈے مینز ورلڈ کپ،ویمنز ون ڈے چیمپئنز کپ.
2028-مینز ٹی 20 چیمپئنز کپ،ویمنز ٹی 20 چیمپئنز کپ-
2029-ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ فائنل،مینز ون ڈے چیمپئنز کپ،ویمنز ورلڈ کپ ون ڈے –
2030-مینز ٹی 20 ورلڈ کپ،ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ –
2031-ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ فائنل ،مینز ون ڈے ورلڈ کپ.
یہ 20 سینئرز کے ایونٹ ہوئے انکے ساتھ انڈر 19 مینز اور ویمنز کے 4،4ایونٹس ہوں گے۔

انٹر نیشنل کرکٹ کونسل نے 15 مارچ تک تمام رکن ممالک سے ان کی میزبانی کیلئے جواب مانگا ہے

اس کے بعد مارچ کے آخر میں شیڈول اجلاس میں اس کی منظوری دیئے جانے کے بعد حتمی بڈز کیلئے 6 ما ە دیئے جائیں گے

اس عرصے میں رکن ممالک اپنے ملکی سکیورٹی سمیت دیگر تمام معاملات کا حتمی جواب آئی سی سی کو دیں گے۔

سال 2020 کے آخر میں اکتوبر اجلاس میں اس کے حتمی میزبان چن لیے جائیں گے۔

اس طرح انٹر نیشنل کرکٹ کونسل نے اسی سال اس قضیے کو طے کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے 3 ایونٹس کی میزبانی لینے کی تیاری شروع کردی ہے۔

ورلڈ ٹی 20،ٹی 20 چیمپئنز کپ اور ون ڈےچیمپئنز کپ پلان میں شامل ہیں۔

2031 ورلڈ کپ کی میزبانی کیلئے دیگر ایشیائی ممالک سے روابط تیز کئے جارہے ہیں۔

دوسری جانب بھارتی کرکٹ بورڈ اس پلان کیخلاف ہے۔

اس شیڈول سے ہر سال گلوبل ایونٹ ممکن ہوجائے گا جاکی آمدنی تمام رکن ممالک لے سکیں گے جبکہ اب تک کے چلتے سرکل میں گلوبل ایونٹس ہر سال نہیں ہوتے۔

چنانچہ آئ سی سی کی 8سالہ ایف ٹی پی کی بڑی رقم بگ تھری کو منتقل ەوجاتی ہے۔

بھارتی بورڈ نے اسکے توڑ کیلئے 4 ملکی سپر کپ سالانہ کرانے کا منصوبہ بنایا ہے اسی طرح سخت شیڈول ہونے اور باہمی سیریز کو جواز بنا کر اس کی مخالفت کی ہے بادی النظر میں آسٹریلیا اور انگلینڈ بھی اس کے ساتھ ہیں۔

جمعہ 21 فروری کو انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے چیف ٹام ہوریسن کا ایک رد عمل اسی تناظر کی ایک کڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 4 روز ە ٹیسٹ ممکن نہیں۔

آئی سی سی اس حوالے سے اگلے ایف ٹی پی میں ٹیسٹ کا ایک دن کم کرنا چاہتی ہے جس کا کوئی پلان واضح نہیں ہے۔

انگلینڈ کے موسم میں ایسا ممکن بھی نہیں اس لیے انگلینڈ اس تجویز کی مخالفت کرے گا۔

واضح رہے کہ آئی سی سی 2023 سے ٹیسٹ میچ کو 5 کی بجائے 4 دن کا کرنا چاہتی ہے تاکہ اضافی ایونٹس کیلئے ونڈو ممکن ہوسکے۔

ذرائع کے مطابق آئی سی سی نے ٹیسٹ میچ کا دن کم نہ ہونے کی صورت میں بھی پلان بی بنارکها ہے جس کے تحت اس کے مجوزہ ایف ٹی پی پر کوئ ضرب نہیں لگے گی

کیونکہ ترجمان آئی سی سی نے جمعہ کی شام واضح کیا کہ اس پلان سے کسی ملک کی لیگ،باہمی سیریز اور سالانہ کلینڈر سے کوئی تصادم نہیں۔

میزبان ملک اپنے حالات کے مطابق اسے شیڈول کرے گا جہاں کا موسم ، وقت ، دن کا دورانیہ، ٹیکس معاملات میں چھوٹ اور حکومتی اقدامات دیکھے جائیں گے –


شیئر کریں: