پاکستان چین دوستی خودکش حملہ آور کی زد میں

شیئر کریں:

تحریر فضل گیلانی

یہ انتہائی پریشان کن صورتحال تھی، جب 26 اپریل 2022 کو دوپہر تقریباً 2:20 بجے مقامی وقت کے مطابق، کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کی شٹل بس کو کراچی یونیورسٹی کے کیمپس میں دہشت گردانہ حملے کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دہشتگردی کے بد ترین واقعے نا جہاں پورے پاکستان کی عوام کو ہکہ بکا کر دیا ونہیں جب خبر نکلی کی ایک خاتون خود کش حملہ آور چینی باشدوں کو نشانہ بنایا ہے جن میں تین اساتزہ اپنی جان کی بازی ہار گئے جبکہ ایک شدید زخمی ہوا، چینی اساتذہ کو جامعہ کراچی کی طرف لانے والا انکا ڈرائیور بھی شہید ہوا

میں نے حال ہی میں اپنی تعلیم کے لیے چین میں کئی سال گزارے ہیں اب بھی ہمیشہ اپنے چینی اساتذہ کے ساتھ رابطے میں رہتا ہوں جو مختلف چینی یونیورسٹیوں اور لینگویج انسٹی ٹیوٹ میں زیر تعلیم اپنے تمام پاکستانی طلباء کے ساتھ بہت مہربان اور ہمشہ پیار سے پیش آتے ہیں ۔حالیہ جامعہ کراچی کے دہشگردی واقعے میں چینی اساتذہ چینی حکومت کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو منصوبوں کے تحت کراچی یونیورسٹی اور چین کی سچوان نارمل یونیورسٹی کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت چینی زبان سکھانے کے لیے کراچی یونیورسٹی میں اپنی خدمات انجام دے رہے تھے۔ سیچوان نارمل یونیورسٹی نے پاکستانی طلباء کو چینی زبان کے مختصر اور طویل مدتی کورسز پیش کرنے کے لیے پاکستان کے مختلف بڑے شہروں اور سرکاری یونیورسٹیوں میں کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ سینٹرز قائم کر رکھے ہیں۔

حملہ کس نے کیا؟

بلوچ لبریشن آرمی نے کراچی یونیورسٹی میں معاون چینی زبان کے اساتذہ پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔یہ پہلی خاتون خودکش بمبار تھی جس نے پورے پاکستان کی عوام کو ہکا بکا اور پریشان کن حالات سے دو چار کر دیا، اس خاتون نے خود پر بم بانڈھ کر کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ہوانگ گوپنگ اور چینی زبان کے دیگر معاون اساتذہ کو قتل کرنے کے لیے خود کو اڑا لیا تھا۔

بلوچ شدت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے مجید بریگیڈ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی،
اس تنظیم کیا جانب سے یہ دعوی بھی کیا گیا کہ “یہ پہلا موقع ہے کہ تنظیم کی جانب سے کسی خاتون خودکش بمبار کو استعمال کیا گیا ہے۔”

پاکستان میں سیکورٹی اور سیاسی تجزیہ کار بھی اسے ملک میں قائم کلعدم تنظیموں سندھودیش ریولیوشنری آرمی اور بلوچشتان لبریشن آرمی کے گٹھ جوڑ کے طور پر دیکھتے ہیں۔

پاکستان میں پہلا خاتون خودکش حملہ اور رد عمل ؟

اس خودکش حملے کے بعد پاکستان میں چینی سفارت خانے اور قونصل خانے سمیت ملک چین کی وزارت خارجہ کی جانب سے شدید مزمت سامنے آئی، جنہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں موجود تمام چینی باشندوں کو حکومت کی جانب سے مقامی سیکیورٹی فراہم کی جائے اور سکیورٹی مسائل کو مزید مضبوط بناتے ہوئے اسی صورتحال کو زیادہ اہمیت دینی چاہیے،
پاکستان میں چینی سفارت خانہ اور قونصل خانے نے دہشت گردی کی اس کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے دونوں ممالک کے متاثرین سے گہرے دکھ اور ان کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کیا جبکہ چین نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ مل کر اس واقعے کے کرداروں سے نمٹنے میں پورا تعاون بھی فراہم کریں گے
پاکستان میں چینی سفارت خانے اور قونصل خانے نے فوری طور پر ایک ہنگامی منصوبہ شروع کیا ہے، جس میں پاکستان سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ زخمیوں کے علاج کے لیے ہر ممکن کوشش کرے، حملے کی مکمل تحقیقات کرے اور مجرموں کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ، یہ پاکستان میں تمام سطحوں پر متعلقہ محکموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان میں چینی شہریوں، اداروں اور منصوبوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے عملی اور موثر اقدامات کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ایسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہونے پائیں۔
اسی سلسلے مین چین کی ژنہوا نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وینبن نے کراچی یونیورسٹی میں کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کی وین پر دہشت گردانہ حملے کے جواب میں ایک باقاعدہ نیوز بریفنگ میں یہ ریمارکس دیئے۔
ہم ایک بار پھر دونوں ممالک کے متاثرین اور زخمیوں اور سوگوار” خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں،” وانگ وینبن

ریمارکس میں یہ بھی بتایا گیا کہ “سندھ اور کراچی کے مقامی حکام نے مجرموں کی تلاش کے لیے مکمل تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ اور پاکستان میں چینی سفارتی مشن متعلقہ پاکستانی محکموں پر زور دیتے رہیں گے کہ وہ ہلاک ہونے والوں کی پیروی کے معاملات کو مناسب طریقے سے سنبھالیں، زخمیوں کا علاج کریں اور اس میں ملوث دہشت گرد تنظیم کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ چینی عوام کا خون رائیگاں نہیں جانا چاہیے اور اس واقعے میں ملوث افراد کو یقیناً اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔
جس پر وزیراعظم پاکستان جناب شہباز شریف نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ میں آپ کو اپنی طرف سے، حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام کی طرف سے یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہم مجرموں ، قاتلوں کا پیچھا کریں گے۔ ہم اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے جب تک انہیں پکڑ کر مثالی سزا نہیں دی جاتی
اس موقع پر بیجنگ میں پاکستان کے سفیر معین الحق کا کہنا تھا کہ “پوری قوم صدمے میں ہے اور ہمارے چینی دوستوں سمیت ان قیمتی جانوں کے ضیاع پر ہم سوگوار ہیں، انہوں نے اس بزدلانہ کارروائی کو پاک چین دوستی اور جاری تعاون پر براہ راست حملہ بھی قرار دیا۔

کراچی یونیورسٹی حملہ مبینہ طور پر پاکستان کی سرزمین پر چینی شہریوں پر تیسرا حملہ تھا۔ تاہم پاکستانی حکام نے چینی شہریوں کو ملک میں ان کی فل پروف سیکیورٹی کی مکمل یقین دہانی کرائی ہے جس کے بعد پاکستان میں مقیم چینی شہریوں نے مزید حفاظتی اقدامات کرنے پر مکمل اعتماد کا اظہار بھی کیا ہے

سرکاری سطح کے علاقہ ملک میں سماجی اور عوامی سطح پربھی اس دہشت گردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مزمت سامنے آئی پاکستانی عوام نے اپنی حکومت اور سکیورٹی اداروں سے اپنے چینی بھائیوں اور بہنوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کے لیے مطالبہ کیا۔ عوام نے کراچی میں چینی اساتزہ کے قتل پر گہرے غم اور غصے کے ساتھ اپنے تحفظات کا بھی اظہار کیا۔

اسی موقع پر پاکستان کے وزیراعظم میاں شہباز شریف نے چینی صدر شی جن پنگ کے نام تعزیتی پیغام بھی لکھا۔ انہوں نے چینی شہریوں کی ہلاکت پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پوری پاکستانی قوم اپنے ‘آئرن برادر’ پر اس وحشیانہ حملے کے بعد شدید صدمے اور غم سے دو چار ہے۔

چینی اساتذہ پر اس دہشت گردانہ حلمے کے بعد تجزیہ کاروں کی مجموعی رائے کیا تھی؟

اس معاملے پر میں نے بین الاقوامی امور پر مختلف پاکستانی تجزیہ کاروں سے بات کی، جن کا کہنا یہ تھا کہ پاکستانی مہمانوں کے ساتھ دہشت گردی کو کبھی برداشت نہیں کیا جا سکتا ، جیسا کہ پاکستانی عوام نے خود دہشت گردی کو بہت قریب سے دیکھا ہے، اور پاکستان کے تمام صوبوں پچھلی کئی ایک دہائیوں سے اس دہشگردی سے دو چار رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ چونکہ چین خطے میں ایک ابھرتی ہوئی سپر پاور ہے اور بہت سے علاقائی ممالک کو چین کے معاشی عروج سے بہت زیادہ مسائل درپیش ہیں، وہ اس کی تیز رفتار ترقی کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔

ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ چینی اساتذہ دونوں ممالک کے درمیان آہنی تعلقات کو توڑنے کے لیے دہشت گردوں کا سب سے آسان ہدف تھے۔ لہذا، چینی اساتذہ پر پاکستان اور چین کے درمیان دوستی کے “آئرن برادر” نعرے کی قیمت چکانے کے لیے حملہ کیا گیا ہے۔

پاکستان اور چین کے عوام کی دوستی سے سب واقف ہیں اور دونوں ممالک کے دشمن کبھی بھی انہیں خطے میں خوشحال دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔ پاکستان اور چین کو چیلنجز کا سامنا ہے۔ تجزیہ کاروں نے کا یہ بھی کہنا تھا کہ ماضی میں ہم نے مذہب کے نام پر شہریوں کو نشانہ بنتے بھی دیکھا ہے۔

دہشت گرد پاک چین دوستی کو نہیں توڑ سکتے۔

ان وحشیانہ اور غیر انسانی دہشت گردانہ حملوں کے بعد چین اور پاکستان کی دوستی پر پڑنے والے اثرات کو سمجھنے کے لیے، میں نے ڈاکٹر شاہد احمد حشمت سے رابطہ کیا جو حکومت کی طرف سے سری لنکا میں پاکستان کے سابق ہائی کمشنر تھے۔

ہم اس موضوع پر مختصر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر شاہد احمد حشمت نے بتایا کہ یقیناً اس نے چین پاکستان دوستی/تعلقات پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ تاہم، یہ صرف ایک عارضی مرحلہ ہے۔

انہوں نے ماضی پر نظر ڈالنے کے بعد اس بات پر مزید زور دیا کہ پاکستان گزشتہ 20 سالوں سے بہت سے دہشت گرد حملوں کا شکار رہا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس خطرے سے نمٹنے کے لیے پوری کوشش کر رہے ہیں۔

میجر جنرل (ریٹائرڈ) ڈاکٹر شاہد احمد حشمت کا یہ بھی کہنا تھا کہ “اس طرح کے حملوں کا عارضی اثر ہوتا ہے۔ طویل مدت میں، صورتحال بہتر ہوگی اور مستحکم ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشترکہ کوششوں کے ذریعے دونوں ممالک صورتحال سے نمٹ سکتے ہیں۔
دونوں ممالک کی بڑی آبادی اور جغرافیائی قربت کو مدنظر رکھتے ہوئے لوگوں سے لوگوں کے تعلقات بہت کم / بہت چھوٹے / بہت تنگ ہیں۔ ان تعلقات کو فروغ دینے اور بڑھانے کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے، خاص طور پر تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی، تجارت اور کامرس، تحقیق، ثقافتی تبادلے، زبان سیکھنے اور سیاحت کے شعبوں مزید استحکام پیدا کرنے کے ضرورت ہے۔

سی پیک پر حملہ ؟

چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC)— نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور چین کے لیے ایک خوشحال مستقبل ہے۔ یہ ہائی ویز اور ریلوے جیسے متعدد منصوبوں کا ایک بہت وسیع نیٹ ورک ہے جس میں دیگر انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اور پاور پراجیکٹس شامل ہیں جو سنکیانگ سے پاکستان کے گلگت بلتستان کے علاقے میں داخل ہوں گے اور گوادر بندرگاہ پر اختتام پذیر ہوں گے- ایسی تمام دہشت گرد گروپوں اور کالعدم تنظیموں کا مقصد بیجنگ اور اسلام آباد کو بیک وقت نقصان پہنچانا ہے۔

اسی سلسلہ میں مغربی میڈیا کی جانب سے بھی اکثر سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں سمیت سی پیک اور بی آر آئی کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے۔ ایسا بھی ظاہر کیا جاتا ہے کہ یہ تمام ممالک جوکہ سی پیک اور بیلٹ اینڈ روڈ کا حصہ بن رہے ہیں دراصل چین کے قرضی جال میں پھنستے چلے جا رہے ہیں۔ پاکستان میں جاری سی پیک کے منصوبے اب اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ سی پیک کے ان جدید اور بڑے منصوبوں کو نقصان پہنچانے کے لیے ایسے ممالک اور تنظیمں بھی سرگرم ہیں جو پاکستان میں اس چینی وویژن سے آنے والی ترقی کو ایک ڈراونا خواب تصور کرتے ہیں۔ حال ہی میں، چین کے وزیر اعظم لی کیچیانگ نے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ فون پر بات چیت میں
یہ نتیجہ اخذ کیا کہ پاک چین دوستی کی جڑیں انہتائی مضبوط اور گہری ہیں اور اس یہ دوطرفہ تعاون ایک بے مثال سطح پر پہنچ چکا ہے جوکہ دوںو ممالک کی تعمیر و ترقی کی کے لیے اہم ہے
سی پیک منصوبے کے تحت دوںوں ممالک کی تعمیر ترقی کو تیز کرنے، خصوصی اقتصادی زونز پر تعاون کو گہرا کرنے اور دونوں ممالک کے عوام کو مزید فوائد پہنچانے کے لیےپاکستان چین کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ چینی ترقیاتی ویژن ان دہشت گردانہ حملوں سے زیادہ وسیع تر ہے۔ علاقائی اور برادر ممالک کے لیے یہ تعلقات یا دوستی سے بالاتر ہے کیونکہ چینی باشندوں نے پاکستان میں پاکستان کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں۔ حالیہ دہشت گردی کا حملہ چینی اساتذہ کو نشانہ بنانا انہیں بے پناہ قربانیوں میں سے ایک ہے ، دہشت گردوں کا مقصد پاکستان میں چینی اساتذہ کو قتل کر کے پاک چین دوستی سمیت سی پیک کو نقصان پہچانا تھا، ان بین الاقوامی فنڈڈ دہشت گردوں نے بی آر آئی جیسے بڑے منصوبے پر ایک چھوٹی سی ضرب لگائی ہے۔ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ پاکستان میں مقیم چینی شہریوں کے لیے اعلیٰ حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائے۔ پاکستان میں پہلی بار خاتون خودکش حملہ آور کا استعمال کرتے ہوئے چینی اساتذہ کے قتل کا واضح مقصد دونوں ممالک کے عوام سے عوام کے روابط کو توڑنا تھا اور چین پاکستان اقتصادی راہداری میں چین کی بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری، کو نقصان پہنچانا تھا۔ دونوں ملکوں کی عوامی سطح پر روابط کو مزید مضبوط بنایا جائے، دوںوں ممالک کے درمیاں سفارتی اور حکومتی سطح پر تعلقات تو انتائی تویل اور مضبوط ہیں ہی جس کے باعث ایسے حملوں سے شدید عوامی رد عمل کو اس بار تو کنٹرول کر لیا گیا مگر چین اور پاکستان کے درمیان اصل تعلق عوام سے عوام کا ہے جوکہ ایک وسیع عوامی رائے عامہ اور دہائیوں کی محنت کا نتیجہ ہے، اس عوامی دوستی کو دونوں ممالک میں لوگ بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس قدر کی قدر کرنی چاہیے


شیئر کریں: