پاکستان پیپلزپارٹی کے باون سال

شیئر کریں:

لیل و نہار/ عامر حسینی
lailonihar@gmail.com

ایک ہفتہ قبل مجھے اپنے دوست ظفر اقبال کے بیٹے کی شادی میں بہاولپور جانے کا موقع ملا تو وہاں پاکستان
پیپلزپارٹی بہاول پور ضلع کے پہلے صدر موسی سعید بھی موجود تھے جن سے تعلق کئی عشروں پرانا ہے۔
ان سے ظاہر ہے بات موجودہ سیاست اور ماضی کی سیاست کے بارے میں ہوتی رہی۔ موسی سعید کے پاس
کئی ایسی یادوں کا اثاثہ ہے جو میرے خیال میں ہر ایک سیاسی طالب علم کو پڑھنے کے لیے دستیاب ہونا لازم ہے۔

پیپلز پارٹی کا 70 میں حال کیا تھا؟

میں نے ان سے پوچھا کہ بہاولپور میں 70ء کے قومی و صوبائی انتخابات میں پاکستان پیپلزپارٹی کی حالت کیا تھی؟ ان کا جواب بہت دلچسپ تھا۔
انھوں نے بتایا کہ
” پاکستان پیپلزپارٹی کو 70ء کے انتخابات میں بہاولپور سے کہیں سے بھی کوئی امیدوار دستیاب نہ تھا لیکن ان کے سیاسی گرو بابائے سوشلزم شیخ رشید احمد کا اصرار تھا کہ میں لازمی پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار بہاول پور سے کھڑے کروں۔
پارٹی ٹکٹ کے لیے درخواست کے ساتھ 1000 روپے کی فیس تھی جس میں 500 روپے ضلعی تنظیم کے پاس اپنے معاملات چلانے کے لیے جمع ہونے تھے جبکہ 500 روپے پارٹی کی صوبائی تنظیم کو جانا تھے۔
میں نے بہاولپور شہر سے اپنے دوست قاضی شاہد (جو بعد میں پا رٹی کی طرف سے سینٹر بھی بنائے گئے تھے) سے کہا کہ وہ اپنے ابا سے پانچ سو لے کر صبح آجائیں تاکہ ان کے کاغذات جمع کروائیں جائیں۔
یزمان سے شبیر چیمہ ایک لوکل بس کا مالک، رسمی تعلیم سے عاری تھا اسے راضی کیا
اس نے 1000 روپے جمع کراڈالے۔
قومی اسمبلی بہاولپور کے لیے غلام رسول کو کہا جو سرائیکی اسپیکنگ چھوٹا زمیندار تھا۔
قاضی شاہد کو اس کے ابا نے 500 روپے نہ دیے تو وہ شرمندگی سے آیا نہیں اور اس کی جگہ میں نے اپنے ایک دوست سے جو ایک بینک میں ملازم تھا ادھار 500 روپے لیکر کاغذات نامزدگی جمع کرا ڈالے۔
یوں پاکستان پیپلزپارٹی کی بہاولپور ضلع میں انتخابی انٹری ہوئی اس وقت تک پی پی پی میں بہاول پور ضلع میں کوئی بڑا جاگیردار اور کوئی بڑا سرمایہ دار سیاست دان پیپلزپارٹی میں شامل نہیں ہوا تھا۔
بہاول پور میں بہاولپور صوبہ محاذ کا زور تھا تو دوسری طرف کنونش لیگ اور دیگر سیاسی جماعتوں کے پاس جاگیردار و سرمایہ دار اور ایسے ہی درمیانے طبقے کے تاجر اور پروفیشنل امیدوار تھے۔
ان کے مقابلے میں پی پی پی کے امیدوار بڑے طبقے سے شامل نہیں تھے۔ بہاول پور ضلع بری طرح سے مقامی و آباد کار اور مہاجروں کے درمیان تقسیم تھا۔
اس فضا میں طبقاتی بنیادوں پر پارلیمانی سیاست کا سوال کہیں بہت پیچھے کھڑا تھا۔ لیکن یزمان والی سیٹ پر بشیر چیمہ کی پوزیشن کافی مضبوط تھی اور چوہدری بشیرچیمہ طارق بشیر چیمہ کے والد میرے سسر کے دوست تھے مدمقابل بڑے طاقتور امیدوار تھے وہ ایک طرف تو جٹ برادری کی حمایت کے حامل تھے تو دوسری طرف ان کو دیگر آبادکار اور مہاجر برادریوں کی سپورٹ حاصل تھی۔ لیکن اس حلقے میں جو رعیت، مزارع اور دیہی غریب تھے ان کی ایک بہت بڑی تعداد پی پی پی کو سپورٹ کررہی تھی اور بھٹو کی مقبولیت کا جادو ان میں سر چڑھ کر بول رہا تھا۔
اس حقیقت کا مجھ سمیت اس وقت بہاولپور کی پارٹی شاخ کے کسی عہدے دار کو اندازہ تک نہیں تھا۔ دیہی غریبوں کی بہت بڑی تعداد تلوار کو ووٹ ڈالے گی اس کا اندازہ کسی حد تک شاید چوہدری بشین چیمہ کو ہو چکا تھا۔ انہوں نے اپنی جیت یقینی بنانے کے لیے میرے سسر کو ساتھ لیا اور میرے گھر بہاولپور پہنچ گئے اور مجھے پانچ ہزار روپے پارٹی فنڈ کے لیے دیے اور کہنے لگے کہ اگر شبیر چیمہ کو الیکشن سے دستبردار کرالیا جائے تو وہ جیت کر پارٹی میں شامل ہوجائيں گے۔
میں نے پانچ ہزار روپے ان کو واپس کیے اور شبیر چیمہ کو دست بردار کرانے سے انکار کر ڈالا۔
اس وقت بھی مجھے شبیر چیمہ کی جیت کا یقین نہیں تھا۔ مجھے شیخ رشید احمد نے کہا کہ میں غلام مصطفی کھر کے پاس جاؤں اور ان سے پارٹی امیدواروں کی کنفرمیشن کا لیٹر لے آؤں۔
غلام مصطفی کھر نے صاحبزادہ فاروق علی خان کو مجھے پارٹی امیدواروں کا کنفرمیشن لیٹر تیار کرکے دینے کو کہا جو ہم نے ریٹرننگ افسر کو جمع کروایا اور پارٹی نشان تلوار الاٹ کروالیا۔

ذوالفقار علی بھٹو نے چند منٹ میں سب کچھ بدل دیا

بھٹو صاحب الیکشن کمپئن ختم ہونے سے ایک دن پہلے ملتان کے راستے واپس لاڑکانہ جاتے ہوئے ٹرین سے بہاولپور سے گزر رہے تھے۔ ہم سب ایک بہت بڑے جلوس کے ساتھ بہاولپور اسٹیشن پہنچے۔
بھٹو صاحب جس بوگی میں تھے اس کے دروازے پر مختار اعوان بطور گارڈ کھڑے تھے۔ انھوں نے مجھے بھٹو صاحب سے ملنے کی اجازت دے دی اور میں اندر گیا بھٹو صاحب سے درخواست کی کہ وہ چند منٹوں کے لیے بوگی کے دروازے پر آئیں اور عوام سے پی پی پی کے امیدواروں کو ووٹ دینے کی درخواست کریں۔ بھٹو صاحب گیٹ پرآئے اور انہوں نے ضلع بہاولپور کے امیدواروں کے نام لیکر ان کو ووٹ دینے کی درخواست کی اور میں سمہ سٹہ تک ان کے ساتھ گیا جو میرے حلقہ کی آخری حدود تھی،وہاں بھی لوگوں کی ایک بڑی تعداد بھٹو صاحب کے لیے موجود تھی اور بھٹو صاحب نے وہاں بھی عوام سے پی پی پی کے امیدواروں کو ووٹ دینے کی درخواست کی۔ اس کے بعد بے سروسامانی کے عالم میں الیکشن کمپئن چلتی رہی اور الیکشن ہوئے۔ بہاولپور سے صوبائی اسمبلی کی ایک نشست ہمیں یزمان حلقے سے مل گئی اور وہ شبیر چیمہ کے ممبر صوبائی اسمبلی بننے کی صورت میں ملی۔
مجھے 13 ہزار ووٹ ملے جبکہ غلام رسول بھی 20 ہزار سے زائد ووٹ لے گئے۔ یہ ووٹ بہاولپور صوبہ محاذ کی بے پناہ حمایت اور دوسری طرف آبادکار-مہاجر اتحاد کے زبردست زور کے باوجود ملے تھے۔
پیپلزپارٹی انتہائی دگرگوں صورت حال میں ضلع بہاولپور میں 50 ہزار سے زائد ووٹ لے گئی تھی اور اس میں بہت بڑا کردار دیہی و شہری غریبوں کا تھا جنھوں نے طبقاتی جڑت کے جذبے کے تحت پی پی پی کو ووٹ دیے تھے۔”

میں نے موسی سعید سے پوچھا کہ جب پاکستان پیپلزپارٹی برسراقتدار آگئی تو کیا پی پی پی کے حامی اس دیہی و شہری غریب ووٹر کو منظم کاڈر میں بدلنے اور پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی کوشش ہوئی تو موسی سعید نے اپنے جو ذاتی تجربات بتائے وہ چونکا دینے والے تھے۔:

” جب ذوالفقار علی بھٹو برسراقتدار آگئے تو پنجاب میں بالعموم اور سرائیکی وسیب میں باالعموم آہستہ آہستہ پی پی پی کی تنظیم اور پارلیمانی پارٹی کے اندر دائیں بازو سے تعلق رکھنے گروہوں اور شخصیات کا اثر و رسوخ بڑھنے لگا تھا۔
ذوالفقار علی بھٹو نے سرائیکی وسیب میں 73ء کا آئین منظور ہونے کے چند مہینوں بعد ہی بڑے بڑے زمینداروں کو پاکستان پیپلزپارٹی میں شامل کرلیا تھا۔
ملتان ضلع سے انھوں نے سب سے بڑے جاگیردار سیاست دان گروپ قریشی گروپ جس میں خانیوال قتال پور کے سید بھی شامل تھے کے سربراہ نواب صادق قریشی کو شامل کیا اور ایک وقت وہ بھی آیا کہ نواب صادق قریشی کا محل وائٹ ہاؤس ہی سرائیکی وسیب میں تمام تر پارٹی فیصلوں کا مرکز بن گیا۔
بھٹو صاحب نے بہاولنگر کے ایک بڑے جاگیردار میاں افضل وٹو کو پنجاب پی پی پی کی صدارت سونپ دی۔ اور پنجاب کی وزرات اعلی انھوں نے غلام مصطفی کھر کو سونپی جو مظفرگڑھ کے جاگیردار تھے اور جب غلام مصطفی کھر کو انھوں نے ہٹایا تو وہ تب بھی میاں افصل وٹو کو وزیر اعلی بنانا چاہتے تھے جس کی وسطی پنجاب میں بیٹھے شہری تعلیم یافتہ درمیانے طبقے کی پارٹی میں ترجمانی کرنے والے ایک گروہ نے مخالفت کی جس میں اس وقت پارٹی کے مرکزی جنرل سیکریٹری خورشید حسن میر بھی شامل تھے اور انہوں نے دائیں بازو کے کنونش لیگ سے آئے مڈل کلاس پرنٹر پبلشر حنیف رامے کا نام آگے کردیا۔ حنیف رامے میں درمیانے طبقے کی روایتی موقعہ پرستی اور بزدلی دونوں شامل تھی اور وہ پارٹی میں دائیں بازو کے رجحان کے ہاتھوں مزید کھیلنے لگے۔
ان کا ساتھ ان دنوں مولانا کوثر نیازی(سابق رہنما جماعت اسلامی) اور دیگر لوگ دے رہے تھے۔
بعد میں بھٹو صاحب نے نواب صادق کو پنجاب کا وزیراعلی بنادیا جس کے بعد سرائیکی وسیب سے قریشی گروپ سے تعلق رکھنے والے اور اس گروپ سے باہر کئی اور بڑے و درمیانے زمیندار اشرافیہ کی بڑی تعداد پی پی پی میں شامل ہوگئی۔
اس کے ساتھ ساتھ بہاول پور سے ہی آبادکار اور مہاجر آبادی سے تعلق رکھنے والی جو دائیں جانب رجحان رکھتی تھی پی پی پی کا حصّہ بن گئی۔ تنظیم میں بھی اکثر اضلاع کے صدور دائیں بازو کا رجحان رکھنے والے تھے۔ دیہی اشرافیہ کی چمچہ گیری پی پی پی میں شامل پڑھی لکھی درمیانے طبقے سے تعلق رکھنے والے پروفیشنل کرنے لگے تھے۔ اس نے پی پی پی میں بائیں بازو کا تنظیم پر کنٹرول ویسے ہی بہت کمزور کردیا تھا۔
پنجاب میں پی پی پی کے بائیں بازو کے رجحان کو باہم اکٹھا رکھنے میں سب سے بڑا کردار شیخ رشید احمد کا تھا جن کے اکثر ساتھی جنھیں 70ء میں پارٹی کی تنظیم اور پارلیمانی بورڈ اور پارلیمانی پارٹی میں جگہ مل گئی تھی وہ 76ء تک نکال باہر کیے گئے تھے۔ 77ء کے جو الیکشن ہوئے، ان میں سرائیکی وسیب کے قریب قریب سبھی حلقوں میں ٹکٹ جاگیردار اشرافیہ کی مرضی اور منشا سے تقسیم ہوئے۔ اور جو درمیانے طبقے سے پروفیشنل ٹکٹ لینے میں کامیاب ہوئے تھے تو ان کی اکثریت کا کردار سرائیکی وسیب کے پی پی پی میں شامل جاگیرداروں کی کاسہ لیسی کے سوا کچھ نہ تھا۔ اس دوران سرائیکی وسیب سے بہت بڑی تعداد میں لوگ مڈل ایسٹ گئے۔ اور ان کی معاشی خوشحالی کے آثار بھٹو صاحب کے زمانے میں نظر آنے لگے تھے۔ نیشنلائزیشن سے سرکاری ملازمین کی بہت بڑی تعداد نے جنم لیا تھا اور یہ ابھرتی ہوئی تنخواہ دار سماجی گروہ تھا جس کے اندر پی پی پی کی حمایت موجود تھی۔ لیکن پی پی پی کا تنظیمی ڈھانچہ دائیں بازو کے ہاتھ میں تھا اور یہ جو تنخواہ دار سماجی گروہ تھا اور مڈل ایسٹ جانے والی مین پاور تھی اس کے اندر بائیں بازو کے خیالات کی آبیاری اور پارٹی کے اندر جمہوری روایات کے باقاعدہ آئینی ضابطے نہ ہونے کے برابر رہ گئے تھے۔ اس دوران ذوالفقار علی بھٹو نے صوبہ سرحد اور بلوچستان کی حکومتیں ختم کردیں اور بلوچستان میں فوجی آپریشن شروع ہوا اور اس دوران پی پی پی میں موجود پنجاب کا بائیں بازو کے کئی ایک انٹلیکچوئل ایکٹوسٹ پی پی پی چھوڑ چکے تھے۔
کراچی میں جو مزدور تحریک تھی وہ بھی پی پی پی سے شاکی تھیں اور قریب قریب اردو اسپیکنگ بایاں بازو پارٹی چھوڑ چکا تھا۔ اس نے پارٹی کو اور دائیں سمت دھکیل دیا۔
ستم ظریفی یہ تھی کہ پیپلزپارٹی صنعتی مراکز میں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی ٹریڈ یونینز سے تعلق رکھنے والے مزدور کاڈر کی حمایت سے محروم ہوچکی تھی اور دیہی علاقوں میں جاگيرداروں کی بڑی تعداد کے پیپلزپارٹی میں شامل ہونے کی وجہ سے پارٹی کو دیہی غریبوں کی ایک بڑی تعداد کی حمایت سے یا تو محروم کردیا تھا یا وہ جاگیرداروں کی ذاتی وفاداری ميں چلے گئے تھے۔ پی پی پی کی حکومت کے خلاف دائیں بازو کے رجعت پسند جرنیل، جج، نوکر شاہی، نیشنلائزیشن کے متاثرہ 100 خاندانوں پر مشتمل صنعت کار اور کئی ایک بڑے جاگیردار، مذہبی سیاسی جماعتوں کے ملاں اور عالمی سطح پر سرد جنگ کی قیادت کرنے والی امریکی انتظامیہ جو ویسے بھی تیسری دنیا کی پاپولسٹ لیڈروں کو ہٹانے کا پلان کرچکی تھی نے مل کر پاکستان کے حالات کو اکسپلائٹ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
بایاں بازو، صعنتی مزدور، دیہی غریبوں کی ایک بڑی تعداد جو پی پی پی کی فطری اتحادی بن سکتے تھے وہ بے گانے تھے اور ملک کے تین صوبوں میں قوم پرست حلقوں کی بے نیازی نے ملک میں بھٹو حکومت پر دباؤ میں اضافہ کیا۔ 74ء سے 77ء تک بھٹو حکومت نے قانون سازی کے میدان میں مسلسل رجعت پسندوں کو خوش کرنے کی کوشش کی۔

بھٹو منصورہ کیوں پہنچے؟

بھٹو صاحب نے دائیں بازو کے سیاسی اسلام پسند کردار کو اپنانے کی کوشش کی اور وہ اس کوشش میں وہ ایک روز منصورہ بھی جاپہنچے۔
مفتی محمود رام نہ ہوئے تو غلام غوث ہزاروی کا سہارا لیا لیکن بھٹو صاحب پاکستان کے شہری اور صنعتی مراکز میں دائیں بازو کی مذہبی جماعتوں، آپریشن سے متاثرہ قوم پرست اور بائیں بازو کے آمیزے سے بنی سیاسی جماعتوں پر مشتمل اتحاد پاکستان نیشنل الائنس/ پاکستان قومی اتحاد – پی این اے کے زورکا مقابلہ سیاسی طور پر کرنے میں ناکام رہے۔
انھوں نے احتجاجی لہر کو پہلے پولیس پھر ایف ایس ایف اور اس کے بعد فوج کے زریعے دبانے کی کوشش کی اور دوسری جانب انھوں نے پی پی پی کی ایک ایسی تنظیم کے زریعے اپنی حمایت لوگوں میں بڑھانے کی کوشش کی جس میں دائیں بازو کے لوگوں کا غلبہ تھا اور وہ اس میں ناکام رہ گئے۔ اور دائیں بازو کے جرنیل ان کی حکومت کا تختہ گرانے میں کامیاب ہوگئے۔

پی پی پی کے تنظیمی ڈھانچے کی کمزوری اور اس میں دائیں بازو کے کرداروں کے غلبے نے جنرل ضیاء الحق کے خلاف پانچ جولائی 1977ء سے 4 اپریل سن 1979ء تک ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی تک اتنی بڑی تحریک کو جنم ہی نہ دے سکی جو جنرل ضیاء الحق کو مجبور کرتی کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی نہ دے۔
جب بھٹو صاحب جیل میں تھے تو اس وقت بھٹو صاحب نے پارٹی کی قیادت شیخ رشید احمد اور ان کے ساتھیوں کے سپرد کی جنھوں نے پارٹی کی چئیرپرسن بيگم نصرت بھٹو کو بنایا اور پارٹی تنظیم میں بدلاؤ لانے کی کوشش کی۔
اس وقت تک کافی دیر ہوچکی تھی لیکن اس تبدیلی نے ہی جنرل ضیاء کے ہاتھوں پی پی پی کو ختم ہونے سے بچا لیا تھا۔”

میں نے موسی سعید سے پوچھا کہ بھٹو صاحب کی پھانسی کے بعد پی پی پی کا پنجاب میں ایک نیا جنم نظر آتا تھا۔

شیخ رشید سخت گیر لیفٹس تھے

زیادہ ترنوجوان پی پی پی کا ضیاء کے خلاف ہراول دستہ تھے لیکن پی پی پی پھر پی پی پی کے ساتھ کیا ہوا؟ تو وہ کہنے لگے
” بہت سارے لوگ پی پی پی کی بھٹو کی پھانسی کے بعد پنجاب میں آمریت کے خلاف جدوجہد کا تجزیہ کرتے ہوئے پارٹی کے اندر کی صورت حال کا تجزیہ نہیں کرتے۔ جب قیادت بیگم نصرت بھٹو کے پاس تھی تو وہ بہت زیادہ انحصار شیخ رشید احمد اور ان کے ساتھیوں پر کرتی تھیں۔
پیپلزپارٹی میں بائیں جانب رجحان کا جو بچا کچھا حصّہ تھا اس کی پنجاب میں سب سے بڑی نمائندگی شیخ رشید احمد کے پاس تھی اور ان کے گروپ کو ہی انتہائی سخت گیر لیفٹ سمجھا جاتا تھا۔
پنجاب میں پیپلزپارٹی میں رہ کر شہری علاقوں میں جو جنرل ضیاء الحق کے خلاف مزاحمت نظر آتی تھی، اس میں درمیانے طبقے کے وکلاء، اساتذہ اور طالب علموں کا بڑا کردار تھا۔
اگرچہ یہ ترقی پسند جمہوری نکتہ نظر کے حامل کہلاتے تھے اور بائیں سمت کے جھکاؤ کو بھی ظاہر کرتے تھے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان پرتوں سے پی پی پی کے پلیٹ فارم پر جو قومی ، صوبائی اور ریجنل سطح پر جو قیادت ابھری اس میں موقع پرستانہ پیٹی بورژوازی رجحانات بہت غالب تھے۔
جیسے جیسے بیگم نصرت بھٹو کا کردار پیچھے گیا اور محترمہ بے نظیر بھٹو کا قائدانہ کردار ابھرا تو ساتھ ہی مغرب میں ابھرنے والا نیو لبرل ازم اور بائیں بازو سے نیو لبرل ازم کی طرف سیاست کا جو جھکاؤ تھا اس دوران بے نظیر بھٹو جلاوطن ہوکر لندن پہنچیں۔
مارگریٹ تھیچر برطانیہ میں اور صدر ریگن امریکہ میں نیو لبرل سیاست کے بڑے علمبردار بنکر ابھرے تھے۔
بے ںطیر بھٹو بھی ان خیالات کے زیر اثر آئیں اور انھوں نے پاکستانی سیاست میں پی پی پی کی آئیندہ پالیسیوں میں ان خیالات کو بروئے کار لانے کا عندیہ دیا۔ تو بھٹو صاحب کی پھانسی کے بعد تھوڑے سے وقفے کے لیے پارٹی کی تنظیم کے اندر شیخ رشید کی قیادت میں باقی رہ جانے والے لیفٹ کو پھر سے غالب کرنے کا جو تھوڑا بہت موقع ملا تھا اسے پھر ریورس گئیر لگ گیا۔
بے ںظیر بھٹو کو کئی ایڈوانٹیج حاصل تھے بھٹو کی پھانسی بھٹو کو پاکستان کی شہری و دیہی غریب آبادی اور ایک بہت بڑی تعداد میں تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے مڈل کلاس پس منظر کے بہت سارے انتہائی توانا نوجوان سیاسی کارکنوں اور وکلاء ، اساتذہ، ڈاکٹرز، انجنئیرز جیسی پرتوں سے تعلق رکھنے والے شہری درمیانے تعلیم یافتہ طبقے میں ایک لیجنڈ افسانوی شخصیت بناچکی تھی اور بے نظیر بھٹو ان کی بیٹی ہونے، ضیاء کے خلاف زبردست جدوجہد کرنے اور جیل کی صعوبت برداشت کرنے اور اس دوران شاہنواز بھٹو کی ناگہانی موت اور پھر کئی ایک نوجوان کارکنوں کی پھانسیاں اور کوڑے اور سب سے بڑھ کر بے نظیر بھٹو کی شخصیت کا کرشمہ انھیں سب میں ممتاز کرچکا تھا۔
بے نظیر بھٹو پر پی پی پی کے اندر موجود پنحاب میں شیخ رشید اور ان کے ساتھیوں کا سخت گیر سوشل ڈیموکریٹک موقف زیادہ دباؤ پیدا کرنے والا نہیں تھا کیونکہ پنجاب کے بڑے شہروں بشمول سرائیکی خطے کے شہری علاقوں سے جو درمیانے طبقے سے ترقی پسند چہرے پی پی پی کے پلیٹ فارم سےابھرکر سیاست کے منظر نامے پر روشن ہوئے تھے ان کی اکثریت نے بے ںطیر بھٹو کی عملیت پسندانہ نیو لبرل پالیسی کے حق میں اپنا وزن ڈال دیا تھا۔
پنجاب میں اعتزاز احسن، جہانگیر بدر سمیت درمیانے طبقے کے ترقی پسندوں پر لبرل چھاپ تھی اور وہ شیخ رشید احمد جیسے بائیں بازو کے سخت گیر لوگوں کے ساتھ نہ چلے۔
یہی وجہ ہے 86ء سے آن ورڈ پنجاب میں پی پی پی کی تنظیم پر لبرل خیالات کی چھاپ گہری ہوتی چلی گئی اور سرائیکی وسیب میں بھی درمیانے اور تنخواہ دار سماجی طبقے سے آنے والے نوجوان سیاسی کارکنوں پر یہی لبول چھاپ نمایاں تھی جبکہ پارلیمانی سیاست میں بھی زیادہ اثر سرائیکی خطے میں بڑے جاگیردار گھرانوں کا تھا۔88
ء کا الیکشن جب ہوا تھا پی پی پی کے قومی اسمبلی کے پورے پاکستان سے مشکل سے اٹھارہ اور پنجاب اسمبلی میں 12 کے قریب ایسے ٹکٹ ہولڈر تھے جن کا معاشی و سماجی پس منظر عاجزانہ تھا اور ان میں سے مشکل سے دو یا تین ایم این اے ایسے تھے جن کو ہم بائیں طرف جھکاؤ کے حامل کہہ سکتے تھے۔
پنجاب میں پارٹی کی تنظیم میں موجود ورکرز کلاس عہدے داروں میں مشکل سے پانچ دس ایسے عہدے دار تھے جن کو ہم کہہ سکتے تھے کہ وہ موقع پرستی کی چمک سے غیر متاثر تھے۔

پاور پالیٹکس کرنے والی جماعت 93 میں کیسے بدلی؟

پی پی پی 88ء سے 83ء تک ایک بڑی ٹرانسفارمیشن سے گزری اور یہ 93ء کے آتے آتے ایک خالص پاور پالیٹکس کرنے والی جماعت میں بدل چکی تھی جس میں پارٹی کی تنظیم میں پہلی بار قومی و صوبائی حلقوں کی بنیاد پر تنظیمی اسٹرکچر کو متعارف کرایا گیا اور قومی و صوبائی حلقوں کے ٹکٹ ہولڈرز کو اس اسٹرکچر کا کنٹرول دے دیا گیا۔ اس کنٹرول نے پاکستان پیپلزپارٹی کی ضلع، تحصیل و سٹی اور پھر بلدیاتی حلقوں کی نیاد پر بنے پرائمری یونٹس کے تنظیمی ڈھانچے کو تباہ وبرباد کردیا۔ 97ء کے بعد پارٹی کی ممبرشپ لسٹیں کبھی بھی دوبارہ مرتب کرنے کے عمل سے نہ گزریں اور نہ ہی اس طرح سے پارٹی ممبر شپ کارڈ بنے جو 93ء تک موجود تھے۔ 93ء میں پارٹی کی حکومت آئی تو پہلی بار نوکریاں اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور ٹکٹ ہولڈرز کے حوالے کی گئیں اور ایسے ہی پیپلز سوشل ایکشن پروگرام کا ڈھانچہ بھی قومی و صوبائی حلقوں کے تحت بنایا گیا جس کا کنٹرول بھی پارٹی کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی وٹکٹ ہولڈرز کے پاس تھا۔

دیہاڑی باز سیاسی کارکنوں کا ٹولہ

اس عمل نے پارٹی میں دیہاڑی باز سیاسی کارکنوں کا ایک ٹولہ پیدا کیا۔ نظریاتی سیاسی کارکن
پوسٹ ضیاء الحق دور میں ایک منظم تذلیل کے سلوک کا شکار ہونے لگے۔
پاور پالیٹکس میں جو پیسے اور سماجی رتبے کا دخل تھا اس نے پیپلزپارٹی کی تنظیم اور پارلیمانی پارٹی کا حصّہ ہونے میں بنیادی کردار اختیار کرلیا۔
یہی وجہ ہے جن لوگوں کے ہاتھ میں پارٹی کی قومی و صوبائی حلقہ جاتی تنظیموں کا کنٹرول تھا انہوں نے جب پارٹی سے اقتدار چھین لیا گیا انہوں نے پارٹی بدلنے میں دیر نہیں لگائی اور جب پارٹی کی جیت کے آثار ہوئے ان کو دوبارہ اہم کردار ادا کرنے میں دیر نہ لگائی گئی۔
کیا پاکستان پیپلزپارٹی نے 97ء میں پارٹی کی حکومت گرجانے کے بعد اسلام آباد میں احتجاج میں دو درجن کارکن بھی شریک نہ ہونے پر اور نیشنل پریس کلب میں بے نظیر بھٹو کے شکوہ کہ ہم نے 16 لاکھ سے زیادہ نوکریاں کارکنوں میں بانٹی تھیں وہ اور ان کے خاندان آج ملک بھر میں پارٹی کے ساتھ احتجاج میں کھڑے نہیں ہیں کے بعد کوئی انکوائری بٹھائی تھی کہ ایسا کیوں ہوا؟ اور 2008ء سے 2013ء تک پی پی پی نے جہاں 97ء میں نوکریوں سے نکالے جانے والے 72 ہزار لوگوں کو دوبارہ نوکریوں پر لگایا بشمول واجبات کی ادائیگی کے اور نئی نوکریوں کی مد میں بقول ان کے 10 لاکھ نوکریاں پنجاب میں دی گئیں اور اربوں روپے کارکنوں کے نام پر تقسیم ہوئے تو ان کا نتیجہ انتخابات میں کیوں نہیں نکلا؟
اس پر کوئی انکوائری بٹھائی گئی؟ نہیں نا۔۔۔۔۔ اگر پی پی پی 1967ء کے اپنے تاسیسی منشور کی بنیاد پر عوامی حکومت کے قیام کی داعی ہے تو پارٹی کا تنظیمی ڈھانچہ موقعہ پرست درمیانے طبقے اور جآگیردار و سرمایہ داروں کے چنگل میں کیوں ہے؟
پارٹی کےاندر کہیں کوئی سوشل ڈیموکریٹک اور لیفٹ ونگ موجود ہے؟

بلاول بھٹو کے اردگر کون ہیں؟

بلاول بھٹو زرداری کے ارد گرد زیادہ تر نوجوان بالائی مڈل کلاس اور انتہائی بڑے امیر گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں جو لیفٹ یا سوشل ڈیموکریسی کی الف ب سے واقف نہیں ہیں۔ یا پھر سرائیکی وسیب میں قوم پرستانہ رجحانات کا ایک چھوٹا سا درمیانہ طبقے کے نوجوان اس پارٹی کا حامی یا ورکر نظر آتا ہے۔
سرائیکی وسیب سے پارٹی کا سینئر وائس چئیرمین ایک جآگیردار ہے جو سرائیکی وسیب میں جاگیردار سیاست کی باہمی تقسیم “گیلانی گروپ بمقابلہ قریشی گروپ” میں گیلانی گروپ کا سربراہ ہے اور سابقہ ریاست بہاول پور کے جاگیردار وزیراعظم مخدوم زادہ حسن محمود کا جاگیردار ضاحبزادہ مخدوم احمد محمود نام نہاد جنوبی پنجاب کا صدر ہے۔ جبکہ جنوبی پنجاب کی صوبائی تنظیم میں آدھے درجن سے زیادہ مخدوم حیدر زمان قریشی جیسے جاگیردار ہی عہدے دار ہیں اور ورکرز کے نام پر جو صوبائی عہدے دار ہیں وہ دیہاڑی باز ہیں جن میں بائیں بازو یا سوشل ڈیموکریسی کی نظریاتی تربیت چار آنے کی نہیں ہے۔ اور ضلعی تنظیموں میں بھی ان جاگیرداروں کے ذاتی وفاداروں کا غلبہ ہے۔ اس گلے سڑے تنظیمی ڈھانچے کے ساتھ جس پر جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی چھاپ بہت گہری ہے پاکستان پیپلزپارٹی سرائیکی وسیب میں عوامی راج کے نعرے کو عوام میں کیسے مقبول بنالے گی؟

حقیقی سیاسی کارکن اب کہیں نہیں

پیپلزپارٹی کے ہمدردوں میں اور اب بھی کارکنوں میں جو واقعی منجھے ہوئے عملی لیفٹسٹ یا سوشل ڈیموکریٹ سیاسی کارکن ہے وہ نہ تو پارٹی کی مرکزی و صوبائی تنظیموں میں فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے اور نہ وہ ضلعی تنطیمی ڈھانچے میں ہے۔
ونگز کی حالت تو اس سے بھی بدتر ہے۔ کیا وجہ ہے پی پی پی کے باشعور کارکن کہیں پیپلز تھنکرز فورم – پی پی ٹی ایف ، کہیں سوشل میڈیا پرجیالوں کی دنیا، کہیں، پی پی پی پلس جیسسے غیر سرکاری گروپوں میں تو نظر آتے ہیں لیکن پی پی پی کی سی ای سی، فیڈرل کونسل، صوبائی کونسلوں اور ضلعی کونسلوں میں ان کا کوئی مقام نہیں ہے؟
پیپلزپارٹی تو اپنا انتخابی منشور بھی کرائے پر لیے گئے لبرل دانشوروں سے بنواتی ہے جس کی چھپی کاپیاں ردی میں بکتی ہیں، گراس روٹ لیول تک نہیں پہنچتیں۔”

موسی سعید جو اپنی عمر کے آٹھ عشروں سے زائد زندگی گزار چکے ہیں۔ ذہنی طور پر اب بھی بہت فعال نظر آتے ہیں اور انھوں نے پاکستان پیپلزپارٹی کے تین بھٹوز کی قربت میں سیاست کے نشیب و فراز دیکھ رکھے ہیں۔
اپنے انداز میں پی پی پی کا ماضی، حال کھنگال رہے تھے۔ پی پی پی آج جب یہ سطور لکھی جارہی ہیں کے 6 دن بعد ملتان شہر میں قلعہ کہنہ قاسم باغ میں پی ڈی ایم کے جلسے میں اپنا 52 سالہ یوم تاسیس چوتھے سربراہ کی قیادت میں منانے جارہی ہے تو وہ کیا وہ پی پی پی کے خصوصی طور سنٹرل و جنوبی پنجاب میں زوال میں کارفرما داخلی عوامل اور خود احتسابی کی شروعات کرے گی؟
اس کی طرف پارٹی کو پیچھے دھکیلے جانے کے بیرونی اور خارجی عوامل اور اسٹبلشمنٹ کے کردار پر تو سیر حاصل بحث روز ہی کی جاتی ہے۔


شیئر کریں: