دنیا میں کورونا ویکسین لگنا شروع، پاکستان فیصلہ ہی نہیں کرسکا

شیئر کریں:

حکومت پاکستان نے چینی کمپنی سائنوفارم سے کورونا ویکسین کی خریداری کو ختمی شکل دے دی۔
پارلیمانی سیکریٹری برائے صحت نوشین حامد کا کہنا ہے
کہ اس سلسلے میں چار کمپنیوں سے بات چل رہی ہے.
چینی کمپنی سائنوفام سے بات چیت ختمی مراحل میں ہے۔

پاکستان کے سوا دنیا کے کئی ممالک کورونا ویکسین خرید چکے

پارلیمانی سیکریٹری برائے صحت نوشین حامد کا مزید کہنا ہے
کہ امید ہے فروری یا مارچ کے اوائل میں کورانا سے بچاو کی ویکیسن پاکستان پہنچ جائے گی۔۔
انہوں نے کہا کہ فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو سب سے پہلے ویکسین لگائی جائے گی۔۔
انہوں نے کہا کہ سپر کووڈ سے بچاؤ کے لئے سخت اقدامات کئے گئے ہیں۔۔
یوکے سے آنے والے تمام مسافروں کے ٹیسٹ کئے جا رہے ہیں۔
ابھی تک سپرکووڈ کے زیادہ مریض پاکستان میں نہیں ہیں
مگر اس خطرناک وبا کا پھیلاؤ تیز ہے لیکن یہ پہلے وائرس سے زیادہ خطرناک نہیں ہے۔۔

نوشین حامد نے کہا کہ احتجاج کرنے والے پمز ملازمین کی کچھ غلط فہمیاں ہیں جنہیں دور کیا جائے گا۔
ہمارا ہیلتھ سسٹم اس طرح سے فنکشن نہیں کر رہا تھا جیسے کرنا چاہیئے۔
ہیلتھ ریفارمز لائے بغیر سروس کوالٹی بہتر نہیں کی جا سکتی۔
این سی او سی کے مطابق تین لاکھ سے زائد ہیلتھ ورکرز ویکسین
کے لئے این سی او سی کی ویب سائٹ پر رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔


شیئر کریں: