پاکستان میں ہزارہ برادری کہاں‌ سے آئے؟

شیئر کریں:

پاکستان کے سوشل میڈیا اور کچھ وقت کے لیے مین اسٹریم میڈیا پر ہزارہ کا نام گونجتا رہتا ہے۔

آخر یہ ہزارہ ہیں کون؟

ہزارہ کا تعلق کہاں سے ہے اور پاکستان میں کہاں سے آئے ہیں؟
ہم تاریخ کے جھروکوں سے آپ کو ہزارہ سے متعلق بتانا چاہتے ہیں۔

ہزارہ برادی کا تعلق شیعہ مسلک ہے انہیں 2001 سے پاکستان میں ٹارگٹ کلنگ کا سامنا ہے۔
ہزار برادری بلوچستان کے علاقے دارالحکومت کوئٹہ میں آباد ہیں۔ ان کی مجموعی آبادی
تقریبا 9 لاکھ کے قریب ہے۔
رپورٹس کے مطابق پچھلی دو دہائیوں کے دوران 2 ہزار کے قریب افراد دہشت گردی کا ایندھن بن چکے ہیں۔
ہزارہ کون ہیں؟

تیرہویں صدی میں چنگیز خان نے افغانستان پر حملہ کیا اور اس کی فوج کے کچھ لوگ یہیں کے
ہو کے رہ گئے۔
ہزارہ ان ہی منگول فوجیوں کی اولادوں سے ہیں بدقسمتی سے افغانستان کے پشتون امرا نے ہزارہ آبادی
کو کبھی بحثیت افغان تسلیم نہیں کیا۔

ہزارہ کے ساتھ مختلف ادوار میں امتیازی سلوک روا جاتا رہا ان کی نسل کشی کا آغاز 1880
کے بعد سے شروع ہوا۔
افغان بادشاہ عبدالرحمان نے 1883 سے 1893 کے دوران منظم انداز سے نسل شروع کا حکم دیا۔
اس دوران کہتے ہیں 60 فیصد سے زائد ہزارہ کی آبادی کا قتل عام کیا گیا۔
وہاں سے بڑی تعداد میں لوگ ہجرت کر کے بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ اور ایران چلے گئے۔

تحقیق کے مطابق انیسویں صدی کے آخر میں ہزارہ برادری کی زندہ رہ جانے والی خواتین اور
بوڑھوں کو غلام بنا لیا گیا۔

بطور غلام ان کی بڑے پیمانے پر خرید و فروخت بھی کی جاتی رہی۔
ہزارہ کے سروں پر منڈلانے والی موت مسلسل منڈلاتی رہی اور دور جدید 1990 میں بھی افغان طالبان نے
ان پر حملے جاری رکھے۔
افغان صوبے بامیان اور مزار شریف میں ان کی اکثریتی آبادیوں پر حملے ہوتے رہے۔
ہزارہ کی جماعت حزب وحدت کے سربراہ عبدالعلی مزاری کو 1995 میں طالبان نے اس وقت قتل کر دیا
تھا جب وہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے مذاکرات کے لیے طالبان سے ملنے جارہے تھے۔

ہزارہ کی زندگی میں کچھ راحت و سکون صدر حامد کرزئی کے دور حکومت میں نصیب ہوا۔
2004 سے حامد کرزئی نے انہیں ہزارہ کو حکومت سازی میں بھی شامل کیا اور کسی حد تک
امتیازی سلوک میں کمی آئی۔

ہزارہ محنتی اور جفاکش ہوتے ہیں

ہزارہ نے مسلسل نسل کشی کے باوجود ہمت نہ ہاری اور جہاں رہے انتھک محنت کر کے زندگی گزاری۔
اسی وجہ سے انگریزوں کی نگاہ بھی ان پر پڑی اور دوسری جنگ عظیم کے دوران بلوچستان کی ہزارہ برادری
کو فوج میں بھرتی شروع ہوئی۔

اسی دور کا ایک بڑا نام جنرل محمد موسی کا ہے جنہوں نے پینسٹھ کی جنگ میں پاک فوج کی قیادت کی۔
پاک فوج نے ہزارہ نے کھیل ہو یا سرکاری ملازمت یا تجارت سب ہی جگہ اپنا لوہا منوایا۔
ایک وقت یہ آیا کہ کوئٹہ شہر کے تعلیمی اداروں، سرکاری ملازمتوں اور پولیس سب جگہ اپنی تعلیمی
قابلیت کی وجہ سے ہزارہ دیکھائی دیتے تھے۔

بلکہ کوئٹہ شہر کی تجارت میں بھی ان کا بڑا کردار رہا شائد یہی ادا بعض افراد کو پسند نہ آئی اور پھر
ان کی ٹارگٹ کلنگ کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔

ہزارہ کی ٹارگٹ کلنگ

ہزارہ برادری پر پہلا بڑا حملہ جون 2003 میں کیا جہاں کوئٹہ کے سریاب روڈ پر پولیس کیڈٹ کی
گاڑی پر فائرنگ کی اس واقعہ میں ایک درجن سے زائد ہزارہ کے جون شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔
اس وقت سے یہ سلسلہ مختصر وقفے کے بعد سے جاری و ساری ہے۔

70 سے 80 ہزار کے قریب لوگ اپنی زندگیاں بچا کے پاکستان سے بیرون ملک ہجرت کر چکے ہیں۔
جمہوری حکومت ہو یا آمریت اور عمران خان کی ہزارہ کے عوام کی قسمت نہ بدل سکی۔

وہ کل بھی لاشیں لیے احتجاج کرتے تھے اور آج بھی لاشوں کے ساتھ سڑکوں پر بیٹھے اداروں کی
بے حسی کا ماتم کر رہے ہیں۔


شیئر کریں: