پاکستان میں کورونا کے خلاف اجتماعی قوت مدافعت

شیئر کریں:

عمید اظہر کی ریسرچ

دنیا سے کورونا وائرس ختم کرنے کے تین طریقے کون سے ہیں؟
ہرڈ امیونٹی ہے کیا؟
ہرڈ امیونٹی کا خوف ناک منفی پہلو کیا ہے؟
ماضی میں دنیا میں کب ہرڈ امیونٹی اپنائی گئی؟
پاکستان ہرڈ امیونٹی پالیسی کی طرف کیوں جا رہا ہے؟
کن وجوہات کی بنیاد پر پاکستان میں یورپ سے زیادہ اموات ہوسکتی ہیں؟

 

دنیا سے کورونا وائرس ختم کرنے کے تین طریقے کون سے ہیں؟

 

چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والا کورونا وائرس عالمی وبا کی شکل اختیار کرچکا ہے۔
وائرس سے دنیا بھر میں پچاس لاکھ گیارہ ہزار سے زائد لوگ متاثر ہیں۔
تین لاکھ پچیس ہزار سے زائد افراد وائرس کی وجہ سے ہلاک ہوچکے ہیں۔
وائرس کا دنیا بھر مِیں تیزی سے مزید پھیلاو بھی جاری ہے۔

کورونا پاکستان کا 19ویں نمبر پر لے آیا

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس عالمی وبا پرکیسے قابو پایا جائے؟
کورونا وائرس دنیا میں آنے والی کوئی پہلی عالمی وبا نہیں۔
اس سے پہلے خسرہ، اسپینش فلو اور دیگر بیماریوں سے دنیا مقابلہ کرچکی ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ کسی بھی عالمی وبا کو قابو کرنے کے تین ہی طریقے ہوتے ہیں۔
ہر ملک اپنے طور پر لاک ڈاون کرے اور سماجی فاصلوں سے شہریوں کو تب تک وائرس
سے بچائے یا وائرس کا پھیلاو محدود کرے جب تک ویکسین نہیں بن جاتی۔
پوری دنیا میں ایک ساتھ چالیس دن کے لیے لاک ڈاون کردیا جائے تاکہ وائرس ہر ملک سے ختم ہو جائے۔
ہرڈ امیونٹی حاصل کرلی جائے۔
ہرڈ امیونٹی کا مطلب تمام انسانوں کا کیسی وبا یا بیماری کے خلاف اجتماعی قوت مدافعت حاصل کر لینا ہے۔

پوری دنیا میں ایک ساتھ لاک ڈاون کرنا ناممکن ہے اس لیے یہ آپشن قابل عمل نہیں یا انتہائی مشکل ہے۔
دوسرا آپشن ویکیسین کے آجانے تک شہریوں کو سماجی فاصلوں میں رکھنا اور لاک ڈاوں کر کے ویکیسن کا انتظار کرنا ہے۔
یہ ماڈل دنیا کے بیشتر ممالک میں اپنایا جارہا ہے۔
وبا کے خاتمے کے لیے تیسرا آپشن “ہرڈ امیونٹی” ہے جس کی طرف پاکستان جارہا ہے۔
کیوں کہ غریب ممالک کی معشیت لمبے عرصے کے لیے لاک ڈاون کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی۔
ماضی قریب میں ویکیسن کی دستیابی ممکن نظر نہیں آرہی۔
ہرڈ امیونٹی کا مطلب خود کے قدرت کے رحم و کرم پر چھوڑنا ہے۔
جنگل میں بھی قدرت کا ایک قانون ہے کہ جو لڑ سکتا ہے اور طاقتور ہوتا ہے وہی زندہ رہتا ہے۔
کمزور اور بیمار جانوروں کو قدرت کے رحم و کرم کر مرنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔
طاقتور شیر اپنے جھنڈ یا قبیلے پر راج کرتا ہے لیکن وہی شیر جب کمزرو اور بوڑھا ہوجاتا ہے
تو نوجوان شیر جھنڈ پر قبضہ کر لیتے ہیں اور اس بوڑھے شیر کو جھنڈ سے نکال دیا جاتا ہے۔
یہ بوڑھا شیر جو ایک وقت جھنڈ کا بادشاہ ہوتا تھا اور طاقت کے زور پر بڑے جانوروں کا شکار کرتا تھا۔
جھنڈ سے نکالے جانے کے بعد خود دوسرے جانوروں کا شکار بن جاتا ہے۔
صرف طاقت ور ہی جنگل میں زندہ رہتا ہے۔
اسی طرح “ہرڈ امیونٹی” حاصل کرنے کے دوران صرف صحت مند اور طاقتور ہی زندہ رہتے ہیں
اور بیماری سے لڑ کر اجتماعی مدافعت حاصل کرپاتے ہیں۔

 

(ہرڈ امیونٹی )اجتماعی قوت مدافعت ہے کیا؟

 

 

ہرڈ امیونٹی کا مطلب کسی بیماری کے خلاف انسانوں کا اجتماعی طور قوت مدافعت حاصل کرنا ہے۔
اگر کسی بیماری میں 80 سے 90 فیصد لوگ متاثر ہو کر صحت یاب ہو جائیں تو دیگر آبادی
اس وبا سے محفوظ رہتی ہے۔

پنجاب رکن اسمبلی شاہین رضا کورونا سے شہید

انسان اس وبا کے خلاف قوت مدافعت بھی حاصل کرلیتے ہیں۔
اس طرح “ہرڈ امیونٹی” حاصل کرنے سے یا تو وبا ختم ہوجاتی ہے یا پھر اس کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہوجاتی ہے۔
ہرڈ امیونٹی یا اجتماعی قوت مدافعت کا نظریہ 1930 میں دیکھا گیا۔
گزشتہ صدی کے آغاز میں خسرے کی وجہ سے بچوں کی اموات کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔
خسرے کی وبا کے دوران سائنس دانوں کو ویکیسن بنانے میں کامیابی حاصل نہ ہوسکی
جس کی وجہ سے دنیا بھر میں بیشتر بچے خسرے میں مبتلا ہوئے۔
اس طرح دنیا نے خسرے کے خلاف اجتماعی قوت مدافعت حاصل کی۔
خسرے کی ویکیسن تیس سال بعد 1960 میں بنائی جا سکی۔
ہرڈ امیونٹی حاصل کرنے کے لیے انسانیت کو بڑی قربانی دینا پڑ سکتی ہے۔
بیشتر آبادی کو وبا کے رحم و کرم پر چھوڑنا بڑے خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔
ہرڈ امیونٹی حاصل کرنے کے دوران معاشرے کے بزرگ اور کمزور افراد قدرت
کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں اور عموما ہلاک ہوجاتے ہیں۔
صرف نوجوان اور صحت مند افراد ہی وبا یا بیماری کا مقابلہ کر پاتے ہیں۔
1918 میں اسپینش فلو کی عالمی وبا میں بچاس کروڑ لوگ متاثر ہوئے۔
اسپین سے شروع ہونے والے فلو کی یہ وبا ایک سال کے عرصے تک دنیا میں جاری رہی
اور صرف برصغیر )بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش( میں ہی اس وبا سے
ایک کروڑ ستر لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

 

پاکستان ہرڈ امیونٹی پالیسی کی طرف کیوں جا رہا ہے؟

 

پاکستان میں کورونا وائرس کے خلاف حالیہ حکومتی فیصلوں یہ بات واضع ہوگئی ہے کہ حکومت
نے کورونا کے خلاف ہرڈ امیونٹی پالیسی اپنا لی ہے۔
بڑی مارکیٹس، شاپنگ مالز، فیکٹریوں اور عبادت گاہوں کو دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔
سٹرکوں پر شہریوں کا رش معمول کے مطابق دوبارہ نظر آنے لگا ہے۔
جہاں ایک طرف کورونا وائرس کے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے
وہیں پبلک ٹرانسپورٹ کو بھی کھول دیا گیا ہے۔
طبی ماہرین کی طرف سے اس ساری صورت حال پر شدید تشویش پائی جارہی ہے۔
ٹرانسپورٹ کے کھولنے سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ حکومت اس وبا کو ملک کے طول و عرض میں پھیلا رہی ہے۔
خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ مقتدر قوتیں “ہرڈ امیونٹی” حاصل کرنے کا فیصلہ کرچکی ہیں
کیوں کہ پاکستان کی معیشت لمبے لاک ڈاون کی متحمل نہیں ہوسکتی ہے۔
دوسری طرف کورونا ویکیسن کا جلد مارکیٹ میں دستیاب ہونا دور دور تک مکمن نہیں۔
وائرس کے خلاف لمبی لڑائی میں اگر لاک ڈاون کیا جاتا ہے تو پاکستان میں بےروزگاری
اور غربت اس قدر بڑھ سکتی ہے جس کی وجہ سے افراتفری اور خانہ جنگی سر اٹھا سکتی ہے۔
اس ساری صورت حال میں پاکستان جیسے دیگر ترقی پذیر اور غریب ممالک کے پاس “ہرڈ امیونٹی”
حاصل کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں۔

پاکستان کے حالات صومالیہ جیسے لیکن رہتے بادشاہوں کی طرح ہیں

ہرڈ امیونٹی حاصل کرنے کی پالیسی انتہائی خطرناک بھی ہوسکتی ہے۔
اس دوران ملک میں ہلاکتوں کی تعداد لاکھوں تک پہنچ سکتی ہیں۔
اس ساری صورت حال پر وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری بھی اپنے خدشات ظاہر چکے ہیں۔
دوسری طرف ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ہرڈ امیونٹی کی طرف صرف وہی ممالک جاسکتے ہیں جہاں
صحت کی سہولیات زیادہ ہوں اور اسپتالوں میں مریضوں کے علاج کی سہولت میسر ہو۔
پاکستان میں صحت کا نظام پہلے ہی انتہائی کمزور ہے اگر پاکستان ہرڈ امیونٹی کی طرف جاتا ہے
تو پاکستان کا صحت کا نظام اس ساری صورت حال کو قابو کرنے میں مکمل طور ناکام ہوجائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپتالوں میں ابھی سے کورونا کے مریضوں کے لیے جگہ ختم ہوگئی ہے۔
اسی لیے حکومت نے مریضوں کو گھروں میں قرنطینہ کرنے کی پالیسی متعارف کروائی ہے۔
اگر حکومت لاک ڈاون کو دوبارہ سخت نہیں کرتی تو کورونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد
اس قدر بڑھ سکتی ہے کہ ان کی مکمل دیکھ بھال ممکن نہیں ہوگی۔

 

کن وجوہات کی بنیاد پر پاکستان میں یورپ سے زیادہ اموات ہوسکتی ہیں؟

 

حیران کن طور پر عوامی حلقوں میں بھی کورونا پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جارہا۔
بازاروں میں نہ تو رش میں کوئی کمی ہے اور نہ ہی سماجی فاصلوں کا خیال رکھا جارہا ہے۔
شہریوں میں پایا جانے والا یہ تاثر غط ہے کہ پاکستان کے شہریوں میں یورپی شہریوں
سے زیادہ قوت مدافعت ہے اس لیے وائرس انہیں نقصان نہیں پہنچائے گا۔
یورپ کے شہریوں کو صحت مند غذا دستیاب ہے اور صحت کی سہولیات بھی پاکستان سے کہیں بہتر ہیں۔
پاکستان میں 60 فیصد سے زائد شہری خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں
اور ان کو دو وقت کا کھانا تک میسر نہیں۔
دوسری طرف پاکستان میں صحت کا نظام بھی انتہائی کمزور ہے۔
اس لیے پاکستان میں شرح اموات یورپ اور دیگر مغربی ممالک سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہیں۔
پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی کم تعداد ہونے کی بڑی وجہ ٹیسٹنگ کا نہ ہونا ہے۔
ملک میں انتہائی محدود پیمانے پر کورونا کے ٹیسٹ کیے جارہے ہیں کیوں کہ نہ تو ہمارے پر
پاس لیبارٹریز ہیں اور نہ ہی بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں کورونا متاثرہ مریضوں کی حقیقی تعداد سامنے نہیں آرہی۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کی حقیقی تعداد موجودہ
نمبرز سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔
ہرڈ امیونٹی کی طرف جانے سے پہلے حکومت کو ایک بار ماضی میں آنے والی
عالمی وباوں کے پھیلاو اور ان سے ہونے والی تباہی کا مطالعہ کرنا چاہیے۔
ایک صدی قبل اسپین سے شروع ہونے والی فلو کی وبا نے یورپ سے زیادہ برصغیر میں تباہی مچائی تھی۔
زیادہ آبادی اور صحت کی محدود سہولیات کی وجہ اسپینش فلو نے بڑے پیمانے پر خطے میں تباہی پھیلائی۔
اسپیشن فلو کی دوسری لہر انتہائی خطرناک ثابت ہوئی اور صرف برصغیر میں ہی
ایک کروڑ ستر لاکھ کے قریب افراد لقمہ اجل بن گئے۔
پاکستان کو ہرڈ امیونٹی حاصل کرنے سے پہلے سوچنا ہوگا کہ کیا ملک میں اتنے بڑے پیمانے
پر بیمار مریضوں کا علاج کرنے کی سہولت موجود ہے؟
ہرڈ امیونٹی حاصل کرنے کے لیے کیا بزرگوں، کمزوروں اور بیماروں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا جاسکتا ہے؟


شیئر کریں: