پاکستان میں کورونا کا پہلا کیس عمرہ زائر لایا

شیئر کریں:

پاکستان میں ان دنوں ایک بحث چھڑی ہوئی ہے کہ کورونا وائرس پاکستان میں زائرین ایران سے لائے ہیں۔
اس پر سوشل میڈیا اور پاکستان کے مین اسٹریم میڈیا پر بھی لاحاصل بحث چھڑی ہوئی ہے۔
اس بحث کی وجہ سے ملک میں فرقہ وارانہ مسئلہ کو بھی ہوا دینے کی سازش کی جارہی ہے۔
زائرین کی حمایت اور مخالفت میں بیان بازی کا سلسلہ تیز ہوتا جا رہا ہے۔
اس بحث کو بعض سیاسی رہنماؤں نے بھی آگ پر تیل ڈالنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
صورت حال زیادہ خراب ہوتی لیکن اس نزاکت کے دوران ہی آج خیبر پختونخواہ کے وزیر صحت نے انکشاف کر کے سب ہی کو حیران کر دیا۔
وزیرصحت کے پی تیمور سلیم جھگڑہ نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا کیس ضلع مردان میں عمرہ سے آنے والا زائر لایا۔
اسی زائر نے پورے ضلع میں کورونا وائرس پھیلایا، حکومت نے جب مردان کی یونین کونسل منگا میں لوگوں کے ٹیسٹ کیے تو انتظامیہ حیران ہو گئی۔
ٹیسٹ کرنے پر ان کے خاندان اور دوستوں میں سے 39 کیسز کنفرن کورونا کے نکلے۔
کے پی کے وزیر صحت کے اس انکشاف نے ملک دشمن عناصر کی سازش ناکام بنا دی ہے۔
ملک دشمن عناصر اس بحرانی صورت حال میں یکجا ہوتی قوم کو ایک بار پھر سے منتشر کرنا چاہتے تھے۔
ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے بارڈر اور ائیرپورٹس پر خاطر خواہ انتظامات نہ کیے جانے کی وجہ سے ملک میں کورونا وائرس پھیلا۔
حکومت اپنی ناکامی چھپانے کے لیے الزامات ایک دوسرے پر عائد کرتی رہی۔
پاکستان میں جو مسئلہ حل نہ ہو رہا ہو اور حکومت کو جب بھی ناکامی کا سامنا ہوتا ہے تو ایشو کو مذہبی بنادیا جاتا ہے۔
ہم نے خود مذہبی جماعتوں اور علما کو سیاست میں کھینچتے ہیں اور بعد میں حکومت ہی کے لوگ برائیاں کر رہے ہوتے ہیں۔


شیئر کریں: