پاکستان میں صحافت پر اندرونی حملے “رو لفافے رو” بھی ٹرینڈ بن گیا

شیئر کریں:

پاکستان میں صحافت اور صحافی دونوں ہی پچھلے چند ماہ سے تند و تیز تنقید کی زد میں ہیں۔
باالخصوص بھارتی بھرکم تنخواہیں لینے والے بااثر اینکرز سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کا سامنا کر رہے ہیں۔

آئے روز ٹوئیٹرز پر نت نئے ٹرینڈز ایک دوسرے کی حمایت اور مخالفت میں چلائے جارہے ہوتے ہیں۔
کبھی حامد میر تو کبھی عاصمہ شیرازی، مبشر لقمان، کامران خان، مبشر زیدی تو کبھی کوئی اور۔

سینئر اینکرز کہتے ہیں جب سے تحریک انصاف کی حکومت آئی ہے ان کے خلاف نیا محاذ کھول دیا گیا ہے۔
یوٹیوب چینلز والے رپورٹرز سینئرز اینکرز پر آئے روز ویڈیوز بنا کے اپ لوڈ کر دیتے ہیں۔
اسی طرح ٹوئیٹرز پر اینکرز کو آڑے ہاتھوں لیتے ہیں الزامات کی صحافت نے صحافت کا خون کر دیا ہے۔
آج پھر نیا ٹرینڈ “رو لفافے رو” کے نام سے چلایا جارہا ہے جس میں اینکرز اور بعض رپورٹرز کی تصاویر
وائرل کی جارہی ہیں۔

اینکرز کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان ان رپورٹرز اور وی لاگرز سے مل رہے ہیں جن کی کوئی اوقات نہیں۔
منظم انداز میں اینکرز کے خلاف مہم چلائی جاری ہے وی لاگرز کا کہنا ہے کہ اینکرز سیاسی ہو چکے ہیں۔

اینکرز نے خود اپنی ساکھ مجروح کی ہے حامد میر ہوں یا سلیم صافی، کامران خان ہوں یا طلعت حسین اور
نجم سیٹھی سب ہی کسی نہ کسی جماعت کی طرف داری کر رہے ہوتے ہیں۔
سوشل میڈیا ایکٹوٹس کہتے ہیں صحافیوں اور اینکرز کا یہ کام نہیں کہ وہ عدالتوں میں نواز شریف اور
اسحاق ڈار کا مقدمہ لے کر جائیں۔

بعض سینئر صحافیوں کا کہنا ہے کہ اینکرز نے سیاسی جماعتوں کے اسٹیج پر جا کر خود اپنی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔
ملک میں جب اخبارات اور ٹی وی چینلز سے کم آمدنی والے صحافیوں کو نکالا جاتا ہے تو اینکرز زبان تک
نہیں ہلاتے اور جب ان پر بات آتی ہے تو پھر صحافت پو حملہ قرار دے دیتے ہیں۔

غیر جانب دار صحافی کہتے ہیں ملک میں منظم انداز سے دیگر اداروں کی طرح صحافیوں کو تقسیم کرنے
کی بھی مہم چلائی جارہی ہے۔

ایسے میں اینکرز ہی کو چاہیے کہ وہ اپنا احتساب خود کریں اور جونیئر کے ساتھ بیٹھ کر معاملا حل کریں۔
یہی وجہ ہے کہ عام عوام نے بھی اب نیوز چینلز دیکھنا کم کر دیا ہے کیونکہ وہ بھی اب اس شعبہ کی
اصلیت پہچان چکے ہیں۔


شیئر کریں: