پاکستان عالمی سیاست کا مرکز، ترکی اور آذربائیجان کے وزرا خارجہ اسلام آباد میں

شیئر کریں:

آذربائیجان اور آرمینیا جنگ کے دوران کردار ادا کرنے پر
پاکستان کے دوست ممالک ترکی اور آذربائیجان کے وزرا خارجہ پاکستان پہنچے ہیں۔
دوست ممالک کے مغزز مہمانوں کا پاکستان پہنچنے پر فقیدالمثال استقبال کیا گیا۔
دفتر خارجہ میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے ہم منصبوں کا ریڈ کارپٹ استقبال کیا۔
ذرائع کے مطابق ترکی اور آذربائیجان کے وزرا خارجہ پاک فوج کا شکریہ ادا کرنے پاکستان پہنچے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ آذربائیجان اور آرمینیا کی جنگ میں پاکستان کی بہادر افواج نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔
پاکستان کی مسلح افواج نے آذربائیجان جا کر دشمن آرمینیا کو نیست و نابوت کردیا تھا۔

آزر بائیجان کو بڑی کامیابی، اہم شہر کو آرمینیا سے آزاد کروا لیا

آرمینیا اور آذربائیجان کی جنگ کے دوران عالمی میڈیا شور مچا رہا تھا
کہ ترکی اور پاکستان براہ راست مداخلت کر رہے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ پاکستان کی فوج نے نہ صرف اس جنگ میں شرکت کی
بلکہ پاکستان کی ہی پلاننگ تھی جس نے آرمینیا کی طاقتور فوج کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا۔
بین الاقوامی میڈیا کی طرف سے یہ بھی دعوی کیاگیا کہ جنگ کے دوران نصف درجن سے زائد پاکستانی بھی شہید ہوئے۔

ترکی پر امریکی پابندیوں کے خلاف ایران ترکی کے ساتھ کھڑا ہوگیا

جنگ جیتنے کے بعد پاک فوج کی قربانیوں اور پاکستان کے تعاون کا اعتراف آذربائیجان کی عوام نے بھی کیا۔
آرمینیا سے جنگ جیتنے کے بعد آذربائیجانکی سٹرکوں پر پاکستان اور ترکی کے جھنڈے نمایاں طور پر دیکھے گئے
آذربائیجان کی عوام پاک فوج کے حق میں نعرے لگاتی اور
ٹویٹر پر بھی تینوں دوست ممالک کے حق میں ٹرینڈز چلتے رہے۔
ذرائع کا کہنا ہے اس جنگ کے بعد پاکستان، ترکی اور آذربائیجان کی دوستی مزید مضبوط ہوگئی ہے۔
یہی وجہ سے کہ آذربائیجان اور ترکی کے وزرا خارجہ اس اہم دورے پر پاکستان آئے ہیں۔
دورے کے دوران تینوں ممالک آپس میں مفاہمتی یادداشتوں اور تجارتی معاہدوں پر دستخط کریں گے۔
موجودہ صورت میں اسلام آباد خطے کی سیاست کا مرکز بن گیا ہے۔

پاکستان اور ترکی کیوں شانہ بشانہ کھڑے ہیں؟

ترکی اور آذربائیجان سے پہلے ایران کے وزیرخارجہ جواد ظریف نے بھی پاکستان کا دورہ کیا تھا۔
ایرانی وزیرخارجہ کے دورے پر پاکستان اور ایران نے
ایک نیا بارڈر کھولنے پر اتفاق کیا تھا جہاں سے تجارت جاری ہے۔

پاکستان اور ایران کی قربت میں اضافہ، تجارت کا ایک اور در کھل گیا

ادھر سعودی عرب نے پاکستان کی اہمیت کو جانتے ہوئے دوبارہ اسلام آباد کا رخ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بھی رواں ماہ کے آخر میں پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔
محمد بن سلمان پاکستان میں چند دن قیام بھی کریں۔
دورہ پاکستان پر محمد بن سلمان تلور کا شکار کریں۔
سعودی ولی عہد اپنےد ورے میں اسلام آباد میں اہم ملاقاتیں بھی کریں گے۔

ایرانی سائنسدان قتل کے بعد سعودی ولی عہد کا دورہ پاکستان

ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی ولی عہد پاکستان اور سعودی عرب
کے کشیدہ تعلقات کو نارمل کرنے کے لیے پاکستان آرہے ہیں۔
یہ بھی توقع کی جارہی ہے کہ سعودی ولی عہد دورہ پاکستان
پر بھاری سرمایہ کاری کا اعلان کریں گے۔

افغان امن عمل میں بھی پاکستان بنیادی کردار ادا کر رہا ہے۔
پاکستان ہی وہ ملک ہے جس نے طالبان کو مذاکرات پر میز لانے لانے پر رضا مند کیا۔
گزشتہ چند ماہ میں افغان صدر اشرف غنی، افغان نائب صدر اور حزب وحدت اسلامی کے سربراہ کریم خلیلی،
چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ، امریکی نمائندہ برائے افغان عمل زلمے خلیل زادہ کئی بار پاکستان کے دورے کر چکے ہیں۔

پہلی افغان امن کانفرنس پاکستان کے پر فضا مقام پر

طالبان رہنما ملا عبدالغنی برادر، حزب اسلامی کے
سربراہ گلبدین حکمت یار اور افغان جرگہ بھی پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں۔
اس ساری صورت حال میں بھارت کے لیے تشویش کی بات یہ ہے
کہ طالبان رہنما افغانستان میں بھارت کا کردار یکسر مسترد کرچکے ہیں۔
خطے کے طاقتور ترین ممالک اور طاقتور ترین اسٹیک ہولڈرز کے
اسلام آباد دوروں نے بھارت اور دیگر پاکستان مخالف قوتوں کو باور کروا دیا ہے
کہ خطے میں پاکستان کا متبادل بننا مشکل ہی نہیں۔۔ ناممکن ہے

 


شیئر کریں: