پاکستان دشمنی میں مولانا بہت آگے نکل گئے

شیئر کریں:

تحریر: شہزادہ احسن اشرف شیخ
سابق چیئرمین و مینیجنگ ڈائریکٹر پی آئی اے
سابق وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار

کھیل فائنل راونڈ میں داخل ہوچکا۔
سال 2020 کے اکتوبر، نومبر اور دسمبر میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے لیے نئی تاریخ لکھی جائے گی۔
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ 2021 میں مختلف شکل میں نظر آئیں گی
وقت کی نزاکت کا ادراک کر کے مولانا فضل الرحمن نے بھی ریاست پاکستان کے خلاف مہم چلا رکھی ہے۔

مولانا کا اصل ایجنڈا پاکستان کو کمزور کرنا ہے

مولانا فضل الرحمن کی طرف سے شروع کی گئی تحریک کا ایجنڈا پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کو کرپشن سے نجات دلوانے سے کہیں آگے گا ہے۔
مولانا کا ملک دشمن ایجنڈا واضع طور پر امریکا اور دشمن بھارت کے حق میں نظر آرہا ہے۔
یہاں ہمارے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ فضل الرحمن نہ تو کوئی مذہبی اسکالر ہے اور نہ ہی کوئی فرشتہ ہے۔
مولانا نے کم پڑھے لکھے لوگوں کو بےوقوف بنانے کے لیے مذہب کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔

اس ملک کی بدقسمتی

یہ متنازع شخصیت کالعدم انصار الاسلام کا نہ صرف حصہ رہی بلکہ اس تنظیم کے سرگرم رہنما بھی تھی۔
اب یہی ملا مولانا فضل الرحمن پاک فوج کے خلاف زہر اگل رہا ہے۔

مولانا پاک فوج کی لیڈر شپ کے خلاف پراپگنڈا کر رہے ہیں

مولانا فضل الرحمن سرعام پاکستان آرمی کے خلاف متنازع بیان دے رہا ہے اور پاک فوج کی لیڈرشپ کو اسرائیل کے ساتھ منسلک کرنے کا پراپگنڈا کر رہا ہے۔
مذیب کا لبادہ اوڈھے یہ آدمی سرعام عالمی طاقتوں سے پاک فوج کو شکست دینے کی مدد مانگ رہا ہے۔
مولانا اور اس کے ساتھیوں کی زہر اگلتی زبانیں ان کے مستقبل کے ناپاک عزائم واضع کررہی ہیں۔

یہ سفر مشکل ہوگا

دراصل یہ وہ کرائے کے قاتل ہیں جو کوئی بھی پیسے اور طاقت دے کر خرید سکتا ہے۔
کفایت اللہ اور مولانا فضل الرحمن جس طرح کا گند اپنی زبان سے اگل رہے ہیں اس کا کوئی باشعور انسان تصور بھی نہیں کرسکتا۔
یہ ملا پاکستان کے خلاف بڑی سازش کا حصہ ہیں۔ ارض وطن کے دشمن ان شخصیات کے ملک میں موجود اثاثے پاکستان کے خلاف استعمال کرچکے ہیں۔پاکستان کو اندورنی اور بیرونی خطرات میں سے یہ سب سے بڑا خطرے بن چکے ہیں۔

مولانا کالعدم تنظیم کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں

اس ساری صورت حال سے ایک بات تو واضع ہوگئی ہے کہ پاکستان آرمی اپنی آخری جنگ ان غداروں کے خلاف لڑے گی۔
مولانا فضل الرحمن نے قبول کیا ہے کہ ریاست مخالف سرگرمیوں اور دہشت گردی میں ملوث کالعدم تنظیم انصار الاسلام سے نہ صرف ان کا تعلق ہے بلکہ یہ جماعت مولانا کی ملکیت ہے۔

نواز شریف کی متنازع سیاست کے پیچے عالمی قوتیں ہیں

فضل الرحمن اور نواز شریف نے ریاست پاکستان کو للکارا ہے۔
اس سے یہ بات بخوبی ظاہر ہوتی ہے کہ نواز شریف کے پیچھے کچھ عالمی طاقتیں بھی موجود ہیں جو یہ سب کروا رہی ہیں۔

مسلم لیگ ن کے لیے چند سوالات

ان عالمی طاقتوں کے بغیر نوازشریف ریاست پاکستان کو چیلنج کرنے کی جرت نہیں کرسکتا تھا۔
یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ اب دیکھنا ہوگا کہ ریاست پاکستان ملک کے خلاف سازش کرنے والوں کے خلاف کیا یکشن لیتی ہے؟
دہشت گرد تنظیموں کو استعمال کرکے مولانا فضل الرحمن پہلے ہی بے نقاب ہوچکے ہیں۔
اس میں اب کوئی دو رائے نہیں کہ مولانا قومی مفاد کے خلاف عالمی قوتوں کے آلہ کار بن چکے ہیں۔
مولانا پاکستان میں اس طرح کا ماحول پیدا کرنے کے لیے کام رہے جس سے ملک میں انتشار پھیلے۔

مولانا ملک کو کمزور کرکے دشمن کے لیے سازگار ماحول بنا رہے ہیں

مولانا پاکستان کو کمزور کرکے ارض وطن کے خلاف کسی مس انڈوینچر کے لیے سازگار حالات بنا رہے ہیں جس کا فائدہ دشمن کو ہوگا۔
مولانا کی اس سازش کا مقصد پاکستان میں ایسے حالات پیدا کرنے ہیں کہ موجودہ حکومت اپنی مدت پوری نہ کرسکے۔
اور ملک کو اس قدر کمزور کردیا جائے کہ ملک میں معاشی ایمرجنسی نافذ کرنے کی نوبت آجائے۔
اگر ملک میں ٹیکنوکریٹ نظام نافذ کیا گیا تو ملک تباہی کی طرف جائے گا اور اندورنی طور پر مزید کمزور ہوجائے گا۔
اس ساری صورت حال میں میری تجویز ہے کہ ریاست پاکستان کو ایسے تمام عناصر کو ختم کردینا چاہیے تاکہ ہمارے دشمن ان غداروں کو ریاست پاکستان کے خلاف استعمال نہ کرسکے۔

پاکستان زندہ باد
پاکستان آرمی زندہ باد
شہزادہ احسن اشرف شیخ


شیئر کریں: