پاکستان اور بھارت کی کسان تنظیموں میں کیا فرق ہے ؟

شیئر کریں:

عامر حسینی کی تحریر

ہمارے پڑوسی ملک ہندوستان میں کسانوں نے اپنے احتجاج کو کامیاب بنایا اور حکومت کو کسانوں کے خلاف بنائے جانے والے چار قوانین واپس لینے پہ مجبور کردیا اور مودی سرکار کو خاک میں ناک رگڑنے پہ مجبور کردیا۔ پنجاب کے کسانوں نے اس میں اہم ترین کردار ادا کیا۔

لیکن پاکستان میں کسانوں کی قیادت درمیانے اور بڑی ملکیت کے زمیندار اور کاشتکار کررہے ہیں جن میں سے اکثر خود مداخل زراعت اور کاٹن جننگ اینڈ پریسنگ ملوں، فلور ملوں، رائس ملوں، شوگر ملوں ، پیسٹی سائیڈز کمپنیوں ، غلّہ منڈی میں زرعی کارپوریشنوں کے مالک ہیں اور یہ پاکستان میں زراعت سے وابستہ ملٹ نیشنل اور نیشنل سیڈ کمپنیوں، کھاد بنانے والے کارخانہ داروں کے ساتھ کاروباری شراکت دار بنے ہوئے ہیں۔ پاکستان کی مسلح افواج کے ادارے خود بہت بڑے جاگیردار ، زراعت سے متعلق مینوفیکچرنگ سے جڑے ہوئے ہیں اور یہ بنیکنگ فنانس کے بھی مالک ہیں اور یہ کارپوریٹ سرمایہ داروں سے مل کر اس ملک کے کسانوں کو لوٹ رہے ہیں۔ پاکستان کی زرعی نوکر شاہی ، بنیکنگ سرمایہ دار اور ریاست کے تمام زرعی پالیسی ساز ادارے بڑی ملکیت کے جاگیردار جو زرعی سرمایہ دار بھی کے قبضے میں ہیں – پنجاب میں کسانوں کی اس وقت تنظیم پہ درمیانے طبقے کے ایسے کسان رہنماؤں کا کنٹرول ہے جو اوپر درج ہونے والے استحصیالی گروہوں کی نوکری کررہے ہیں ۔ جب جب غریب کسانوں نے پنجاب کے اندر ایجی ٹیشن، لانگ مارچ کا راستا اختیار کیا ، ان کی قیادت حکومتوں سے سمجھوتہ کرکے اس احتجاج کو منطقی انجام تک پہنچنے سے پہلے ہی واپس ہوگئی ۔

ماضی میں یہ کسان قیادت نواز لیگ کی پنجاب حکومت چلانے والے شہباز شریف کے تلوے چاٹتی رہی تو اب یہی قیادت پنجاب کی بزدار حکومت کے تلوے چاٹ رہی ہے ، یہ قیادت فخر امام جیسے زرعی سرمایہ داروں کی غلامی کرتی ہے تو کبھی اس قیادت کو بیرسٹر رضا حیات ھراج جیسے زرعی سرمایہ داروں کے ہاں عشائیوں میں شریک ہوتے دیکھا جاسکتا ہے۔ ہمی سب کو پتا ہے پنجاب کے یہ بڑے زرعی سرمایہ دار ، پنجاب اور وفاق کے وردی بے وردی بابوؤں کے ساتھ مل کر صدیوں سے پنجاب اور سرائیکی وسیب کی زمینیں کاشت کرنے والے کسانوں سے الاٹمنٹ کے نام پہ چھینتے رہے ہیں – پنجاب میں ریاست نے ان زرعی سرمایہ داروں کو پنجاب کے دیہی علاقوں میں ریاست کے اندر چھوٹے چھوٹے رجواڑے بناکر دے رکھے ہیں – انتخابی سیاست پہ بھی ان راجواڑوں میں دو سے تین زرعی سرمایہ داروں کی اجارہ داری ہے۔ پنجاب کی 60 سے زائد قومی اسمبلی کے حلقوں میں 200 سے 300 زرعی سرمایہ داروں میں باریاں لگتی ہیں اور یہ ان 200 سے 300 زرعی سرمایہ داروں میں سے جو 60 قومی اسمبلی کے اراکین قومی اسمبلی مں پہنچتے ہیں وہ عسکری اسٹبلشمنٹ جس کی ایک بڑی تعداد خود زرعی سرمایہ دار ہے کے اشاروں پہ مرکز میں اقتدار کا فیصلہ کرتے ہیں اور جمہوریت کو زرعی و کارپوریٹ سرمایہ داروں کی غلام بناتے ہیں جس کا کام محنت کشوں ، کسانوں ، دیہی و شہری غریبوں کا زبردست استحصال کرتے ہیں۔

جب تک چھوٹا کسان ، بے زمین کسان، کھیت مزدور اور شہری محنت کش طبقہ اپنی قیادت میں خود کو منظم نہیں کرتا ان کی کوئی تحریک کامیاب نہیں ہوسکتی ۔


شیئر کریں: