پاکستانی طلباء چینی ادویات صنعت کی ترقی کا راز جاننے کے لیے کوشاں

شیئر کریں:

نانچھانگ (شِنہوا) جیانگ شی یونیورسٹی آف چائنیز میڈیسن کے پاکستانی طالب علم فہد کبیر جب پہلی بار چین کے
مشرقی صوبے جیانگ شی کے شہر نانچھانگ کی جیانگ ژونگ فارماسیوٹیکل ویلی میں پہنچے تو وہ یہاں کے
خوبصورت قدرتی مناظر کے سحر میں کھوگئے تھے۔

فہد کا کہنا ہے کہ فیکٹری میں حیاتیاتی ماحولیات کا ایک وسیع سرسبز رقبہ ہے جہاں نانمواورچینی صنوبرجیسے دسیوں
ہزاروں قیمتی درختوں کی اقسام کے علاوہ خرگوش اوردریائی ہرنوں جیسے جنگلی جانوروں کی بہتات ہے اور یہ
علاقہ ایک خوبصورت واٹر پارک جیسا ہے۔

چائنہ ریسورسز جیانگ ژونگ فارماسیوٹیکل گروپ کمپنی (سی آرجیانگ ژونگ) پہلے جیانگ زونگ فارماسیوٹیکل فیکٹری کے نام سے معروف تھی۔ایک مینوفیکچرنگ اورتحقیقی ادارے کے طورپر، یہ ویلی کیا پیدا کرتی ہے اوریہ جگہ قدرتی ماحولیات اور جدید صنعت کا کامل امتزاج کیسے حاصل کرتی ہے؟ ان سوالات کے جوابات کے لیے فہد جیانگ شی میں چینی ادویات کی صنعت کی ترقی کو جاننے کے لیے کوشاں ہیں۔
سی آر جیانگ ژونگ کے اسٹاف کے ایک رکن ژانگ بی کے مطابق، جیانگ زونگ فارماسیوٹیکل ویلی کا صرف 20 فیصد صنعتی عمارتوں اور انفراسٹرکچر جبکہ 80 فیصد علاقہ قدرتی مناظرپر مشتمل ہے۔

جیانگ ژونگ نے جہاں کھلی جگہوں کوسرسبز بنایا ہے وہیں اس نے کئی ایک ماحول دوست اقدامات اٹھائے ہیں۔2015 میں، جیانگ ژونگ فارماسیوٹیکل ویلی نے کوئلے سے چلنے والے بوائلرز کو بند کرکے سب سے پہلے ا ن کی جگہ گیس سے چلنے والےبوائلرزمتعارف کرائے ۔ یومیہ 3ہزارٹن سیوریج ٹریٹمنٹ کی استعداد کے ساتھ گندے پانی کوماحول دوست پانی میں تبدیل کیا ۔ 60فیصد توانائی کی بچت کے ساتھ ٹی سی ایم کی ایکسٹریکشن اور پیداوار کا ایک شعبہ بنایا۔اس کے علاوہ “ڈیڈسٹنگ ” کے منفرد طریقے سےایئر کوالٹی کو معیاری ضروریات کے مطابق بنایا گیا۔
جیانگ زونگ فارماسیوٹیکل ویلی کےمینیجر ژونگ ژی جیان کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹائزیشن اور ذہانت سے فیکٹری توانائی کی زیادہ بچت کررہی ہے۔ ثابت کیا گیا ہے کہ ہم نے صنعتی ترقی کے لیے ماحول کو تباہ نہیں کیا، اس کے برعکس، ہم نے صنعتی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے نامیاتی اتحاد کو حاصل کیا۔
فہد نے کہا کہ مینوفیکچرنگ اداروں کے لیے موثر پیداوار اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنا مشکل ہے۔ ایک روایتی چینی ادویات بنانے والے ادارے کے طور پر سی آر جیانگ ژونگ ماحول دوست ترقی کے تصور پر کاربند ہیں اور ہمیشہ سائنسی اور تکنیکی جدت اور ذہین ڈرائیو پر انحصار کرتے ہوئے ترقی کی تیز رفتار راہ پر گامزن ہیں۔
2016 میں چینی طب کی جیانگشی یونیورسٹی کے پاکستانی استاد کو چین اور پاکستان کے درمیان روایتی ادویات میں تعاون کے لیے ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔
پاکستان اور چین کے درمیان روایتی ادویات کے شعبہ میں وسیع تعاون موجود ہے، اگرچہ ٹی سی ایم پاکستان میں بھی مقبول ہے تاہم پاکستان کو چینی ادویاتی مواد کی کمی کا بھی سامنا ہے، اس لیے اس شعبے میں چین اور پاکستان کے درمیان مستقبل میں تعاون کے بہت وسیع امکانات پائے جاتے ہیں۔


شیئر کریں: