پاکستانی طالب علم اے آئی طبی تشخیص سے متاثر

نان چھانگ(شِنہوا) مریض کی زبان اسکین کرنے کے بعد کیپسول نما ایک “اے آئی ڈاکٹر” ڈیٹا کو کلاؤڈ پر اپ لوڈ کرے گا۔
نسخہ جاری ہونے کے بعد آٹو ڈیکوکشن مشین مریضوں کے لیے جڑی بوٹیوں کی ادویات کو موثر اور سائنسی طریقے سے تیار کرنے
میں مدد کرے گی تاکہ موثر علاج کو یقینی بنایا جا سکے۔
چین کے صوبے جیانگشی میں شنگھائی تعاون تنظیم فورم 2023 میں روایتی ادویات سے متعلق جاری نمائش کے دوران شرکا
جدید ٹیکنالوجی اور روایتی ادویات کے امتزاج میں خصوصی دلچسپی کا اظہار کررہے ہیں۔
روایتی چینی ادویات کا علم حاصل کرنے والے ایک پاکستانی طالب علم فہد کبیر نے کہا کہ اپ لوڈ کردہ بگ ڈیٹا کی مدد سے میری
نبض کی رفتار خود بخود پلس ڈی ٹیکٹر کے ذریعے معلوم کی جاسکتی ہے ‘اے آئی ڈاکٹر’ بہتر تشخیص اور علاج میں مدد کرسکتا ہے۔”
جدید ٹیکنالوجی روایتی ادویات کو مزید “ذہین” بننے میں کس طرح مدد کرتی ہےیہ جاننا انتہائی دلچسپ ہے۔

موثر اور آسان طبی علاج کا تجربہ کرتے ہوئے، فہد کو ٹریسنگ سسٹم کا بھی علم ہے جو ادویات کے مواد کی حفاظت کی ضمانت دیتا
ہے۔ روایتی چینی میڈیسن سائنس ٹیک انوویشن سٹی کے اسٹاف ورکر زینگ جی نے کہا کہ ڈاکٹرز کی تجویز کردہ جڑی بوٹیاں ڈیجیٹل
مینجمنٹ پلیٹ فارم پر تلاش کی جا سکتی ہیں۔
پاکستان کے ڈپٹی سیکریٹری صحت رحمان شاہ نے شِنہوا کو بتایا کہ روایتی ادویات پر شنگھائی تعاون تنظیم فورم میں دنیا میں روایتی ادویات
کو فروغ دینے کا پلیٹ فارم قائم کیا ہے۔ چین اور پاکستان کے درمیان روایتی ادویات کے شعبے میں تعاون کے وسیع امکانات ہیں۔
رحمان شاہ کے مطابق مستقبل میں زیادہ سے زیادہ پاکستانی طلباء روایتی چینی ادویات سیکھنے کے لیے چین آئیں گے۔