پاکستانی سفارتی مشن کی نااہلی سے اسپین میں 4 میتیں ڈیڑھ ماہ بعد بھی سپردخاک نہ کی جاسکیں

شیئر کریں:

اسپین کے شہر بارسلونا کے تیتوان اسکوائر میں آگ لگنے سے پاکستانی انصر اقبال، اس کی رومانین بیوی، 3 سالہ ارسلان اور 4 ماہ کی معصوم زہرہ سمیت چار افراد جل کر جان کی بازی ہار بیٹھے۔ایک ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود منڈی بہاؤالدین کے گائوں چورنڈ،تحصیل پھالیہ سے تعلق رکھنے والے 40 سالہ انصر اقبال ان کی اہلیہ اور بچوں کی میتیں پاکستان نہیں بھجوائی جا سکیں۔بارسلونا میں یہ حادثہ خالی بینک کے پرانے دفتر میں پیش آیا جہاں یہ خاندان دو  سال سے مقیم تھا۔

آتشزدگی کا افسوسناک واقعہ منگل،30 نومبر کی صبح 5:50 پر پیش آیا۔ اسی روز شام کو اس واقعہ پر مقامی لوگوں نے پلاسا تیتوان میں بلدیہ بارسلونا کے خلاف مظاہرہ کیا۔مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ہر شہری کے پاس گھر ہونا اس کا بنیادی حق ہے۔بارسلونا میں کوڈ 19 کے بعد گھروں کے کرایہ اور قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔گورنمنٹ اگر لوگوں کو سستے گھر فراہم کرے تو اس قسم کے حادثات رونما نہ ہوں۔
بارسلونا میں مقیم پاکستانیوں پر یہ سانحہ تو گزر گیا لیکن پاکستان سفارتی مشن کی لاپرواہی اور عدم دلچسپی کی وجہ سے چاروں میتیں تاحال سرد خانے میں رکھی ہوئی ہیں کیونکہ انصر اقبال کے اہل خانہ تدفین کے لیے میتیں منڈی بہاؤالدین لانا چاہتے ہیں۔ اس سارے عمل میں پاکستانی سفارتی مشن کا کردار اہم ہوا کرتا ہے۔
ایک ماہ سے زیادہ وقت گزر جانے کے باوجود قونصل خانہ اور سفارت خانہ کی کوتاہی اور فنگرز پرنٹس وقت پر نہ ملنے کی وجہ سے میتیں پاکستان بھجوائی نہیں جا سکیں۔
انصر اقبال کے بھائی نے وزیراعظم پاکستان اور دفتر خارجہ سے اپیل کی ہے کہ خدارا میتیں پہنچانے میں حائل رکاوٹیں دور کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اسپین میں پاکستانی کمیونیٹی نے سفارتی مشن کی کارکردگی کی پرزور الفاظ میں مزمت ہے۔ ان کا کہنا قونصلیٹ اور سفارت خانہ کا بنیادی کام اپنے شہریوں کی مدد کرنا ہے لیکن ان کا عملہ مدد تو درکنار وہ مزید پریشان کرنے میں مصروف ہے۔


شیئر کریں: