بھارت میں الیکشن جیت پر پاکستانی خاتون اہم فیصلے کرتی رہی، مودی سرکار بے خبر

شیئر کریں:

پاکستانی خاتون نے بھارتی حکومت کو چکرا کر رکھ دیا
بھارت کی ریاست اترپردیش میں ایک پاکستانی خاتون ایک گاﺅں کی سرپنچ بن گئی
65سالہ خاتون کانام بانو بیگم ہے جو کراچی کی رہائشی تھی۔
خاتون 35سال قبل بھارتی ریاست اترپردیش کے ضلع ایٹا میں اپنے
ایک رشتہ دار کی شادی میں شرکت کے لیے گئی اور پھر کبھی واپس پاکستان نہیں آئی۔

بھارت پاکستان کو جنگ میں کبھی شکست نہیں دے سکتا

اس نے وہیں ایک مقامی شخص کے ساتھ شادی بھی کر لی اور اپنے ویزے کی مدت بڑھواتی رہی اور وہیں مقیم رہی۔
اس نے کئی بار بھارتی شہریت کے لیے درخواست دی لیکن اسے شہریت نہیں دی گئی
تاہم کسی طرح اس نے بھارت کا آدھار کارڈ، ووٹر آئی ڈی اور دیگر شناختی دستاویزات بنوا لیں۔
ان دستاویزات پر بانو بیگم نے گواڈاﺅ گاﺅں کی گرام پنچایت کے الیکشن میں حصہ لیا اور پنچایت کی رکن منتخب ہو گئی۔
گزشتہ سال جنوری میں گاﺅں کی سرپنچ شہناز بیگم کی موت ہو جانے پر بانو بیگم کو قائم مقام سرپنچ بنا دیا گیا۔

طویل عرصہ بعد بھارت کا مسافر جہاز پاکستان میں لینڈ کر گیا

چند ماہ تک وہ سرپنچ کے عہدے پر فائز رہی جس کے بعد ایک مقامی شخص نے اس کے خلاف درخواست دے دی
درخواست میں کہا گیا کہ وہ خاتون پاکستانی ہے اور اس عہدے پر فائز نہیں ہو سکتی۔
ڈسٹرکٹ پنچایتی راج آفیسر نے اس کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا
الزام درست ثابت ہونے پر اسے عہدے سے ہٹا کر اس کے خلاف ایف آئی آر کٹوا دی۔
بانو بیگم کے خلاف اس معاملے میں بھی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں
کہ اس نے آدھار کارڈ اور دیگر دستاویزات کیسے حاصل کیں، حالانکہ وہ بھارتی شہری نہیں تھی۔


شیئر کریں: