پاکستان، اسرائیل اور افغانستان عالمی طاقت کی وجہ کا مرکز

شیئر کریں:

تحریر: ندیم رضا

کورونا اور ڈوبتی معیشت سے تباہ حال امریکا دنیا کے مختلف ممالک سے اپنی فوجیں نکالنے کے لیے پر تولنے لگا۔
مشرق وسطی میں خون اور آگ کا کھیل کھیلنے والے امریکا نے عراق کے ایک اور فوجی اڈے تاجی بیس سے چپکے چیکے اپنی افواج وآپس بلا لی ہیں۔
رواں ماہ میں یہ اٹھواں فوجی اڈا ہے جو امریکی افواج نے خالی کیا ہے۔
جنوبی بغداد میں اس فوجی اڈے پر اتحادی افواج کے دوہزار سے زائد فوجی تعینات تھے۔
امریکا نے فوجی اڈا باضابطہ طور پر خالی کر کے عراقی فوج کے حوالے کردیا ہے۔
یہ وہی فوجی اڈا ہے جس پر ایران کئی بار میزائل حملے کر چکا ہے۔

امریکا افغانستان اور مشرق وسطی کو جنگ کی آگ میں ڈال کر کیوں افواج کا انخلا کر رہا ہے؟ امریکا کی جنگوں کی وجہ سے جنوبی ایشیا اور مشرق وسطی میں کتنے شہری لقمہ اجل بنے؟ جانیے سینئر تجزیہ کار ندیم رضا سے

ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد ایران نے اسی فوجی اڈے پر بڑا میزائل حملہ کیا تھا۔
امریکا عراق میں کیمیکل ہتھیاروں کی موجودگی کا بے بنیاد پراپگنڈا کرکے داخل ہوا۔
صدام حسین کا تختہ الٹنے کے بعد امریکی افواج عراق میں داعش کے خلاف جنگ کے نام پر قابض رہیں۔
امریکی افواج نے عراق، لیبیا، شام اور مشرق وسطی کے دیگر ممالک میں کئی محاذ کھول رکھے تھے۔
امریکا مشرق وسطی میں امن قائم کرنے کے نعرے کے ساتھ آیا لیکن دنیا کی سپر پاور نے خطے کو پراکسی جنگوں کے لیے استعمال کیا۔
خطے میں امریکی مداخلت کے بعد مشرق وسطی کے کئی ممالک خانہ جنگی کا شکار ہوگئے۔
جنگوں اور بھوک افلاس کی وجہ گزشہ ایک دہائی میں لاکھوں معصوم لوگ لقمہ اجل بن گئے۔
لاکھوں لوگوں کو مروا کر امریکا ایسی صورت حال میں خطے سے رسوا ہو کر نکل رہا ہے جب خطہ امریکی پالسیوں کی وجہ سے خانہ جنگی کا شکار ہے۔
دوسری طرف امریکا نے افغانستان سے انخلا کی کوششیں بھی تیز کردی ہیں۔
امریکا کی کوشش ہے کہ صدارتی انتخابات سے قبل افغانستان سے فوجیں وآپس بلا لی جائیں۔
امریکا کے افغانستان کے انخلا کے معاملہ پر طالبان سے تو معاملات طے پاگئے تھے مگر اب افغانستان کی اندرونی صورت حال آڑھے آگئی ہے۔
طالبان اور افغان حکومت ایک میز پر بیٹھنے کو تیار نہیں۔
طالبان تو افغان حکومت کی قانونی حیثیت کو بھی تسلیم نہیں کر رہے۔
اس ساری صورت حال کے بعد امریکا کو ایک بار پھر پاکستان سے مدد طلب کرنی پڑی۔
ماضی میں بھارت کو خطے کا چوکیدار بنانے خواہاں امریکا ایک بار پاکستان کے دروازے پر آکھڑا ہوا۔
وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی دعوت پر افغان طالبان کے وفد کا دورہ پاکستان بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔
امریکا کی درخواست پر پاکستان اب انٹرا افغان مذاکرات کے لیے اپنا کردار ادا کررہا ہے۔
ملا برادران کی سربراہی میں طالبان وفد کا دورہ اسلام آباد انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
افغان عمل کا مستقبل یہ اہم دورہ طے کرے گا۔
پاکستان افغان طالبان پر اثر و رسوخ رکھنا ہے اور افغان طالبان پاکستان کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
افغان طالبان کے دورہ پاکستان پر اسلام آباد طالبان کو منانے کی کوشش کرے گا کہ وہ موجوہ افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کے میز پر بیٹھنے کو تیار ہوجائیں۔
دراصل امریکا کی افغانستان میں مداخلت کے بعد اقتدار کا مزے لوٹنے والی افغان حکومت اب اپنی گردن بچانے کے کوشاں ہے۔
افغان انتظامیہ کو معلوم ہے کہ امریکا کے انخلا کے بعد وہ مکمل طور پر طالبان کے رحم و کرم پر رہ جائیں گے۔
دوسری طرف طالبان افغان حکومت کا وجود بھی تسلیم نہیں کرتے کیوں کہ ابھی بھی افغانستان کے زیادہ تر حصے پر طالبان کا ہی کنٹرول ہے۔
امریکا کی درخواست پر پاکستان کوشش کررہا ہے کہ افغانستان کے اندورنی معاملات احسن طریقے سے سرانجام پاجائیں۔
امریکا کا افغانستان سے انخلا اس وقت ہی ممکن ہوپائے گا جب انٹرا افغان مذاکرات شروع ہوں اور کسی ایک نقطے پر تمام معاملات احسن طریقے سے سرانجام پاجائیں۔
عراق کی طرح افغانستان سے بھی امریکی افواج کے بعد کچھ سوال جو تاریخ میں ہمیشہ برقرار رہیں گے۔
کیا امریکا نے افغانستان اور عراق میں اپنے اہداف حاصل کرلیے؟
کیا دونوں ممالک میں دہشت گردی ختم ہوگئی؟
امریکی مداخلت کے بعد جنگوں کی وجہ سے لقمہ اجل بننے والے لاکھوں معصوم لوگوں کی جانوں کا حساب کون دے گا؟
مشرق وسطی اور جنوبی ایشیا میں مسلط کی گئی جنگوں کی وجہ سے معاشی نقصان کا ازالہ کون کرے گا؟
کیا اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے ان جنگوں کی وجہ سے ہونے والے جانی و مالی نقصان کی تحقیقات کریں گی اور امریکا کو انصاف کے کٹھرے میں لائیں گی یا سب قانون صرف کمزور ممالک پر لاگو ہوتے ہیں؟


شیئر کریں: