ٹیکنالوجی “5 جی” کورونا کی وجہ قرار، برطانوی انجینئیرز کو خطرہ

شیئر کریں:

فائیو جی ٹیکنالوجی پر کام کرنے والے برطانوی انجینئیرز کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔

دنیا بھر میں تباہی مچا دینے والے کورونا وائرس کے پھیلنے کی بڑی وجہ فائیو جی ٹیکنالوجی قرار دینے والے شہریوں نے ٹیلی کام انجنئیرز کو اس ٹیکنالوجی پر کام کرنے پر دھمکیاں دینا شروع کردی ہیں۔
درجنوں ٹیلی کام انجینئیرز نے برطانوی پولیس کو شکایت کی ہے کہ ان کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔
انجینئیرز کا کہنا ہے کہ برطانیہ بھر میں انہیں کام سے روکا جارہا ہے اور ان پر شہریوں کے حملوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔
کئی انجینئیرز نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ شہری ان پر انڈے، پتھر اور دیگر اشیا پھینکتے ہیں، ان پر طرح طرح کے جملے بھی کسے جاتے ہیں۔
ٹیلی کام کے لیے کام کرنے والے کئی برطانوی انجینئیرز کا کہنا ہے کہ شہری فائیو جی ٹاورز کو موت کے ٹاور قرار دیے جارہے ہیں۔
شہری سمجھتے ہیں کہ فائیو جی ٹیکنالوجی کی وجہ سے دنیا بھر میں کورونا وائرس پھیل رہا ہے۔
ادھر برطانوی ہوم لینڈ ڈیپارٹمنٹ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ فائیو جی ٹیکنالوجی کی تنصیب پر کام کرنے والے انجینیئرز کو براہ راست دھمکیاں دی جارہی ہیں اور ان پر حملوں کا کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔
سائنس دانوں نے کورونا وائرس کے پھیلاو میں فائیو جی ٹیکنالوجی کے کردار کو یکسر مسترد کردیا ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ فائیو جی ٹیکنالوجی اور کورونا وائرس کے بارے میں نظریہ بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہے۔
اس سے پہلے دنیا بھر میں قیاس آرائیوں اور خود ساختہ تھیوریز پیش کی جارہی تھیں کہ چین کے شہر ووہان میں سب سے پہلے فائیو جی ٹیکنالوجی کا تجربہ کیا گیا جس کی وجہ کورونا وائرس وجود میں آیا۔
جو جو ممالک فائیو جی ٹیکنالوجی پر سسٹم اپ گریڈ کر رہے ہیں وہ ممالک کورونا وائرس کا شکار ہو رہے ہیں۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ٹیلی کام ٹیکنالوجی اور حیاتیات کا آپسی تعلق قابل فہم نہیں۔


شیئر کریں: